کچھ بنیادی استعارے دستیاب ہیں جن کی مدد سے کسی حد تک جانچ ممکن ہوسکتی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
کہیں ریڈ لائن کھینچی جا رہی ہے تو کہیں ڈیڈ لائن دی جا رہی ہے۔ کوئی نئے صوبوں کے حق میں مذاکرے اور مباحثے کروا رہا ہے تو کوئی صوبائی اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت میں قرارداد۔
کوئی اس کڑمس میں سیاسی سپیس ڈھونڈ رہا ہے تو کوئی خامشی اختیار کیے کسی اور کے کندھوں پر بندوق رکھے اپنی بچت کا طلب گار۔ عجب سیاست کے عجب چلن ہیں اور تصویر ہے کہ خاکوں پر مبنی، رنگ نہ ڈھنگ۔ اگر مگر چونکہ چنانچہ کے بیچ غیر یقینی کی سی صورتحال پنپ رہی ہے۔
جڑواں شہروں کے ڈرائنگ روم اور بیٹھکوں میں نت نئی کلا کا راگ الاپا جا رہا ہے۔ جس کے ہاتھ جو سُر لگتا ہے وہ اسی پر دھن تشکیل دے کر پوری غزل گا نکلتا ہے۔ رہ گئی نکمی صحافت تو وہ بیچاری بدلتے بیانیے اور بدلتے رنگوں کا تاثر لیے آکسیجن کشید کرنے کی کوشش میں ہے کہ اس کے ہاں سیزن اہم ہوتا ہے، سیزن لگ جائے تو چھ ماہ سال بھر پور گزر جاتے ہیں وگرنہ پینڈا اوکھا ہو جاتا ہے۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کہانی شروع کہاں سے ہوئی اور اس کا انت کیا ہوگا؟ کچھ بنیادی استعارے دستیاب ہیں، ان کی مدد سے کسی حد تک جانچ ممکن ہوسکتی ہے، مثلاً آئین پاکستان کا آرٹیکل 144 اے کہتا ہے: ’یہ ہر صوبے کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کے ذریعے ایک بلدیاتی نظام قائم کرے، صوبائی حکومتوں پر لازم ہے کہ وہ سیاسی ، انتظامی و مالیاتی اختیارات منتخب نمائندوں کو منتقل کریں۔‘
یہ آرٹیکل پڑھنے میں کس قدر خوبصورت اور جمہوری معلوم ہوتا ہے۔ اس کی روح عوامی اور بلدیاتی نظام کی بھرپور تائید کرتی نظر آتی ہے۔ لیکن رکیے! اس جان سے روح نکال لی گئی۔ کیوں کہ اسی آرٹیکل میں انتظامی سیاسی اور مالیاتی اختیارات بارے متعین شدہ ضابطہ نہیں رکھا گیا۔ یہیں سے سیاسی جماعتوں نے چھوٹ لینا شروع کی۔ من مرضی کے بلدیاتی نظام متعارف کروائے گئے۔ مقامی حکومتوں کے اختیارات اس حد تک کم کر دئیے گئے کہ اس آرٹیکل کی روح تک مرجھا گئی۔
ظاہر ہے موروثیت کی داعی جماعتوں کو نئی قیادت کہاں بھاتی ہے، وہ جماعتیں جن کے اپنے اندر جمہوریت نہیں وہ بھلا کاہے کو عوام کو جمہوری اور مقامی نمائندے دیں گی؟ تصویر تو ایک ہونی چاہیے، درجنوں میئرز کی کیونکر اچھی لگیں گی۔
کیا ہی بہتر ہوتا کہ اگر اسی نظام کے ان دو نکات کی بھی مزید تشریح ہوجاتی اور مالیاتی معاملات کے لیے این ایف سی میں تیسری پرت بھی رکھ دی جاتی۔ مگر ایسا نہ ہوسکا۔ جو ہوا اس سب کے برعکس ہوا اور مسلسل ہوتا رہا کیوں کہ اس آرٹیکل کی تفصیلات صوبائی قوانین پر منحصر ہیں، جس کے باعث بلدیاتی اداروں کی مدت اور اختیارات میں بار بار تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔ ناقدین یہ مانتے ہیں کہ موجودہ شکل میں یہ آرٹیکل ناکافی ہے کیونکہ یہ صوبائی حکومتوں کو مقامی نظام ختم کرنے کا اختیار دیتا ہے، جس سے جمہوریت کی جڑیں کمزور ہوتی ہیں۔
اب جب بلدیات نامی نظام کاغذی کارروائی بن کر رہ گیا اور مالیاتی تقسیم پر اعتراضات اٹھنے شروع ہو گئے تو نظر آیا کہ سسٹم ہی ڈلیور نہیں کر پا رہا، اس کا اظہار گذشتہ ماہ وزیر داخلہ نے برملا کیا، یوں کیا کہ اب تک ارتعاش محسوس کیا جا رہا ہے۔ بات یہاں رکی نہیں بلکہ یہاں سے شروع ہوئی۔ ظاہر ہے بات نکل جائے تو پھر رکتی کہاں ہے۔ مقامی حکومتوں کے ساتھ ہوا ہاتھ پیچھے رہ گیا اور نیا ہاتھ دکھا دیا گیا۔ اس ہاتھ میں نئے صوبوں کا قیام یا انتظامی یونٹس کی لکیریں کھنچی ہوئی تھیں۔
نئے صوبوں کے قیام کے لیے مدعا 239 چار پر آن ٹکِتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
لیکن کچھ لکیریں ایسی ہیں جو ہتھیلی سے افقی رخ اختیار کیے مشتری کے ابھار یعنی انگشت شہادت کی جانب سیدھی تو بڑھ رہی ہیں لیکن مسئلہ کچھ یوں بھی ہے کہ یہ لکیریں دل اور دماغ کی مرکزی لکیروں کے قریب جا کر دو شاخہ یا سہ شاخہ ہو رہی ہیں۔ اب دیکھیے کہ لکیروں کا یہ ملاپ افقی سمت میں رہتا ہے یہ مزید شاخوں میں بکھرتا ہے۔
نئے صوبوں کے قیام کے لیے مدعا 239 چار پر آن ٹکِتا ہے۔ پارلیمان کی دو تہائی اور پھر ہر صوبے سے بھی دو تہائی اکثریت ملے تو نئے صوبے کا قیام عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ اسی کو بھانپتے ہوئے پہلے سندھ اسمبلی نے انگڑائی لی اور پھر ماضی میں نئے صوبوں کی حامی رہی تحریک انصاف نے بھی ناں کر دی۔ مولانا پہلے ہی سی رنجیدہ ہیں۔ اب تو رنجیدگی سنجیدہ ترین شکوں پر آن پہنچی ہے۔
آئینی پیچیدگیوں کو سلجھانے والے پیرزادے ظاہر ہے ہر دور میں دستیاب ہوتے ہیں، انہی کے کارن 48 بٹا چھ کی سمجھ آئی۔ یعنی آئین کا آرٹیکل 48 اور اس کی شق چھ۔ جو کسی اہم مدعے پر ریفرنڈم کروانے کا طریقہ کار فراہم کرتی ہے۔ خیال ہے کہ ریفرنڈم کے ذریعے عوامی رائے لی جائے کہ وہ ملک میں نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حق میں ہیں یا نہیں۔
لیکن کیا یہ رائے 239 چار پر مقدم ٹھہرے گی؟ مدعا اب یہاں پھنسا ہوا ہے۔ سننے میں آ رہا ہے کہ چونکہ ریفرنڈم بھی آئین کے ایک آرٹیکل کے تحت ہوتا ہے اور نئے صوبوں کے قیام کے لیے دو تہائی کی شرط بھی 239 یعنی آئین سے ہی ہے۔ تو پھر اس مدعے پر آئینی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جا سکتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا تھا کہ صوبے کی تقسیم سے متعلق اقدام ایوان کی مرضی کے بنا ممکن ہی نہیں۔
بقول شوق قدوائی
یہ دل کی بات ہی منہ سے ادا نہیں ہوتی
میں کیا کہوں کہ یہاں بار بار کیوں آیا