لاہور: ٹک ٹاکر ارشم مقصود کی لاش ملنے کے چھ روز بعد مقدمہ درج، سابق شوہر سمیت دو افراد گرفتار
لاہور: ٹک ٹاکر ارشم مقصود کی لاش ملنے کے چھ روز بعد مقدمہ درج، سابق شوہر سمیت دو افراد گرفتار
بدھ 9 ستمبر 2026 12:28
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز، لاہور
لاش ملنے کے بعد پولیس نے ابتدائی طور پر واقعے کو خودکشی قرار دیا تھا (فوٹو: روئٹرز)
لاہور میں چار ستمبر کو اسلام پورہ کے علاقے میں واقع ایک فلیٹ سے ٹک ٹاکر اور بیوٹیشن ارشم مقصود کی پھندا لگی لاش برآمد ہوئی تھی جسے ابتدائی طور پر پولیس نے خودکشی قرار دیا تھا۔
تاہم اب چھ روز بعد مقتولہ کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ پولیس نے نامزد ملزم اور ارشم کے سابق شوہر اکرم سمیت دو افراد کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔
پولیس نے تھانہ اسلام پورہ میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس وقت یہ حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ ارشم نے خودکشی کی یا انہیں قتل کیا گیا۔ تفتیش میں دونوں امکانات کو سامنے رکھا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق ارشم مقصود کی لاش چار ستمبر کو اسلام پورہ میں واقع اس کے فلیٹ سے پھندا لگی حالت میں برآمد ہوئی تھی۔
واقعے کے فوری بعد بظاہر معاملہ خودکشی کا معلوم ہوا تھا جس پر پولیس نے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کی۔
تاہم بعدازاں مقتولہ کے والد کی جانب سے دی گئی درخواست اور سامنے آنے والے دیگر شواہد کی بنیاد پر پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ زیر حراست افراد کے واقعے میں ممکنہ کردار کا تعین شواہد کی روشنی میں کیا جا رہا ہے اور تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ارشم مقصود کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی موصول ہو چکی ہے اور اسے تفتیش کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ، جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد اور دیگر حقائق کی روشنی میں تحقیقات آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔
ارشم مقصود کی پھندہ لگی لاش چار ستمبر کو اسلام پورہ میں واقع ایک فلیٹ سے برآمد ہوئی تھی (فوٹو: سوشل میڈیا)
ایف آئی آر میں کیا ہے؟
تھانہ اسلام پورہ میں درج مقدمے میں مقتولہ کے والد نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی بیٹی ارشم مقصود نے اکرم نامی شخص سے پسند کی شادی کی تھی۔ اکرم اس اکیڈمی میں ٹیچر تھا جہاں ارشم پڑھتی تھی اور وہ پہلے سے شادی شدہ تھا۔
والد کے مطابق جب انہیں بیٹی کی شادی کا علم ہوا تو ستمبر 2025 میں ارشم رخصت شوہر کے ساتھ اس کے گھر چلی گئی تھی، اکرم نے ارشم کو بتایا تھا کہ اس کی پہلی بیوی سے طلاق ہو چکی ہے تاہم بعد میں گھریلو معاملات میں مسائل پیدا ہوتے رہے۔
مقدمے کے متن کے مطابق ’ارشم کے والد نے اپنی بیٹی کے لیے اپنے گھر کے قریب فلیٹ لے کر دیا تھا تاکہ وہ والدین کے قریب رہ سکے۔ والد کا الزام ہے کہ ارشم اور اکرم کے درمیان ناچاقی رہتی تھی اور اکرم کی سابقہ اہلیہ بھی ارشم کو مبینہ طور پر پریشان کرتی رہی۔‘
ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 3 اگست کو ارشم ان کے گھر آئی تھی اور وہ اپنے گھریلو معاملات کی وجہ سے پریشان تھی، اس کو حوصلہ دیا اور وہ رات تقریباً ساڑھے 9 بجے اکرم کے پاس اپنے فلیٹ چلی گئی۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اس کے بعد والد کو اطلاع ملی کہ ان کی بیٹی کے فلیٹ سے بدبو آ رہی ہے اور انہیں فوری طور پر وہاں پہنچنے کے لیے کہا گیا۔
والد کا کہنا ہے کہ ’میں اپنے ایک دوست کے ہمراہ تقریباً 15 منٹ میں فلیٹ پہنچا تو معلوم ہوا کہ ارشم کی موت ہو چکی تھی۔‘
پولیس نے ارشم مقصود کے سابق شوہر اکرم سمیت دو افراد کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے (فوٹو: لاہور پولیس)
والد نے ایف آئی آر میں الزام عائدکی ہے کہ اکرم نے ان کی بیٹی کو قتل کیا اور واقعے کے بعد فرار ہو گیا تھا۔ انہوں نے نے پولیس سے استدعا کی کہ ان کی بیٹی کو مبینہ طور پر جھانسے میں لا کر شادی کرنے، اسے پریشان اور ہراساں کرنے اور پھر قتل کرنے کے معاملے کی تحقیقات کی جائیں۔
پولیس کا ابتدائی مؤقف کیا تھا؟
چونکہ خاتون کی لاش فلیٹ میں پھندے سے لٹکی ہوئی ملی تھی اس لیے واقعے کے ابتدائی مرحلے میں پولیس نے ارشم مقصود کی موت کو بظاہر خودکشی قرار دیا تھا تاہم پولیس نے بعد میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ تمام امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے تحقیقات جاری رکھی گئیں۔ مقتولہ کے والد کی جانب سے قتل کا الزام عائد کیے جانے اور مقدمہ درج ہونے کے بعد تحقیقات کا رخ تبدیل ہوا اور دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔
ارشم مقصود کون تھیں؟
ارشم مقصود بیوٹیشن کے طور پر کام کرتی تھیں اور سوشل میڈیا پر بھی سرگرم تھیں۔ ان کی ٹک ٹاک ویڈیوز سوشل میڈیا پر موجود ہیں جبکہ وہ اپنے
اپنے کاروبار کو بھی آن لائن فروغ دے رہی تھیں، انہوں نے کپڑوں کی فروخت کا کام شروع کیا تھا اور انسٹاگرام پر Vesti by Arsh کے نام سے پیج بھی بنایا ہوا تھا جہاں وہ کپڑوں سے متعلق مواد شیئر کیا کرتی تھیں۔