پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان جاری تین ٹیسٹ میچوں پر مشتمل ٹیسٹ سیریز کے آخری میچ کے پہلے دن کے کھیل کا اختتام ہو گیا ہے۔
بدھ کو برمنگھم میں پہلے دن کے کھیل کے اختتام پر انگلینڈ نے چار وکٹوں کے نقصان پر 156 رنز بنا کر پاکستان پر 23 رنز کی برتری حاصل کر لی ہے۔
انگلینڈ کی جانب سے ہیری بروک 52 اور ڈین لارنس پانچ رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ ہیں۔
مزید پڑھیں
-
لارڈز ٹیسٹ: بارش پھر آ گئی، انگلینڈ کی مجموعی برتری 279 رنزNode ID: 907956
-
لارڈز ٹیسٹ: پاکستان کو 194 رنز سے شکست، بیٹنگ لائن پھر ناکامNode ID: 907977
اس سے قبل اپنی پہلی اننگز میں پاکستان کی پوری ٹیم 33.3 اوورز میں 133 رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی تھی۔
پاکستان کی جانب سے آٹھ کھلاڑی ڈبل فیگر میں داخل نہ ہو سکے۔
اس سے قبل انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پاکستان کے خلاف بولنگ کا فیصلہ کیا تھا۔
انگلینڈ کی اننگز
انگلینڈ کی جانب سے ایمیلیو گے نے 114 گیندوں پر 60 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی، جس میں نو چوکے بھی شامل تھے، جبکہ ہیری بروک 52 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ دونوں نے اہم 105 رنز کی شراکت قائم کرکے انگلینڈ کو ابتدائی مشکلات سے نکالا۔
انگلینڈ کو ابتدا میں بین ڈکٹ کی 11 رنز پر وکٹ گنوانا پڑی، جس کے بعد جارڈن کاکس چار اور کپتان جو روٹ آٹھ رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ تاہم ایمیلیو گے اور ہیری بروک نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اننگز کو سنبھالا۔ دن کے اختتام پر ڈین لارنس پانچ رنز کے ساتھ بروک کا ساتھ دے رہے تھے۔
پاکستان کی جانب سے ڈیبیو کرنے والے رضاأ اللہ نے متاثر کن بولنگ کرتے ہوئے 42 رنز کے عوض دو وکٹیں حاصل کیں۔ محمد عباس اور محمد علی نے بھی ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
پاکستان کی اننگز
پاکستانی بیٹرز انگلینڈ کے خلاف سیریز کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں ’تو چل میں آیا کی مصداق‘ آتے اور آؤٹ ہوتے رہے۔
سعود شکیل 43 رنز کے ساتھ ٹاپ سکورر رہے جبکہ رضا اللّٰہ 11 رنز بناکر میدان چھوڑ گئے۔
اوپنر صائم ایوب صفر، اذان اویس نو، عبداللّٰہ شفیق تین، شان مسعود پانچ، کپتان بابر اعظم سات، غازی غوری چار اور محمد عمران پانچ رنز بناکر پویلین لوٹے۔
انگلینڈ کی جانب سے جوش ٹنگ چار وکٹیں لے کر نمایاں بولر رہے جبکہ اولی روبنسن اور جوفرا آرچر نے تین، تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
پاکستان کے سکواڈ میں تبدیلی
انگلینڈ کے خلاف میچ میں پاکستان کے تین کھلاڑیوں نے ڈیبیو کیا ہے۔ غازی غوری، رضا اللہ اور عمران رندھاوا کو پلیئنگ الیون کا حصہ بنایا گیا ہے۔
غازی غوری کو سعود شکیل نے ٹیسٹ کیپ دی جبکہ محمد عباس نے رضا اللہ اور عمران رندھاوا کوبابراعظم نے ٹیسٹ کیپ دی۔ اس طرح پاکستان نے صائم ایوب کو شامل کر کے اس میچ میں چار تبدیلیاں کی ہیں۔
تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں انگلینڈ کو دو صفر کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔ ٹیسٹ سیریز کے دوسرے میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کو 194 رنز سے شکست دی تھی۔
خیال رہے کہ ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کو انگلینڈ کے ہاتھوں مسلسل دوسری شکست کے بعد پاکستان کرکٹ نے بعض انتہائی حیران کُن فیصلے کیے تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور فاسٹ بولنگ کوچ عمر گل کو تبدیل کیا جبکہ انگلینڈ میں موجود قومی ٹیم کے کئی سینیئر کھلاڑیوں کو بھی وطن واپس بھیج دیا تھا اور آخری ٹیسٹ کے لیے پانچ ایسے کھلاڑیوں کو سکواڈ کا حصہ بنایا جنہوں نے ابھی تک اپنا بین الاقوامی ڈیبیو نہیں کیا تھا۔
21 سالہ ضا اللہ نے 2026-2025 کے سیزن میں پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں قدم رکھا۔ انہوں نے فرسٹ کلاس، لسٹ اے اور ٹی20 میچز میں پشاور اور ساحر ایسوسی ایٹس کی نمائندگی کی۔
مردان سے تعلق رکھنے والے دائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر رضا اللہ نے آٹھ فرسٹ کلاس میچز میں 20.86 کی شاندار اوسط سے 30 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے 14 اننگز میں تین مرتبہ پانچ وکٹیں بھی حاصل کی ہیں۔
تین فاسٹ بولرز میں محمد عمران رندھاوا سب سے زیادہ تجربہ کار ہیں اور انہیں ایک دہائی سے زیادہ کا تجربہ حاصل ہے۔ عمران رندھاوا نے 2016-2015 کے سیزن میں فرسٹ کلاس ڈیبیو کیا۔













