پنجاب کے ضلع پاکپتن کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں 20 بچوں کی ہلاکت کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج اسد حفیظ نے سابق سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر سہیل اصغر اور سابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عدنان غفار کو مقدمے سے بری کردیا۔ دونوں افسروں کے خلاف یہ مقدمہ جون 2025 میں ہسپتال میں بچوں کی اموات کے بعد درج کیا گیا تھا۔
ایڈیشنل سیشن جج پاکپتن اسد حفیظ نے فیصلہ سناتے ہوئے ڈاکٹر سہیل اصغر اور ڈاکٹر عدنان غفار کو مقدمے سے بری کر دیا۔
مزید پڑھیں
اردو نیوز کے پاس دستیاب عدالتی فیصلے کی کاپی کے مطابق، استغاثہ بچوں کی اموات کو ملزموں کی مجرمانہ غفلت سے جوڑنے کے لیے مطلوبہ طبی شواہد پیش نہیں کرسکا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق، ملزموں کی بریت کی ایک اہم وجہ یہ بنی کہ بچوں کی اموات کے حوالے سے پوسٹ مارٹم رپورٹوں اور طبی ماہرین کی ایسی کوئی رائے ریکارڈ پر موجود نہیں تھی جس سے یہ ثابت ہوتا کہ بچوں کی اموات ملزموں کی مجرمانہ غفلت کے باعث ہوئیں۔
فیصلے میں پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن سے متعلق قانونی نکتے کو بھی اہم قرار دیا گیا۔ عدالت کے مطابق پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2010 کے تحت کسی ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے متعلقہ کمیشن کی سفارش درکار تھی تاہم اس مقدمے میں ایسی کوئی سفارش نہیں کی گئی تھی۔
یہ معاملہ جون 2025 میں اُس وقت سامنے آیا جب پاکپتن کے ڈی ایچ کیو ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں ایک ہفتے کے دوران 20 بچوں کی اموات ہوئیں۔
رپورٹس کے مطابق جان سے جانے والوں میں 15 نومولود بچے شامل تھے۔ واقعے کے بعد ہسپتال میں بچوں کو مبینہ طور پر آکسیجن نہ ملنے اور طبی عملے کی غفلت کے الزامات سامنے آئے جس کے بعد اس معاملے کی تحقیقات شروع ہوئیں۔
ابتدائی انکوائری میں یہ مؤقف سامنے آیا کہ متعدد نومولود بچوں کو نجی زچگی مراکز یا غیر تربیت یافتہ دائیوں کے ذریعے انتہائی تشویش ناک حالت میں ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جس کے باعث اِن کا علاج مشکل ہوگیا تھا۔
اِس وقت ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے ایک اندرونی تحقیقاتی کمیٹی بنائی گئی۔ اس کمیٹی نے 20 اموات کی تصدیق تو کی تاہم اپنی رپورٹ میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سسٹاف کو ان اموات کا ذمہ دار قرار نہیں دیا۔
رپورٹ کے مطابق زیادہ تر بچوں کی ہسپتال پہنچنے یا داخل ہونے کے وقت ہی حالت انتہائی تشویش ناک تھے اور ڈیوٹی پر موجود طبی افسروں نے انہیں فوری طبی امداد فراہم کی تھی۔ کمیٹی نے البتہ بچوں کی اموات سے متعلق دستاویزات میں اہم خامیوں کی نشاندہی بھی کی۔

اُس وقت لواحقین نے آکسیجن سلنڈرز کی کمی کا الزام عائد کیا تھا جبکہ محکمۂ صحت کے حکام نے اس الزام کی تردید کی۔
4 جولائی 2025 کو وزیراعلیٰ مریم نواز کے دورے کے موقع پر ساہیوال کے کمشنر آصف طفیل نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ’آکسیجن کی کمی بچوں کی اموات کی وجہ نہیں تھی اور ہسپتال میں 45 آکسیجن سلنڈرز دستیاب تھے۔‘
وزیراعلیٰ مریم نواز کا دورہ
4 جولائی 2025 کو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پاکپتن کے ڈی ایچ کیو ہسپتال کا اچانک دورہ کیا۔ یہ دورہ تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہا۔ انہوں نے بچوں کے وارڈ سمیت مختلف شعبوں، لیبارٹریز اور میڈیکل سٹور کا معائنہ کیا، مریضوں اور اُن کے اہل خانہ سے بات کی اور ہسپتال میں ادویات اور دیگر سہولیات سے متعلق شکایات سنیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے اسی دورے کے دوران سی ای او ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر سہیل اصغر اور ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈاکٹر عدنان غفار کی گرفتاری کا حکم دیا۔ تین پیڈیاٹریشنز کو معطل کیا گیا اور تین لیبارٹری ٹیکنیشنز کو بھی گرفتار کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر پاکپتن ماریہ طارق کو بھی عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا گیا۔ مریم نواز نے ہسپتال کے میڈیکل آلات کا جامع آڈٹ کرانے اور پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں کوڈ ریڈ اور کوڈ بلیو ایمرجنسی نظام نافذ کرنے کی ہدایت بھی کی۔
مقدمہ کیسے بنا؟
وزیراعلیٰ مریم نواز کے احکامات کے بعد پاکپتن پولیس نے متعلقہ افراد کے خلاف مقدمات درج کیے اور ڈاکٹر سہیل اصغر اور ڈاکٹر عدنان غفار سمیت دیگر افراد کے خلاف کارروائی شروع ہوئی جس کے بعد مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 322 اور 201 شامل کی گئی تھیں۔

تفتیش کے دوران بچوں کے علاج سے متعلق بعض سرکاری ریکارڈ، بشمول ڈیتھ رجسٹر، مریضوں کی فائلز، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی تفصیلات اور آکسیجن سپلائی سے متعلق ریکارڈ کی تلاش کی گئی۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ وہ یہ ریکارڈ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
چار بچوں کی لاشوں کا معاملہ کیا تھا؟
مقدمے کے ابتدائی مرحلے میں ایف آئی آر میں 16 بچوں کے نام اور پتے درج تھے جبکہ ہسپتال کے عملے کی جانب سے چار بچوں کے مبینہ طور پر ’غائب‘ہونے کا ذکر کیا گیا۔
بعد میں پولیس نے بتایا کہ چاروں بچوں سے متعلق ریکارڈ اور ان کے والدین کا سراغ مل گیا اور والدین نے پولیس کو بتایا کہ انہیں اپنے بچوں کی لاشیں مل چکی تھیں اور انہوں نے تدفین کردی تھی۔
گرفتاریاں، ریمانڈ اور پھر ضمانت
ڈاکٹر سہیل اصغر، ڈاکٹر عدنان غفار اور دیگر حکام کو گرفتار کر کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔













