Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کوئٹہ میں 15 سالہ بیوی کو قتل کرنے والا ملزم گرفتار، ’گھر سے باہر جھانکتی تھی‘

پولیس حکام کے مطابق ملزم کو آلۂ قتل سمیت تحویل میں لے لیا گیا ہے (فوٹو: ویڈیو گریب)
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ کے نواحی علاقے کچلاک میں پولیس نے اپنی 15 سالہ بیوی کو تشدد کر کے قتل کرنے کے الزام میں شوہر کو آلۂ قتل سمیت گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ دو روز قبل کچلاک کے قریب کلی سملی میں پیش آیا جہاں کم عمری میں بیاہی جانے والی لڑکی شکریہ بی بی کو اس کے شوہر نے گھر میں تشدد کا نشانہ بنا کر مار ڈالا۔
واقعے کا مقدمہ پولیس تھانہ کچلاک میں ایس ایچ او سب انسپکٹر جمیل الرحمان کی مدعیت میں نامزد ملزم کے خلاف  قتل کی دفعہ کے تحت درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق تھانہ کچلاک پولیس کو کنٹرول روم سے اطلاع ملی کہ اسپنی روڈ پر واقع نیو ٹراما سینٹر میں ایک لڑکی کو لایا گیا ہے۔
ایس ایچ او کے مطابق پولیس جب ہسپتال پہنچی تو وہاں لڑکی کو مردہ حالت میں پایا۔ مقتولہ کی لاش کے ساتھ اس کا شوہر کامران عرف عبد الستار ادوزئی موجود تھا جس نے مقتولہ کی شناخت اپنی بیوی شکریہ کے نام سے کی۔
ایف آئی آر کے مطابق لیڈی ڈاکٹر کی جانب سے لاش کے معائنے کے دوران معلوم ہوا کہ مقتولہ کے جسم کے مختلف حصوں پر شدید تشدد کے نشانات موجود تھے۔ ہونٹ کو بھی چیرا گیا تھا۔ 
ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے پولیس کو دیے گئے ابتدائی بیان میں اعتراف کیا کہ اس کی بیوی گھر کے دروازے سے باہر گزرنے والے لوگوں کو دیکھتی تھی جس پر اسے بار بار منع کیا۔
واقعے کے روز جب وہ دوبارہ دروازے سے باہر جھانک رہی تھی تو اس نے غصے میں آ کر لوہے کے سریے کے وار کر کے اسے قتل کر دیا اور بعد میں کپڑے تبدیل کر کے ہسپتال لے آیا۔
سب انسپکٹر جمیل الرحمان کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق مقتولہ کی عمر 14 سے 15 سال کے درمیان تھی اور ملزم کے بقول اس کی شادی قریباً ایک سال پہلے ہوئی تھی۔
پولیس کے مطابق ملزم کامران عرف عبدالستار کا تعلق چمن سے ہے اور شکریہ بی بی اس کی دوسری بیوی تھی۔ اس نے پہلی بیوی کو طلاق دے دی تھی۔
پولیس نے بتایا کہ ملزم پر اپنی سابقہ بیوی کی والدہ یعنی سابقہ ساس کے قتل کا بھی مقدمہ درج ہے اور اس کیس میں وہ چمن پولیس کو مطلوب تھا۔
لواحقین کے مطابق شکریہ کا تعلق بھی چمن کے علاقے مردہ کاریز سے تھا اور اس کی شادی دو سال قبل تیرہ سال کی عمر میں ہوئی تھی۔
 مقتولہ کی والدہ کے مطابق ان کی بیٹی یتیم تھی اور اس کے والد کے انتقال کے بعد انہوں نے خود اپنے دیور سے شادی کی تھی۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ایک انٹرویو میں مقتولہ کی والدہ نے بتایا کہ ملزم ان کی بیٹی پر شدید تشدد کرتا تھا اور گھر والوں سے ملنے بھی نہیں دیتا تھا۔ 
والدہ کے مطابق ملزم انہیں یہ دھمکی دیتا تھا کہ جس طرح اس نے اپنی پہلی ساس کو قتل کیا تھا، اسی طرح وہ انہیں بھی جان سے مار دے گا۔
والدہ نے مزید بتایا کہ انہوں نے اپنی ایک اور پانچ سالہ بیٹی کا رشتہ بھی ملزم کے والد یعنی مقتولہ کے سسر کے ساتھ طے کر رکھا ہے تاہم اب وہ اب اس رشتے کو ختم کرنا چاہتی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق ملزم کو آلۂ قتل سمیت تحویل میں لے لیا گیا ہے اور واقعے کی مزید تفتیش کوئٹہ کے سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ (ایس سی آئی ڈبلیو) کے حوالے کر دی گئی ہے۔
ایس سی آئی ڈبلیو نے واقعہ کی مزید تفتیش شروع کردی ہے۔

شیئر: