Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نوشکی: آٹھ سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، تین ملزمان گرفتار

پولیس کے مطابق یہ واقعہ نوشکی کے نواحی علاقے احمد وال میں پیش آیا (فوٹو: اردو نیوز)
بلوچستان کے ضلع نوشکی کی پولیس کا کہنا ہے کہ ایک آٹھ سالہ بچی کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا ہے جس کے الزام میں تین مبینہ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ ’واقعہ نوشکی کے نواحی علاقے احمد وال میں پیش آیا۔ متاثرہ بچی کا تعلق ضلع چاغی کے علاقے دالبندین سے بتایا جاتا ہے۔‘
لواحقین کے مطابق ’بچی اپنے نانا کے گھر میں ہونے والی ایک موت کے باعث والدہ کے ہمراہ نانا کے گھر نوشکی کے علاقے احمد وال گئی تھی۔‘

’بچوں نے جھاڑیوں میں بچی دیکھی‘

بچی کے رشتہ دار نادر علی نے بتایا کہ اتوار کی صبح بچی لاپتہ ہوئی۔ ان کے بقول’ہم فاتحہ خوانی پر بیٹھے ہوئے تھے اس لیے بچی کی گمشدگی کا دیر سے پتہ چلا۔ اس کے بعد ہم نے کئی گھنٹوں تک تلاش کی لیکن کوئی سراغ نہ ملا۔‘
انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں محلے کے بچوں نے آگاہ کیا کہ انہوں نے جھاڑیوں میں ایک بچی کو دیکھا ہے۔ نادر علی کے مطابق ’ہم نے پہلے بھی وہ علاقہ دیکھا تھا مگر اس وقت وہاں لاش نہیں تھی۔ جب بچوں کی اطلاع پر دوبارہ گئے تو ہمیں لاش وہاں سے ملی جو جھاڑیوں اور مٹی میں دبی ہوئی تھی۔ چہرے اور جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’اہلِ خانہ لاش نوشکی لے آئے جہاں پولیس نے مقدمہ درج کر کے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا۔‘
ایس پی نوشکی سلیم شاہوانی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’لاش کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر نے تصدیق کی ہے کہ بچی کو جنسی زیادتی کے بعد تشدد کر کے قتل کیا گیا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے تفتیش شروع کر دی۔ محلے کے بچوں نے بتایا تھا کہ کمسن بچی کو آخری بار ایک لڑکے کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔‘

’لاش کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر نے تصدیق کی ہے کہ بچی کو جنسی زیادتی کے بعد تشدد کر کے قتل کیا گیا (فوٹو: اردو نیوز)

’پولیس نے اس لڑکے کو حراست میں لیا تو اس نے مبینہ طور پر جرم کا اعتراف کر لیا اور بتایا کہ اس نے دو دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر بچی کے ساتھ زیادتی کی اور پھر تشدد کر کے اسے قتل کر دیا۔‘
بچی کے چاچا نے سول ہسپتال کوئٹہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بچی کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا گیا۔ ہمیں انصاف چاہیے،حکومت گرفتار ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچائے۔‘
وزیرِ داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی نوشکی اور ڈی آئی جی رخشان ڈویژن سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
وزیرِ داخلہ کے معاون بابر یوسفزئی کے مطابق ’ملزمان کی فوری گرفتاری اور واقعے کی مکمل تحقیقات کرتے ہوئے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔‘م صوبائی وزیر داخلہ نے متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔

شیئر: