یمن میں لڑائی شدت اختیار کر گئی، 46 ہزار سے زائد افراد بے گھر
حوثیوں نے حالیہ دنوں میں یمن میں حملے تیز کر دیے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
یمن کے جنوب مغربی علاقوں میں حوثی ملیشیا اور حکومتی فورسز کے درمیان گذشتہ ہفتے لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد کم سے کم 46 ہزار افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے جمعے کو جاری بیان میں بتایا کہ ’گزشتہ ہفتے یمن میں لڑائی میں شدت آنے کے بعد کم از کم 46 ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔‘
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت نے خبردار کیا کہ ’بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ تشویشناک حد تک بڑھ رہی ہے۔‘
حوثیوں نے حالیہ دنوں میں یمن میں حملے تیز کر دیے ہیں۔ انہوں نے تعز صوبے کے جنوبی اور مغربی علاقوں کی جانب پانچ بیلسٹک میزائل فائر کیے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور درجنوں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوگئے۔
خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ کے مطابق یمنی حکومت کے دو ذرائع نے بتایا کہ ’حوثی فورسز ذباب شہر تک پہنچ گئی ہیں، جو میون جزیرے کے سامنے آبنائے باب المندب پر واقع ہے۔‘
ایک اور یمنی حکومتی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’حوثی ملیشیا نے آبنائے باب المندب کے وسط میں واقع اہم اور تزویراتی جزیرے میون پر بھی اپنی پوزیشنیں قائم کرلی ہیں۔‘
یمن ایک دہائی سے زائد عرصے سے خانہ جنگی کا شکار ہے۔ رواں سال جولائی میں یہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کی لپیٹ میں آنے والا تازہ ترین ملک بن گیا، جب حوثیوں نے حکومت کے ساتھ 2022 میں ہونے والی جنگ بندی کو ختم کرتے ہوئے دوبارہ حملوں کا آغاز کردیا۔
