Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

الباحہ: المعملہ میں آثارِ قدیمہ کی کھدائی، پہلی صدی ہجری کی مسجد دریافت

مسجد کے گرد پتھر سے بنے کمرے بھی دریافت ہوئے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی ہیریٹیج کمیشن نے الباحہ ریجن میں المعملہ سائٹ پر آثارِ قدیمہ کی دریافت اور کھدائی کے چوتھے سیزن کا اختتام کیا ہے۔
سعودی خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق المعملہ کو خطے کے اہم ترین آثارِ قدیمہ میں شمار کیا جاتا ہے جو سونے، چاندی اور تانبے سمیت معدنی دھاتیں نکالنے کا ایک مرکز تھا۔
چوتھے سیزن کے دوران سائٹ سے پہلی صدی ہجری کی ایک قدیم مسجد کے آثار دریافت ہوئے ہیں۔ مسجد کو تراشے ہوئے گرینائٹ پتھروں سے تعمیر کیا گیا تھا۔ مسجد کی محراب، داخلی راستوں اور مینار کی ساخت منفرد خصوصیات کی حامل ہے۔
مسجد کے گرد پتھر سے بنے کمرے بھی دریافت ہوئے جو ماضی میں سماجی اور تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیے جاتے رہے ہوں گے۔ ان عمارتوں میں گودام، حوض اور تعمیراتی ستون سمیت کئی معماری عناصر بھی موجود ہیں جو اس دور کے مقامی طرزِ تعمیر کی عکاسی کرتے ہیں۔
دریافت و تحقیقاتی ٹیم نے مختلف نوعیت کے دیگر آثارِ قدیمہ کو بھی محفوظ کیا ہے جو عہدِ رفتہ میں یہاں رہنے والوں کی روزمرہ زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہیں۔

ان میں صابونی پتھر سے بنے برتنوں کے ٹکڑے، مختلف اقسام کے مٹی کے برتن، باریک تراشے گئے پتھریلے اوزار، مثلا چکیاں، دستے اور دیگر اشیا شامل ہیں۔
المعملہ کا علاقہ الباحہ ریجن کے نمایاں آثارِ قدیمہ میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں سونے، چاندی اور تانبے جیسی معدنیات نکالنے کے شواہد ملے ہیں۔ اس مقام پر معدنی خام مال کی کان کنی، اس کی پروسیسنگ اور پیداوار سے متعلق بھی آثار پائے گئے ہیں۔
معدنی وسائل کے استعمال نے اسلامی ادوار میں المعملہ کو ایک اہم اقتصادی مرکز بنا دیا تھا جہاں دھاتوں کے تاجروں، کان کنی اور دیگر پیشوں سے وابستہ کارکنوں تک مختلف طبقات کے افراد کی آمدورفت رہا کرتی تھی۔

گزشتہ سیزن کے دوران المعملہ سے حاصل کیے جانے والے نامیاتی نمونوں سے بھی اس امر کے شواہد ملے ہیں کہ یہاں اسلام سے قبل کان کنی کی سرگرمیاں ہوا کرتی تھیں۔
لیبارٹری تجریوں سے معلوم ہوا کہ کان کنی کا عمل چھٹی صدی عیسوی کے اواخر سے نویں صدی عیسوی تک عروج پر رہا۔

گزشتہ ادوار کی کھدائی سے یہ بھی واضح ہوا کہ یہاں کان کنی کے فروغ نے مختلف نوعیت کی معدنی بستیوں کے قیام میں کردار ادا کیا۔
ان کا آغاز سطحی کانوں سے ہوا، بعدازاں عارضی آبادیوں اور علاقائی دھات پگھلانے کے مراکز سے گزرتے ہوئے ابتدائی اقتصادی شہروں تک پہنچا۔ یہ سلسلہ خطے میں انسانی اور معاشی سرگرمیوں کی نوعیت میں بتدریج آنے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے۔

 

شیئر: