Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’برطانیہ سے علیحدگی چاہتے ہیں‘، ایک گاؤں کے ریفرنڈم نے ملک میں ’ہلچل‘ کیوں مچائی؟

انگلینڈ میں قریباً 350 افراد پر مشتمل ایک گاؤں نے بدھ کو اعلان کیا کہ اُس کے رہائشیوں کی بھاری اکثریت نے برطانیہ سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ 
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ علامتی ’آزادی ریفرنڈم‘ گاؤں پِڈنگٹن کے قریب ایک مرکز میں 1200 سے زائد تارکینِ وطن کو رکھنے کے منصوبے کے خلاف بطور احتجاج کرایا گیا۔
وسطی انگلینڈ میں واقع گاؤں پِڈنگٹن آکسفورڈ سے قریباً 25 کلومیٹر (15 میل) دُور ہے۔ یہاں ہونے والے اس طنزیہ انداز کے علیحدگی کے ریفرنڈم نے خاصی توجہ حاصل کی ہے۔
گاؤں کی پیرش کونسل نے اعلان کیا کہ 312 ووٹوں کی گنتی کے بعد 285 افراد نے برطانیہ سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ 
گاؤں کے رہائشیوں نے یہ ووٹنگ قریب ہی ایک غیر استعمال شدہ فوجی مقام پر برطانیہ میں تارکین وطن کو رکھنے کے منصوبے کے خلاف احتجاج کے طور پر کی گئی تھی، تاہم اس ’علامتی ریفرنڈم‘کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
اس علامتی ریفرنڈم کے لیے گاؤں کے رہائشیوں کو ایک بیلٹ پیپر دیا گیا تھا جس پر لکھا تھا
کہ ’میں اس بات کی حمایت کرتا ہوں یا کرتی ہوں کہ پِڈنگٹن برطانیہ سے علیحدگی اختیار کرنے اور خودمختاری حاصل کرنے کی کوشش کرے۔‘
مقامی پیرش کونسل کے چیئرمین ٹم میک نیلی کا کہنا ہے کہ اب گاؤں کو ’پرنسپلٹی آف پِڈنگٹن‘ کے نام سے جانا جائے گا۔
میک نیلی نے سکائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے لیے اصل مسئلہ تعداد کا ہے، قریباً 350 افراد پر مشتمل ایک چھوٹے سے گاؤں میں 1250 مردوں کو کیسے رکھا جا سکتا ہے؟‘
انہوں نے حکومت پر یہ الزام عائد کیا کہ وہ ’اس پورے منصوبے کو جلد بازی میں آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔‘
آکسفورڈ شائر کاؤنٹی کونسل کے سربراہ ٹم بیئرڈر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مجوزہ جگہ ’انتہائی دائیں بازو کے افراد کے احتجاج کا مرکز بن جائے گا‘ اور وہ یہاں آکر تارکین وطن پر ’ممکنہ طور پر حملہ‘ بھی کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا کہ وہ ’کمیونٹی اور ریفرنڈم میں اٹھائے گئے مسائل کا جائزہ لیں گے۔‘
تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ برطانوی شہریوں کی ’بڑی اکثریت‘ پناہ کے متلاشی افراد کو ہوٹلوں میں رکھنے کا سلسلہ ختم کرنے کے حکومتی منصوبے کی حمایت کرتی ہے اور ملک کے مختلف علاقوں میں ایسے مراکز قائم کرنا ’منصفانہ‘ فیصلہ ہے۔
برطانوی وزیر ثقافت لیزا نینڈی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک سابق فوجی اڈہ، ہوٹلوں یا کرائے کی رہائش کے مقابلے میں پناہ کے متلاشی افراد کو رکھنے کے لیے ’زیادہ بہتر آپشن‘ ہے۔ 
واضح رہے کہ برطانیہ میں غیر قانونی تارکین وطن کو ہوٹلوں اور دیگر عارضی مراکز میں ٹھہرانے کے معاملے پر برطانوی شہریوں میں بے چینی پائی جاتی ہے اور اس اقدام کے خلاف باقاعدگی سے احتجاجی مظاہرے کیے جاتے رہے ہیں۔

شیئر: