تارکینِ وطن کا تنازع: اٹلی اور سپین کی جانب سے ایک دوسرے کے مسافروں کی سرحدی جانچ میں 15 روز کی توسیع
تارکینِ وطن کا تنازع: اٹلی اور سپین کی جانب سے ایک دوسرے کے مسافروں کی سرحدی جانچ میں 15 روز کی توسیع
بدھ 16 ستمبر 2026 6:03
یورپی یونین کا کہنا ہے کہ سرحدی کنٹرول غیر معمولی حالات میں آخری حل کے طور پر استعمال ہونا چاہیے (فوٹو: روئٹرز)
اٹلی نے منگل کے روز سپین سے آنے والے مسافروں پر عائد سرحدی جانچ میں مزید 15 دن کی توسیع کر دی ہے۔ یہ پابندیاں اس وقت عائد کی گئی تھیں جب جولائی کے اواخر میں مراکش سے 72 ہزار سے زائد تارکینِ وطن سپین کے شمالی افریقی علاقے سیوٹا میں داخل ہو گئے تھے۔
سپین نے بھی روم کی جانب سے عائد پابندیوں کے جواب میں اٹلی سے آنے والے شہریوں کی سرحدی جانچ شروع کر دی تھی۔ ہسپانوی وزارتِ خارجہ کے مطابق، سپین نے بھی اپنی جوابی کارروائی میں مزید 15 دن کی توسیع کر دی ہے۔
زیادہ تر تارکینِ وطن اگرچہ واپس مراکش چلے گئے تھے، تاہم اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کی حکومت اور یورپ کے دیگر سخت گیر رہنماؤں نے جولائی میں سیوٹا میں پیدا ہونے والی افراتفری کو سوشلسٹ وزیراعظم پیڈرو سانچیز کی تارکینِ وطن سے متعلق پالیسیوں پر تنقید کے لیے استعمال کیا۔ سیوٹا کے بحران سے کئی ماہ قبل پیڈرو سانچیز کی حکومت غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کی ایک مہم بھی چلا چکی تھی۔
اٹلی نے سپین سے آنے والے مسافروں کی سرحدی جانچ یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے شروع کی کہ ان سے ملک کی داخلی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ ان اقدامات کے تحت سپین سے آنے والے مسافروں کی ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر پولیس کی جانب سے اچانک اور غیرمنظم جانچ کی جا رہی تھی۔
اطالوی وزارتِ داخلہ نے منگل کے روز سرحدی جانچ میں توسیع کا جواز بھی داخلی سلامتی کے اسی خطرے کو قرار دیا۔ وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے یورپی یونین اور دیگر یورپی حکومتوں کو آگاہ کر دیا ہے کہ ’داخلی سلامتی کے حوالے سے سنجیدہ نوعیت کے خطرات بدستور موجود ہیں، جبکہ ممکنہ دہشت گردوں کی دراندازی سے متعلق ممکنہ خطرہ بھی موجود ہے۔‘
دوسری جانب سپین نے کہا کہ وہ بھی اٹلی کے خلاف کیے گئے جوابی اقدامات میں توسیع کر رہا ہے، کیونکہ ان اقدامات کی وجہ بننے والی صورتِ حال یعنی اٹلی کی جانب سے عائد کی گئی پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔
ویزا کے بغیر مشروط سفر
27 رکن ممالک پر مشتمل یورپی یونین میں شینجن کے نام سے ایک ایسا خطہ موجود ہے جہاں ویزے کے بغیر سفر کی سہولت حاصل ہے۔ اس کے باعث بیشتر یورپی یونین کے شہریوں کے لیے ملازمت یا تفریح کی غرض سے رُکن ممالک کی سرحدوں کے آرپار سفر کرنا نسبتاً آسان ہے۔
سپین نے بھی جوابی اقدام کے طور پر اطالوی مسافروں کی سرحدی جانچ میں 15 روز کی توسیع کر دی ہے (فوٹو: روئٹرز)
یورپی یونین کے مطابق رُکن ممالک کسی سنگین صورتِ حال یعنی داخلی سلامتی کو لاحق خطرے کی صورت میں عارضی طور پر یورپی یونین کی داخلی سرحدوں پر سرحدی کنٹرول دوبارہ نافذ کر سکتے ہیں۔ تاہم یورپی یونین یہ بھی کہتی ہے کہ سرحدی کنٹرول غیر معمولی حالات میں آخری حل کے طور پر استعمال ہونا چاہیے اور اس کی مدت محدود ہونی چاہیے۔
اٹلی کی جانب سے سرحدی جانچ شروع کیے جانے سے پہلے ہی سیوٹا، اور سپین کے شمالی افریقہ میں واقع دوسرے علاقے میلیا سے آنے والے مسافر بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر یورپی یونین کی سرحدی جانچ کے دائرے میں آتے تھے۔
غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق اس علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران 140 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے بعض افراد ڈوب گئے، جبکہ کچھ افراد سمندری رکاوٹ عبور کرنے کی کوشش کے دوران مچی بھگدڑ میں کچلے گئے۔
سیوٹا میں 5,000 سے زیادہ تارکینِ وطن اب بھی موجود ہیں، جس کے باعث پیدا ہونے والا انسانی بحران طویل ہو گیا ہے۔ یہ بحران سپین کے اندر اور اس سے باہر وزیراعظم پیڈرو سانچیز کے لیے ایک سیاسی بوجھ بن چکا ہے۔
پیڈرو سانچیز کی حکومت نے ان تارکینِ وطن کے لیے عام معافی کا فیصلہ کیا تھا جو رہائشی اجازت نامے کے بغیر ملک میں مقیم تھے، بشرطیکہ وہ یہ ثابت کر سکیں کہ وہ کم از کم پانچ ماہ سے سپین میں رہ رہے ہیں اور رواں سال یکم جنوری سے پہلے ملک میں داخل ہوئے تھے۔ درخواستیں جمع کرانے کی مقررہ مدت ختم ہونے سے قبل 10 لاکھ سے زیادہ افراد نے اس منصوبے کے تحت درخواستیں جمع کرائیں۔