بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی پارٹی کے سات رہنماؤں کو سزائے موت
بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی پارٹی کے سات رہنماؤں کو سزائے موت
منگل 15 ستمبر 2026 17:21
بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے سابق حکمران جماعت کے سات اعلیٰ رہنماؤں کو غیر حاضری میں سزائے موت سنائی ہے (فائل فوٹو: بی ایس ایس نیوز)
بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے 2024 کی عوامی بغاوت کچلنے کی کوشش میں سابق حکمران جماعت کے سات سینیئر رہنماؤں کو کردار ادا کرنے پر منگل کو غیر حاضری میں سزائے موت سنائی ہے، جن میں دو سابق وزرا بھی شامل ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سابق معزول وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ سے تعلق رکھنے والے ان ساتوں افراد کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دیا گیا، جن میں قتل کے علاوہ قتل پر اُکسانا اور لوگوں کو قتل کے لیے اشتعال دلانا بھی شامل ہے۔
مجرم قرار دیے جانے والوں میں عوامی لیگ کے سابق سیکریٹری جنرل عبیدالقادر اور سابق وزیر محمد علی عرفات بھی شامل ہیں۔ ان دونوں کو جس تین رُکنی ٹریبیونل نے سزائیں سنائیں، اس کی سربراہی جسٹس نذرالاسلام چوہدری کر رہے تھے۔
پراسیکیوٹر محمد امین الاسلام نے کہا ہے کہ ’ہم اس فیصلے سے خوش ہیں۔‘
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی اور اگست 2024 کے دوران 1400 تک افراد ہلاک ہوئے، جب شیخ حسینہ واجد کی حکومت نے طلبہ کی قیادت میں شروع ہونے والی بغاوت کو کچلنے کی کوشش کی تھی۔
شیخ حسینہ واجد کا 15 برس پر محیط سخت گیر دورِِ اقتدار اگست 2024 میں اُس وقت ختم ہوا جب وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے اپنا محل چھوڑ کر پڑوسی ملک انڈیا فرار ہوگئیں، جہاں وہ اب بھی روپوش ہیں۔
شیخ حسینہ واجد کو بھی نومبر 2025 میں اُن کی غیر حاضری میں پھانسی کے ذریعے سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔
ریاست کی جانب سے مقرر کیے گئے وکیلِ صفائی ایم حسن امام نے کہا کہ ’ساتوں افراد براہِ راست قتل میں ملوث نہیں تھے اور عدالت سزائے موت کی بجائے اس سے کم سزا بھی سنا سکتی تھی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ تمام لوگ براہِ راست قتل میں ملوث نہیں تھے، انہیں ان کے ساتھی کارکنوں اور حامیوں کے اقدامات کی بنیاد پر مجرم قرار دیا گیا ہے۔‘
سزائے موت پانے والے دیگر پانچ مجرموں میں اے ایف ایم بہاءالدین نسیم، شیخ فضل شمس پراش، معین الحق خان نکھل، صدام حسین اور شیخ ولی عاصف اینان شامل ہیں۔
عدالت نے یہ حکم بھی دیا کہ ان پانچوں افراد کے اثاثوں کا نصف حصہ ان افراد کے خاندانوں کو بطور معاوضہ دیا جائے جو سال 2024 کی بغاوت کے دوران ہلاک یا زخمی ہوئے تھے۔
شیخ حسینہ واجد نے کہا کہ وہ سزائے موت کا سامنا کرنے کے باوجود اپنی مرضی سے دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آئیں گی (فائل فوٹو: روئٹرز)
منگل کو سنائی جانے والی سزاؤں کے بعد 2024 کے احتجاج سے متعلق مقدمات میں مجرم قرار دیے جانے والے افراد کی مجموعی تعداد 68 ہوگئی ہے۔ ان میں سے 22 افراد کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے، تاہم صرف چار افراد ہی زیرِ حراست ہیں۔
شیخ حسینہ واجد نے عدالت کے اختیار کو تسلیم کرنے سے انکار کر رکھا ہے۔
وزیراعظم طارق رحمان کی حکومت نے انڈیا سے شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے جنہوں نے اُن کی حکومت کے خاتمے کے بعد فروری میں ہونے والے پہلے عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔
تاہم 78 سال کی شیخ حسینہ واجد کا کہنا ہے کہ وہ سزائے موت کا سامنا کرنے کے باوجود اپنی مرضی سے دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آئیں گی۔