Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی خلائی ہتھیار عالمی ہتھیاروں کی دوڑ کو ہوا دے سکتے ہیں: چین

سونگ ژونگ پنگ نے کہا کہ ’اگر امریکہ اسی راستے پر چلتا رہا تو دیگر ممالک کو بھی ردعمل دینا پڑے گا۔‘ (فوٹو: روئٹرز)
واشنگٹن نے تسلیم کیا ہے کہ اس کے پاس مدار میں ہتھیار موجود ہیں جس کے بعد چین نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ خلا میں اپنی فوجی طاقت بڑھانے کا سلسلہ روک دے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چینی سرکاری میڈیا نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام عالمی سطح پر ہتھیاروں کی دوڑ کو جنم دے سکتا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکن نے کہا کہ بیجنگ خلا کو عسکری بنانے اور اسے جنگی میدان میں تبدیل کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔
انہوں نے پریس بریفنگ میں کہا کہ ’ہم امریکہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ خلا میں فوجی طاقت بڑھانے کا سلسلہ بند کرے اور عملی اقدامات کے ذریعے عالمی سٹریٹجک استحکام کو برقرار رکھے۔‘
امریکی فضائیہ کے سیکریٹری ٹروئے مینک نے پیر کو کہا کہ امریکہ کے پاس ’مدار میں موجود خلائی کنٹرول ہتھیار ہیں جو مشترکہ فورس کو دشمن کے حملوں سے بچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘ یہ پینٹاگون کے کسی اعلیٰ اہلکار کی جانب سے مدار میں امریکی ہتھیاروں کی سب سے مضبوط تصدیق ہے، تاہم انہوں نے ان ہتھیاروں کی تفصیل نہیں بتائی۔
چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے منگل کو رپورٹ میں کہا کہ یہ انکشاف واشنگٹن کی ’خلائی بالادستی‘ کی کوشش کو بے نقاب کرتا ہے اور عالمی خلائی ہتھیاروں کی دوڑ کو ہوا دے سکتا ہے۔
چینی فوجی تجزیہ کار سونگ ژونگ پنگ نے اخبار کو بتایا کہ یہ اعتراف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ اب خلا میں اثاثوں کے تحفظ اور زمینی نظام پر انحصار کرنے کے بجائے براہِ راست مدار میں ہتھیار تعینات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر امریکہ اسی راستے پر چلتا رہا تو دیگر ممالک کو بھی ردعمل دینا پڑے گا۔‘
گذشتہ ہفتے سرکاری خبر رساں ایجنسی شِنہوا نے امریکی مدار میں فوجی مشق پر تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے خلا کو عسکری بنانے کی کوشش ایک ’سکیورٹی مخمصہ‘ پیدا کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں دیگر ممالک اپنی انسدادِ خلائی صلاحیتیں بڑھانے پر مجبور ہوں گے، جنہیں امریکہ بعد میں نئے خطرات کے طور پر دیکھے گا۔

 

شیئر: