ریاض میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے مستقبل پر عالمی مکالمہ، انسانی پہلو نمایاں
جمعرات 17 ستمبر 2026 11:51
یہ فورم اے آئی کے مستقبل پر تبادلہ خیال کے لیے پالیسی سازوں، ماہرین، تعلیم دانوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں کو ایک جگہ اکٹھا کرتا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بارے میں بحث اب اس بات پر مرکوز نہیں رہی کہ آیا مشینیں سیکھ سکتی ہیں، تجزیہ کر سکتی ہیں اور فیصلے کر سکتی ہیں یا نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ یہ صلاحیتیں انسانوں کی زندگیوں کو کیسے بہتر بنا سکتی ہیں اور معاشروں کو پائیدار فوائد کیسے پہنچا سکتی ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ تبدیلی ریاض میں واضح طور پر نظر آ رہی ہے جہاں سعودی عرب یونیسکو کے چوتھے گلوبل فورم آن دی ایتھکس آف آرٹیفیشل انٹیلی جنس (جی ایف ای اے آئی 2026) کی میزبانی کر رہا ہے۔
یہ فورم اے آئی کے مستقبل پر تبادلۂ خیال کے لیے پالیسی سازوں، ماہرین، تعلیم دانوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں کو ایک جگہ اکٹھا کرتا ہے۔
بات چیت کی توجہ ذمہ دارانہ استعمال، تکنیکی ترقی کی رفتار اور حکومتوں اور اداروں کی اسے منظم کرنے کی صلاحیت کے درمیان حائل خلا پر مرکوز ہے۔ اجلاس میں بنیادی ڈھانچے، صلاحیتوں، مہارتوں اور ٹیکنالوجی تک رسائی میں حائل کمی کو اجاگر کیا گیا ہے اور ساتھ ہی عالمی اے آئی تبدیلی کے فوائد کی زیادہ منصفانہ تقسیم کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
یہ بحث تکنیکی ترقی کے تصور کو بھی نیا رخ دے رہی ہے۔ اے آئی کی حقیقی قدر و قیمت کا اندازہ صرف ڈیٹا کی بڑی مقدار کو پروسیس کرنے یا پیچیدہ کام انجام دینے کی صلاحیت سے نہیں لگایا جاتا بلکہ انسانوں کی زندگیوں پر اس کے اثرات اور ایسے حل فراہم کرنے کی صلاحیت سے لگایا جاتا ہے جو خدمات کو بہتر بنائیں، ترقی میں معاون ہوں، کارکردگی میں اضافہ کریں اور علم و جدت تک رسائی کو وسعت دیں۔

ریاض اے آئی کو محض ایک تکنیکی تبدیلی کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے ترقی کی سمت میں گامزن کرنے کے لیے تجربات اور نقطہ ہائے نظر کے تبادلے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔
اس کے علاوہ بات چیت کا محور ایسی جدت کی حوصلہ افزائی کرنا بھی ہے جو انسانوں اور مفادِ عامہ کی خدمت کرے۔
