حرمین شریفین کے تحفظ اور تقدس کا دفاع ہر پاکستانی کے دل کے قریب ہے: پاکستان
جمعرات 17 ستمبر 2026 10:27
ترجمان نے کہ حرمین شریفین کی حرمت اور سعودی عرب کی علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا (فوٹو: اے پی پی)
پاکستان نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کو انتہائی قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حرمین شریفین کے تحفظ اور تقدس کا دفاع ہر پاکستانی کے دل کے قریب ہے۔
جمعرات کو دفترِ خارجہ میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا کہ مقدس شہر مکہ مکرمہ کی سمت کیے گئے حملے اور سعودی عرب پر حوثی باغیوں کی مسلسل جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حرمین شریفین کی حرمت اور سعودی عرب کی علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش ایک گھناؤنا اور انتہائی تشویشناک اقدام ہے، جس سے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات شدید مجروح ہوئے ہیں۔
سجاد حیدر کا کہنا تھا کہ ’ہم اس حوالے سے سعودی مسلح افواج کے تیز و ہیروانہ اقدامات سے حملے کو ناکام بنانے کو سراہتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے، پاکستان نے سعودی عرب کے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ڈروں حملے کی مذمت کی ہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھی اس دہشت گرد حملے کی مذمت کی ہے۔ پاکستان بڑھتے ہوئے تناو اور اس کے اثرات پر شدید تحفظات رکھتا ہے۔ پاکستان مشرق وسطی میں حوثی حملوں کے تناظر میں ابھرتی صورتحال کو دیکھ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مکہ دفاعی معاہدے پر تینوں ممالک نے پریس ریلیز جاری کیں ہیں، یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، مکہ دفاعی معاہدے کا مقصد خطے میں امن اور استحکام کو مضبوط کرنا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے سے تینوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط کیا جائے گا، مکہ دفاعی معاہدے کے تحت ڈیفنس، ٹریننگ سمیت دیگر امور میں تعاون مذید مضبوط ہوگا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اومان کے ساحل پر ایک بحری جہاز پر حملہ ہوا تھا، اس پر 23 پاکستانی سوار تھے جن میں سے 22 کو بچا لیا گیا، تاہم ایک پاکستانی ابھی تک لاپتہ ہے جو انجن روم میں تھا۔
