حوثی حملوں کے دوران پاکستان کا سعودی عرب کے دفاع کے لیے ’کسی بھی حد تک‘ جانے کا عزم
جمعرات 17 ستمبر 2026 21:37
پاکستان سعودی عرب پر حملے کی صورت میں اس کے دفاع کے لیے ’کسی بھی حد تک‘ جانے کو تیار ہے۔ پاکستان کے فوجی ترجمان نے جمعرات کو یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب حوثی حملوں میں اضافے کے باعث پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان نئے مشترکہ دفاعی معاہدوں کا امتحان ہو رہا ہے۔
یہ عزم یمن کی ایران نواز حوثی تحریک کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف شہروں پر حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
جمعرات کو طائف میں ایک ڈرون کو روکنے کے بعد گرنے والے ملبے سے ایک شخص ہلاک اور دو دیگر زخمی ہوئے، جبکہ حالیہ حملوں میں 80 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
یمن میں حوثیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے بھی رواں ہفتے کہا تھا کہ اس نے ایک حوثی ڈرون کو مکہ کے اطراف ممنوعہ فضائی حدود کی طرف جاتے ہوئے روک لیا، تاہم حوثی ملیشیا نے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔
ایک اور واقعے میں عراق سے آنے والے ڈرونز نے سعودی عرب کی ایسٹ-ویسٹ آئل پائپ لائن کے تین پمپنگ سٹیشنز کو نقصان پہنچایا، جس کے باعث تیل کی برآمد کے لیے اہم یہ راستہ عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے جمعرات کو عرب نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’پاکستان سفارتی اور عملی طور پر مکمل طور پر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔‘
انہوں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ میں یہاں ’عملی طور پر‘ کے لفظ پر زور دینا چاہوں گا۔۔۔ ہم کسی بھی حد تک جائیں گے۔‘
احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان کا عزم سعودی عرب اور اسلام کے دو مقدس ترین مقامات، مکہ اور مدینہ کے تحفظ تک پھیلا ہوا ہے۔
