Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سپریم کورٹ سے ضمانت کے بعد ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ دوبارہ گرفتار اور جیل منتقل

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو پیکا ایکٹ کے ایک مقدمے میں 17، 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں پیش کردیا گیا ہے۔
جمعرات کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران پولیس نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، تاہم عدالت نے پولیس کی درخواست مسترد کردی۔
عدالت نے دونوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف تھانہ کوہسار میں مقدمہ درج ہے۔
اس سے قبل جمعرات کو ہی سپریم کورٹ سے سزا معطلی اور رہائی کے احکامات ملنے کے کچھ ہی گھنٹے بعد اسلام آباد پولیس نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو اڈیالہ جیل سے دوبارہ تحویل میں لیا تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد پولیس کی 10 گاڑیوں کی نفری اور مختلف تھانوں کے ایس ایچ اوز کے ہمراہ جمعرات کی شب اڈیالہ جیل پہنچے جہاں سے دونوں کو اسلام آباد میں درج انسدادِ دہشت گردی کے ایک نئے مقدمے میں گرفتار کر کے روانہ کیا گیا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب جمعرات کو سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے دو، دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے بدلے ان کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیا تھا۔
جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے حکم دیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت مرکزی اپیل کے حتمی فیصلے تک ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل رہے گا۔
سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے ’ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ دونوں وکیل ہیں، اس لیے ہم ان کا احترام کر رہے ہیں، تاہم انہیں بھی چاہیے کہ وہ عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھیں۔ ایک وکیل اور عام آدمی میں واضح فرق ہوتا ہے۔‘
ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ ہائی کورٹ نے ابھی سزا پر حتمی فیصلہ نہیں دیا جبکہ ٹرائل کورٹ میں صفائی کے تمام مواقع دیے گئے تھے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے رواں برس 24 جنوری کو سوشل میڈیا پوسٹ سے متعلق پیکا ایکٹ کے ایک مقدمے میں دونوں کو 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی جسے بعد میں ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔

شیئر: