سپریم کورٹ سے ضمانت کے بعد ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ اڈیالہ جیل سے دوبارہ گرفتار
جمعرات 17 ستمبر 2026 20:12
اسلام آباد کی ایک عدالت نے جنوری میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو پیکا ایکٹ کے ایک مقدمے میں 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو سپریم کورٹ سے سزا معطلی اور رہائی کے احکامات ملنے کے کچھ ہی گھنٹے بعد اسلام آباد پولیس نے اڈیالہ جیل کے باہر سے دوبارہ تحویل میں لے لیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد پولیس کی 10 گاڑیوں کی نفری اور مختلف تھانوں کے ایس ایچ اوز کے ہمراہ جمعرات کی شب اڈیالہ جیل پہنچے جہاں سے دونوں کو اسلام آباد میں درج انسدادِ دہشت گردی کے ایک نئے مقدمے میں گرفتار کر کے روانہ کر دیا گیا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب جمعرات کو سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے دو، دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے بدلے ان کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیا تھا۔
جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے حکم دیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت مرکزی اپیل کے حتمی فیصلے تک ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل رہے گا۔
سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے ’ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ دونوں وکیل ہیں، اس لیے ہم ان کا احترام کر رہے ہیں، تاہم انہیں بھی چاہیے کہ وہ عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھیں۔ ایک وکیل اور عام آدمی میں واضح فرق ہوتا ہے۔‘
ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ ہائی کورٹ نے ابھی سزا پر حتمی فیصلہ نہیں دیا جبکہ ٹرائل کورٹ میں صفائی کے تمام مواقع دیے گئے تھے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے رواں برس 24 جنوری کو سوشل میڈیا پوسٹ سے متعلق پیکا ایکٹ کے ایک مقدمے میں دونوں کو 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی جسے بعد میں ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔
