ایشین گیمز: تاکومی ہوجو نے جاپان کو پہلا گولڈ میڈل دلا دیا
تاکومی ہوجو نے 2028 کی اولمپک گیمز کے لیے بھی کوالیفائی کر لیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ایشین گیمز کے پہلے باقاعدہ دن میزبان ملک جاپان نے فاتحانہ آغاز کرتے ہوئے ایونٹ کا پہلا گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا ہے۔ مردوں کے انفرادی ٹرائی ایتھلون مقابلے میں جاپان کے 30 سالہ تاکومی ہوجو نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سونے کا تمغہ حاصل کیا۔
اے ایف پی کے مطابق گاماگوری شہر میں منعقدہ اس سخت مقابلے میں ہوجو نے 750 میٹر سوئمنگ، 20 کلومیٹر سائیکلنگ اور 5,000 میٹر دوڑ کا فاصلہ 52 منٹ 56 سیکنڈ میں طے کیا۔
اس شاندار کامیابی کے ساتھ ہی انہوں نے 2028 میں امریکی شہر لاس اینجلس میں ہونے والے اولمپک گیمز کے لیے بھی کوالیفائی کر لیا ہے۔
چین کے ژانگ شی روئی ہوجو سے صرف نو سیکنڈ پیچھے رہ کر دوسرے نمبر پر آئے اور انہوں نے سلور میڈل حاصل کیا، جبکہ قازقستان کے 20 سالہ ارلان ژانا بائے مزید چھ سیکنڈ بعد فنش لائن عبور کر کے برونز میڈل جیتنے میں کامیاب رہے۔
کامیابی کے بعد گفتگو کرتے ہوئے تاکومی ہوجو کا کہنا تھا ’چونکہ یہ ہمارے ملک کا پہلا گولڈ میڈل ہے، اس لیے اس نے پوری جاپانی ٹیم کے حوصلے بلند کر دیے ہیں۔ میں مقابلے کے لیے مکمل طور پر پرجوش اور تیار تھا، حتٰی کہ بارش بھی رک گئی اور سٹارٹنگ لائن پر کھڑے ہونے تک میں بہترین فارم میں تھا۔‘ انہوں نے مزید کہا ’مجھے معلوم تھا کہ یہ مشکل ہوگا، لیکن میں نے سوچا تھا کہ میں اپنا پورا زور لگاؤں گا۔‘
سلور میڈل جیتنے والے چینی ایتھلیٹ ژانگ نے 5000 میٹر ریس کے دوران ہوجو کا سخت مقابلہ کیا اور زیادہ تر وقت دونوں کے درمیان کانٹے دار ٹکر جاری رہی۔
ژانگ نے کہا ’میں خوش ہوں لیکن جاپان سے پیچھے رہنے پر تھوڑی مایوسی بھی ہے، بہرحال اپنے ملک کے لیے میڈل جیتنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔‘
دوسری جانب قازقستان کے 20 سالہ نوجوان ایتھلیٹ ارلان ژانا بائے نے اپنے پہلے ہی ایشین گیمز میں برونز میڈل جیتنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’میں اس نتیجے سے انتہائی مطمئن ہوں۔ ظاہر ہے میں جیتنا چاہتا تھا، لیکن جو حاصل ہوا اس پر مجھے فخر ہے کیونکہ میری عمر صرف 20 سال ہے اور یہ ایشین گیمز میں میرا پہلا میڈل ہے۔‘
مردوں کے مقابلے میں جاپانی کامیابی کے بعد خواتین کے انفرادی ٹرائی ایتھلون میں چین نے بازی پلٹ دی۔ چین کی لن شن یو نے 57 منٹ 37 سیکنڈ کی ٹائمنگ کے ساتھ گولڈ میڈل جیتا اور ہانگژو میں ہونے والے پچھلے ایشین گیمز کے اپنے سلور میڈل کی کارکردگی کو سونے میں بدل دیا۔
خواتین کے اس مقابلے میں چین کی ہی ہوانگ انچی 21 سیکنڈ کے فرق کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں اور سلور میڈل جیتا، جبکہ جاپان کی مانامی بائے نے 58 منٹ 36 سیکنڈ کی ٹائمنگ کے ساتھ برونز میڈل اپنے نام کیا۔
انتظامی مسائل اور رہائش کے خدشات
جاپانی شہنشاہ ناروہیتو نے سنیچر کو ان گیمز کا باقاعدہ افتتاح کیا تھا، تاہم ناگویا کے 30 ہزار نشستوں والے سٹیڈیم میں شائقین کی بڑی تعداد غیر حاضر دکھائی دی۔ 4 اکتوبر تک جاری رہنے والے ان ایشین گیمز میں 40 سے زائد کھیلوں کے مقابلے ہوں گے۔
اگرچہ یہ ایونٹ 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس کے لیے کوالیفائنگ راؤنڈ کی حیثیت بھی رکھتا ہے لیکن انتظامی حوالے سے اسے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
لاگت کم کرنے کی خاطر روایتی ’ایتھلیٹ ویلج‘ نہ بنانے کے فیصلے کی وجہ سے 11000 سے زائد کھلاڑیوں اور 6000 آفیشلز کی رہائش کے لیے عارضی کنٹینر ہٹس، ہوٹلوں اور ایک کروز شپ کا سہارا لیا گیا ہے۔
کچھ ٹیموں نے ہوائی اڈے پر ٹرانسپورٹ کی عدم فراہمی اور عارضی رہائش گاہوں میں چھوٹے بیڈز پر شکایات کی ہیں۔
اس کے علاوہ جنوبی کوریا کی ہاکی ٹیم کے میچ سے قبل غلطی سے شمالی کوریا کا ترانہ بجانے پر منتظمین کو معافی بھی مانگنا پڑی ہے۔
1951 میں شروع ہونے والے ایشین گیمز میں روایتی اولمپک کھیلوں کے ساتھ ساتھ خطے کے مقبول کھیل جیسے کہ سیپاک تاکرا اور کبڈی بھی شامل ہیں۔
