سعودی عرب بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے پُرعزم: شہزادہ فیصل بن فرحان
اتوار 20 ستمبر 2026 19:13
ین الاقوامی قانون کے اصولوں کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سعودی عرب کے عزم کو اجاگر کیا ہے۔
انہوں نے کہا ’اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس میں سعودی عرب کی شرکت اس دیرینہ عمل کا تسلسل ہے جس کے تحت وہ عالمی امن و سلامتی کی سپورٹ، بات چیت اور ثالثی کے فروغ اور مشترکہ چیلنجوں سے نمنٹے کی کوششوں میں بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔‘
انہوں نے کہا ’یہ اجلاس جو اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا انتظام: ایک ایسی اقوام متحدہ جو سب کی امنگوں پر پورا اترے کے عنوان کے تحت منعقد ہو رہا ہے ان اصولوں کی تجدید کا ایک موقع ہے جس کے تحت بین الاقوامی ادارے خصوصا اقوام متحدہ قائم کیا گیا تھا۔‘
ایس پی اے کے مطابق ان اصولوں میں امن و سلامتی کے لیے کردار، بین الاقوامی قوانین و ضوابط کی پاسداری اور بحرانوں سے نمنٹے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانا شامل ہے۔
انہوں نے خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیا۔ ان اصولوں میں ریاستوں کی خود مختاری کا احترام، تنازعات کے پرامن حل، بین الاقوامی آبی گزر گاہوں میں فریڈم آف نیویگیشن اور سیفٹی کو یقینی بنانا شامل ہے۔
یاد رہے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سنیچر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچے ہیں، وہ سعودی وفد کی سربراہی کریں گے۔
جنرل اسمبلی کے اس سال کے اعلی سطح کے اجلاس میں مملکت کی شرکت بین الاقوامی تعاون اور کثیر الجہتی کارروائی کو مضبوط بنانے کے اس کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
سعودی وفد جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران متعدد سرکاری اجلاسوں میں شرکت کرے گا، جس کا مقصد کثیر الجہتی بین الاقوامی کام کو آگے بڑھانے، علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
اجلاس کے دوران سعودی وفد کی متعدد ملاقاتیں اور انگیجمنٹ شامل ہیں جس کا مقصد برادر اور دوست مکوں کے ساتھ بین الاقوامی تنظمیوں کے ساتھ اہم آہنگی اور تعاون کو بڑھانا ہے۔
اس کے ساتھ جنرل اسمبلی کے ایجنڈے پر تبادلہ خیال، سکیورٹی اور استحکام کے فروغ ، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ترجیی چیلنجوں اور ایشوز سے نمنٹے کی کوششوں میں تعاون پر بات کی جائے گی۔
