فارمز سے عالمی مارکیٹ تک: قصیم میں سعودی کھجور انڈسٹری کی تیزی سے ترقی
بیرون مملکت تقریباً 120 کنٹینرز کھجوریں ایکسپورٹ کی گئی ہیں ( فوٹو: ایس پی اے)
قصیم ریجن میں کھجوروں کی پیداوار اب صرف سیزن میں کٹائی تک محدود نہیں بلکہ ڈاؤن سٹریم مینوفیکچرنگ اور کوآپریٹیو ماڈلز کے ذریعے اس میں وسعت آ رہی ہے۔
ایس پی اے کے مطابق ان ماڈلز سے حاصل ہونے والی پیداوار کو براہ راست ٹیسٹنگ، سٹوریج، پروسیسنگ اور بین الاقوامی ڈسٹری بیوشن نظام سے منسلک کیا جاتا ہے۔
علاقے میں اب نہ صرف کھجوروں کی بہتر پیداوار ہو رہی ہے بلکہ عالمی معیار کی پیکنگ اور مختلف مصنوعات کی تیاری کا عمل بھی جاری ہے۔
’البطین کوآپریٹیو زرعی سوسائٹی‘ اپنے کام کے دائرہ کار کو بڑھا کر اس ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ سوسائٹی کاشتکاروں سے خام پیداوار حاصل کرکے صنعتی پراسس سے گزارنے کے بعد مختلف مارکیٹوں کی ضروریات کے مطابق انہیں قیمتی مصنوعات اورمخصوص پیکنگ میں تبدیل کر رہی ہے۔
سوسائٹی کی جانب سے کھجوروں کو معیاری انداز میں پیک کرکے انہیں مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق تیار کیا جاتا ہے، کھجوروں اور ان سے تیار ہونے والی مصنوعات کے شعبے میں سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

البطین کوآپریٹیو سوسائٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ناصر بن حمد الناصر نے بتایا کہ سوسائٹی کاشتکاروں سے کھجوروں کے حصول، مارکیٹنگ اور برآمدات تک پوری ویلیو چین میں کاشتکاروں کی مدد کے ذریعے کو آپریٹیو زرعی ماڈل کو فروغ دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کھجور صرف اپنی روایتی شکل میں استعمال نہیں ہوتی بلکہ اسے متعدد غذائی اور طبی مصنوعات کی تیاری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ناصر بن حمد الناصر نے کہا کہ سوسائٹی خصوصی ٹرانسپورٹ کے ذریعے پہنچنے والی کھجوریں وصول کرتی ہے۔ ابتدائی جائزہ لینے کے بعد معیار کے مطابق مختلف مراحل سے گزارا جاتا ہے۔
سٹوریج اور پیداوار کے تمام مراحل میں بین الاقوامی مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق سخت کوالٹی کنٹرول کے اصولوں پر عمل کیا جاتا ہے۔
گزشتہ برس سوسائٹی نے بیرون مملکت تقریباً 120 کنٹینرز کھجوریں ایکسپورٹ کیں۔ مجموعی مقدار 2400 ٹن سے زائد تھی۔ فرانس، روس اور انڈونیشیا سمیت مختلف مارکیٹوں تک رسائی حاصل ہوئی۔

دوسری جانب مقامی مارکیٹ اورخلیجی ممالک کے لیے سیزن کے دوران پیداوار اور تیار کی جانے والی کھجوروں کی مقدار 5 سے 7 ہزار ٹن کے درمیان رہی جبکہ طلب کے مطابق یہ مقدار تقریباً 10 ہزار ٹن تک پہنچ جاتی ہے۔
سوسائٹی کے چیئرمین نے بتایا کہ کھجور کا شیرہ (دبس) تیزی سے مقبول ہونے والی صنعتوں میں شامل ہے۔ مختلف اقسام کی کھجوروں کو شیرے کے کشید کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ان میں ’مجدول ، خصری، خلاص اور برحی‘ وغیرہ شامل ہیں۔