معاہدے کی طرف پیشرفت تیز، مگر ایران کے پاس وقت بھی ختم ہو رہا ہے: صدر ٹرمپ
صدر ٹرمپ کے مطابق انہیں امید ہے کہ ایرانی قیادت درست فیصلہ کرے گی (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے ’بہت تیز پیش رفت‘ ہو رہی ہے مگر اس کے پاس ’بطور ملک بقا‘ کا وقت ختم ہو رہا ہے۔
اس اجلاس میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحمان، قطر کے امیر، اردن کے شاہ، ترکی اور شام کے صدور اور مصری حکام کے علاوہ امریکہ وزرائے خارجہ اور خزانہ نے بھی شرکت کی۔
عرب نیوز کے مطابق منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے موقع پر خطاب میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے نمائندوں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر نے آج بھی ایران کے ثالثوں سے بات چیت کی ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ایرانی ان دونوں کا بہت احترام کرتے ہیں اور میرے خیال میں یہ اہم بات ہے، مجھے لگتا ہے معاہدے تک پہنچنے کے لیے کافی تیز پیشرفت ہو رہی ہے اور ہمیں ہر طرف سے یہی سننے کو مل رہا ہے۔
ان کے مطابق ’مجھے ایران کی معیشت کافی بری حالت میں ہے، مجھے امید ہے کہ وہ ایسے اقدامات کریں گے جو وہاں کے عوام کے لیے بہتر ہو اور میرا خیال ہے وہ ایسا ہی کریں گے، اس کے علاوہ کوئی متبادل راستہ کسی کے لیے بھی قابل قبول نہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے اجلاس میں شریک رہنماؤں کو ’امریکہ کے سب سے قریبی، عظیم دوست، اتحادی اور شراکت دار‘ قرار دیا جو ’ایک زیادہ محفوظ اور خوشحال مشرق وسطیٰ‘ کے لیے کام کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہی گروپ ایک برس قبل بھی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع جمع ہوا تھا اور غزہ میں جنگ کے خاتمے پر بات چیت کی گئی تھی، اس وقت جنگ شدت کے ساتھ جاری تھی اور اس کے خاتمے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے تھے۔
ان کے مطابق ’چند ہفتے بعد ہی ان ممالک نے ایک تاریخی امن معاہدے کے طے پانے میں مدد کی، کسی کو یقین نہیں تھا کہ یہ ممکن ہے مگر اس میز کے گرد بیٹے لوگوں نے اس کو ممکن بنایا۔
انہوں نے ان رہنماؤں کو ’لاکھوں جانیں بچانے اور بورڈ آف پیس کے قیام کا کریڈٹ‘ بھی دیا۔
انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو دوسرا بڑا اور دیرینہ چیلنج قرار دیا، جس سے نمٹنے کے رواں ان کی انتظامیہ متحرک ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ آپریشن ایپک فیوری کی بدولت ایران کی بحریہ مفلوج اور فضائیہ ختم ہوئی جبکہ 90 فیصد سے زائد ہتھیاروں کی فیکٹریوں کو نشانہ بنایا گیا۔
اسی طرح 450 بیلیسٹک میزائلوں کے ذخیرے اور 800 ڈرون مراکز کو تباہ بھی کیا گیا۔
صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کارروائی کے دوران ایران کے فضائی دفاعی نظام کو ’قریباً مکمل طور پر‘ تباہ کر دیا گیا جبکہ ’اس کی دہشت گرد قیادت اور معیشت کو تباہ کیا گیا اور وہاں اب مہنگائی کی شرح 300 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔
صدر ٹرمپ نے آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کا کریڈٹ وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کو دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایران کو مکمل طور پر تباہ تنہا کر رہے ہیں اور اس پر دباؤ ڈال رہے ہیں اور امید ہے بہت دیر ہو جانے سے قبل وہ جلد درست قدم اٹھا لیں گے۔‘
انہوں نے خبردار کیا کہ ’ایک وقت ایسا آئے گا جب بہت دیر ہو چکی ہو گی اور اس بات کا امکان نہیں رہے گا کہ اس کو بطور ملک زندہ رہنے دیا جائے۔‘