Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’سیاسی پناہ کی درخواستیں مسترد‘، سپین سے تارکینِ وطن کی مراکش بے دخلی کا سلسلہ شروع

جولائی میں سرحد عبور کرکے بڑے پیمانے پر تارکینِ وطن کی آمد کے بعد سیوٹا سے اپنی نوعیت کی یہ پہلی بے دخلی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
سپین نے ایک درجن سے زائد افریقی اور ایشیائی تارکینِ وطن کو مراکش واپس بھیج دیا ہے، جو سپین کے زیرِانتظام علاقے سیوتا پہنچے تھے، تاہم اُن کی سیاسی پناہ کی درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں۔ جولائی میں سرحد عبور کرکے بڑے پیمانے پر تارکینِ وطن کی آمد کے بعد سیوٹا سے اپنی نوعیت کی یہ پہلی بے دخلی ہے۔
برطانوی نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق سپین کی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ مراکش کی جانب سے اِن افراد کو واپس لینے پر آمادگی ظاہر کیے جانے کے بعد اِنہیں وہاں بھیج دیا گیا ہے اور وہ فی الحال مراکش ہی میں موجود ہیں۔
وزارت نے واپس بھیجے گئے افراد کی تعداد یا قومیتوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کیا، تاہم سیوتا میں کام کرنے والی تارکینِ وطن اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سینیگال، نائیجیریا، یمن، کیمرون اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے 16 افراد کو ملک بدر کیا گیا ہے۔
غیر سرکاری تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ اِن افراد کی واپسی کے فیصلوں میں اِس خطرے کو نظرانداز کیا گیا ہے جو مراکش میں دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے باعث پیدا ہوتا ہے۔ اِن تنظیموں کے مطابق یہ اقدامات سپین کی بائیں بازو کی حکومت کے بیان کردہ اصولوں اور اقدار سے بھی متصادم ہیں۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے روئٹرز کو بتایا کہ وہ ملک بدری یا جبری بے دخلی کے عمل میں شریک نہیں ہوتا، یہ ادارہ تیسرے ممالک کے شہریوں یا تارکینِ وطن کی رضاکارانہ واپسی کے پروگراموں میں مراکش کے حکام کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔
ادارے نے کہا کہ اُس کا رضاکارانہ واپسی کا پروگرام اُن تارکینِ وطن کی مدد کرتا ہے جو اپنی مرضی سے وطن واپس جانے کا فیصلہ کرتے ہیں، تاکہ وہ اپنے ملکوں میں دوبارہ زندگی شروع کر سکیں۔

وزیراعظم پیڈرو سانچیز کی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ انتخابات سے قبل سیوٹا میں پیدا ہونے والے بحران کا حل نکالے (فائل فوٹو: روئٹرز)

سپین کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے روئٹرز کو بتایا کہ یورپی یونین مراکش کو ایک محفوظ ملک تصور کرتی ہے اور ملک بدری کے اقدامات ’تمام ضروری حفاظتی انتظامات کے ساتھ‘ کیے جاتے ہیں۔ تاہم ترجمان نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
جولائی میں صرف 48 گھنٹوں کے دوران تقریباً 80 ہزار افراد مراکش سے سپین کے زیرِ انتظام علاقے سیوٹا میں داخل ہوئے تھے۔ اِن میں سے زیادہ تر افراد اگرچہ چند روز کے اندر واپس چلے گئے تھے، تاہم ہزاروں تارکینِ وطن اب بھی سیوٹا میں موجود ہیں۔ وزیراعظم پیڈرو سانچیز کی حکومت پر یورپی یونین اور مقامی آبادی کی جانب سے دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ 29 نومبر کو ہونے والے انتخابات سے قبل سیوٹا میں پیدا ہونے والے بحران کا حل نکالے۔

شیئر: