ایران کی سات روز میں آبنائے ہُرمز کھولنے کے لیے امریکہ کو مشروط پیش کش
ایران نے آبنائے ہُرمز کھولنے کے لیے امریکہ کو مشروط پیش کش کی ہے۔
ایران کے ایک سینیئر عہدے دار نے منگل کے روز برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ ’اگر امریکہ فوجی دباؤ کم اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے تو آبنائے ہُرمز سات روز کے اندر دوبارہ کھولی جا سکتی ہے۔‘
ایرانی فوجی مرکزی کمان نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’اطلاعات کے مطابق امریکہ علاقائی ممالک کی حمایت سے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔‘
اس پر ایران نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایسی صورت میں وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ یا مصلحت کے‘ بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔
ایرانی عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکہ کو باضابطہ طور پر یہ اعلان کرنا ہوگا کہ وہ مسئلے کو سفارتی طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے۔ اس کے بعد فریقین اتفاقِ رائے سے اس پر بات کر سکتے ہیں کہ یہ عمل کب اور کیسے آگے بڑھایا جائے۔‘
اس حوالے سے عہدے دار کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ایران کا وفد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیو یارک میں موجود ہے اور اسے امریکہ کے ساتھ سفارت کاری دوبارہ شروع کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ایرانی صدر مسعود پزشکیان منگل کی صبح تہران سے نیو یارک روانہ ہوئے، تاہم وہ نیو یارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات نہیں کریں گے۔‘
’امریکہ کے ساتھ جنگی کارروائیاں ختم کرنے سے متعلق معاہدے کی تفصیلات نیو یارک میں ثالثوں کے ذریعے زیرِ بحث لائی جا سکتی ہیں۔ ایران نے اپنی تجویز 16 ستمبر کو ثالثوں کے ذریعے امریکہ تک پہنچا دی تھی۔‘
ایرانی عہدیدار کے مطابق ’اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس امریکہ کے لیے سفارت کاری کی طرف واپس آنے کا ایک سنہری موقع ہے۔اگر امریکہ عملی اور واضح اقدامات کرتا ہے تو ایران سفارتی کاری کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا خیرمقدم کرے گا۔‘
