امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایران کے خلاف اپنی جنگ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے کے لیے کوئی معاہدہ نہ ہوا تو وہ ’اسلامی جمہوریہ کو صفحۂ ہستی سے مٹا‘ سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے پیش گوئی کی کہ ان کی انتظامیہ تین نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے ساتھ امن معاہدہ کر لے گی۔ تاہم انہوں نے دیگر ممالک پر زور دیا کہ وہ ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کے لیے امریکہ کا ساتھ دیں تاکہ تہران مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہو۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’مجھے ایک بڑا فیصلہ کرنا ہے۔ کیا ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ ہو جس کے تحت وہ دوبارہ اپنی تعمیرِ نو پر توجہ دے اور اس سے کہیں زیادہ عظیم ملک بنے جو وہ پہلے کبھی تھا؟ یا میں اسلامی جمہوریہ کو تباہ کر دوں اور یہ کام ایران کو دوبارہ لوگوں اور ملکوں کو قتل اور تباہ کرنے کا موقع دیے بغیر تیزی سے کروں؟‘
مزید پڑھیں
-
وزیراعظم جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ گئےNode ID: 908686
گزشتہ سال دوسری مرتبہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے صدر ٹرمپ نے عالمی نظام میں بڑے پیمانے پر ہلچل پیدا کی ہے۔ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملے کیے، وینزویلا میں کارروائی کا حکم دیا جس میں ملک کے سربراہ کو گرفتار کیا گیا، جبکہ گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی دھمکی بھی دی۔
صدر ٹرمپ نے 37 منٹ کی اپنی تقریر میں اپنی خارجہ پالیسی کا تصور پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایران کے ساتھ جنگ دنیا کو ایک جوہری ہتھیار رکھنے والے خطرناک ملک کے خطرے سے محفوظ رکھے گی، جبکہ مغربی نصف کرے میں امریکی فوجی برتری بحرانوں کو جڑ پکڑنے سے روکنے کے لیے ضروری ہے۔‘
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’وینزویلا میں ہمارے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکہ اب مغربی نصف کرے میں کہیں بھی اپنے لیے خطرہ بننے والی قوتوں کو قدم جمانے کی اجازت نہیں دے گا۔ دوسروں نے صرف امن کی بات کی ہے، اور میں نے امن قائم کیا ہے۔‘
اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے باہر ایران کی حکومت کے مخالف درجنوں مظاہرین جمع ہوئے۔ ان میں سے بعض نے ایسے پلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے جن پر جمہوریت کے حق میں مطالبات اور آمریت کی مذمت کی گئی تھی۔
صدر ٹرمپ نے ایسی تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کیا کہ وسط مدتی انتخابات ایران کے خلاف جنگ سے نمٹنے کی ان کی صلاحیت کو محدود کر سکتے ہیں جن میں اِن کی ریپبلکن پارٹی کو کانگریس پر اپنا کنٹرول کھونے کا خطرہ ہے ۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ڈیموکریٹس نے قانون ساز ادارے کا کنٹرول سنبھال لیا تو تنازع کے حوالے سے فیصلہ سازی میں صدر ٹرمپ کا دباؤ کم ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’وہ یہ بات نہیں سمجھتے کہ میں دوبارہ انتخاب نہیں لڑ رہا۔ میں یہ پہلے ہی کر چکا ہوں اور بھاری اکثریت سے جیت چکا ہوں۔ ہم بہت بڑے مارجن سے جیتے تھے اور میں یہاں مزید ڈھائی سال رہوں گا۔‘
صدر ٹرمپ نے امریکی پڑوسیوں کے خلاف بات کرتے ہوئے میکسیکو کو ’منشیات فروش گروہوں کے تشدد کا مرکز‘ قرار دیا اور میکسیکن حکومت پر زور دیا کہ وہ ’اپنی سرزمین پر دوبارہ اپنا کنٹرول حاصل کرے‘۔ انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ ’کیوبا کی صورتِ حال میں بنیادی تبدیلی‘ لانے کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے کیوبا پر دباؤ ڈالنے کی مہم کا ذکر کیے جانے پر کیوبا کے وفد کے ارکان اجلاس سے باہر چلے گئے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’یہ ایک مکمل طور پر ناکام ریاست ہے، یہ پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے ناکام ہو رہی ہے اور جلد ختم ہو جائے گی۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اس امریکی ہمسایہ ملک کے ساتھ مذاکراتی عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم اپنے پڑوس میں ایسے عناصر کو محفوظ پناہ گاہ قائم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے جو امریکہ کے خلاف کارروائی کرنا چاہتے ہیں۔‘
تاہم اقوام متحدہ میں صدر ٹرمپ کی اس سال کی تقریر سال 2025 کے مقابلے میں کم ڈرامائی رہی، جب انہوں نے ایک جارحانہ خطاب میں عالمی رہنماؤں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا، اور بعض ممالک کے بارے میں یہ تک کہا تھا کہ وہ ’جہنم میں جانے والے ہیں‘ اور اقوام متحدہ کی کی جانب سے فراہم کی جا رہی سہولیات پر بھی شکایت کی تھی۔ اس موقع پر وہ خراب ایسکلیٹر کی وجہ سے کچھ دیر پھنس گئے تھے اور ابتدا میں ٹیلی پرامپٹر بھی خراب ہو گیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اقوام متحدہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کی بیوروکریسی کم کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو اُجاگر کیا، تاہم انہوں نے کوئی نیا سخت حملہ نہیں کیا اور نہ ہی یہ اشارہ دیا کہ امریکہ اقوام متحدہ کے مزید اداروں سے علیحدہ ہو گا۔

صدر ٹرمپ نے یہ خطاب اقوام متحدہ کے ایک تحقیقاتی مشن کی اس رپورٹ کے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے بعد کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اس کے پاس یہ یقین کرنے کی معقول وجوہات موجود ہیں کہ ایران پر دو حملوں میں امریکی فورسز نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔ ان میں ایک حملہ جنوبی شہر میناب کے ایک پرائمری سکول پر کیا گیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اُن بین الاقوامی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جو امریکی طاقت پر کسی بھی طرح کی پابندی عائد کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بالخصوص عالمی فوجداری عدالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی اہلکار اس کے دائرۂ اختیار کے تابع نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم کبھی امریکی فوجیوں یا کسی اور شخص کو ایسے امریکہ مخالف ٹریبونل کے ذریعے تحقیقات کا سامنا کرنے یا فرضی مقدمات چلائے جانے کی اجازت نہیں دیں گے جسے ہم پر کوئی اختیار حاصل نہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے بدھ کو مصنوعی ذہانت اور عالمی سلامتی کے موضوع پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے ایک روز قبل نئی ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے چیلنجز کا اعتراف کیا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’میں ایسی چیز کی ترقی کو نہیں روکوں گا جو صنعتی انقلاب سے بھی بڑی ثابت ہو گی۔‘













