غذائی تحفظ: سعودی عرب کی 88 ملکوں میں ایک ہزار 289 منصوبوں کے لیے امداد
مملکت نے غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کے حوالے سے کوششوں کو اجاگر کیا ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی امدادی ایجنسی کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کے جنرل سپروائزر ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ بتایا ہے کہ مملکت نے اب تک 88 ملکوں میں غذائی تحفظ کے ایک ہزار 289 منصوبوں کے لیے 3.4 ارب ڈالر سے زیادہ کی معاونت کی ہے۔
سعودی امدادی ایجنسی کے سربراہ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران ایک اعلی سطح کے پینل مباحثے میں شرکت کی جس کا عنوان بھوک کے خلاف اتحاد: ’غذائی بحرانوں سے نمٹنے کےلیے عالمی اقدامات کی نئی سمت کا تعین‘ تھا۔
ایس پی اے کے مطابق پینل مباحثے کا اہتمام جرمنی، اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام، اور گلوبل نیٹ ورک اگینسٹ فوڈ کرائسز نے کیا تھا۔
مباحثے میں خطاب کے دوران انہوں کہا بہت سے ملکوں میں شدید غذائی عدم تحفظ کا بنیادی محرک تنازعات ہیں۔ انہوں نے زور دیا تنازعات کی روک تھام اولین عالمی ترجیح ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا محض قلیل مدتی ہنگامی حالات سے نمٹنے کے بجائے منظم انداز میں طویل مدتی قوت مدافعت (لچک) پیدا کرنے پر بین الاقوامی کوششوں کی توجہ مرکوز کی جائے۔
مملکت خوراک کی فوری قلت کو دور کرنے کے ساتھ ایسے پروگراموں پر عملدرآمد جاری رکھے ہوئے ہے جو مقامی صلاحیتوں کو بڑھانے ہیں۔ غذائی پیداوار میں اضافہ کرتے ہیں اور سپلائی چینز کو مضبوط بناتے ہیں۔

انہوں نے غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کے حوالے سے جاری کوششوں کو اجاگر کیا جن میں غزہ کی پٹی میں سینٹرل کچن پروجیکٹ اور فوڈ باسکٹ کے پروگرام شامل ہیں۔
اس کے علاہ ’سیڈ‘ انیشٹیو جس کا مقصد دیہی کمیونٹی کی بحالی اور مشکلات سے نمنٹے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ شام میں بیکریوں کی بحالی منصوبہ شامل ہے جس سے 1.4 ملین سے زیادہ افراد نے فائدہ اٹھایا۔
