Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی وزیر خارجہ کا غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد اور فلسطینی ریاست کے لیے کوششیں تیز کرنے پر زور

جامع، منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے مملکت کے عزم کا اعادہ کیا (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے امریکی حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے کے مکمل اور فوری عملدرآمد کا مطالبہ کیا اس کے ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے میں  اسرائیلی بستیوں کی توسیع، آباد کاروں کے تشدد اور الحاق کی پالیسیوں کے خلاف بین الاقوامی اقدام پر زور دیا ہے۔
وہ سعودی عرب، فرانس، برطانیہ اور کینیڈا کی مشترکہ صدارت میں منعقدہ ایک اعلی سطح کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے جس کا عنوان آئندہ کا لائحہ عمل: نیویارک اعلامیے اور غزہ کے لیے 20 نکاتی جامع امن منصوبے کے ایک سال بعد تھا۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے  اس بات  پر زور دیا کہ سکیورٹی کی بنیاد کسی دوسرے فریق کی قیمت پر نہیں بلکہ باہمی مفادات پر ہونی چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام اور اسرائیلی قبضے کا خاتمہ نا گزیر ہے۔
انہوں نے یروشلم کی تاریخی اور قانونی حیثیت برقرار رکھنے اور تمام فریقین کی جانب سے تشدد، نفرت اور اشتعال انگیزی کو مسترد کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

گزشتہ برس سعودی عرب اور فرانس نے اقوام متحدہ میں دو ریاستی حل کی بحالی کے لیے ایک بڑی بین الاقوامی سفارتی مہم کی قیادت کی تھی۔
ریاض اور پیرس نے جولائی 2025 میں مسئلہ فلسطین کے پرامن حل اور دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے اعلی سطح کی بین الاقوامی کانفرنس کی مشترکہ صدارت کی۔ کانفرنس نے نیویارک اعلامیہ جاری کیا جو فلسطینی ریاست کے قیام  اور وسیع ترعلاقائی ہم آہنگی کی جانب ایک عملی روڈ میپ ہے۔

 اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ستمبر 2025 میں 142 ووٹوں سے اس اعلامیے کی توثیق کی۔ 10 ملکوں نے مخالفت کی جبکہ 12 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اسی مہینے کے آخر میں سعودی عرب اور فرانس نے دوبارہ کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں 10 ملکوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے عرب امن اقدام، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور نیویارک اعلامیے کی بنیاد پر جامع، منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے مملکت کے عزم کا اعادہ کیا۔

شیئر: