سپین کے شہر لئیڈا میں عوامی مقامات پر برقع اور نقاب پر پابندی عائد
سپین کے شہر لئیڈا نے جمعے کو زیادہ تر عوامی مقامات پر چہرہ ’مکمل طور پر ڈھانپنے‘ والے لباس (برقعے اور نقاب) پر پابندی کی منظوری دے دی۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سپین میں برقع اور نقاب پہننے والی مسلمان خواتین کے خلاف یہ ایک غیر معمولی اقدام ہے۔
فرانس، پُرتگال اور بیلجیئم جیسے بعض یورپی ممالک کے برعکس سپین میں ایسا کوئی قومی قانون موجود نہیں جو برقع یا نقاب پہننے پر پابندی عائد کرتا ہو یا اسے محدود کرتا ہو۔
لئیڈا شمال مشرقی سپین کے علاقے کاتالونیا میں ڈیڑھ لاکھ نفوس پر مشتمل ایک شہر ہے۔ یہ بارسلونا سے قریباً 150 کلومیٹر دُور مغرب میں واقع ہے۔
اس شہر نے 2010 میں بعض عوامی مقامات پر مکمل چہرہ ڈھانپنے والا نقاب پہننے پر پابندی عائد کی تھی، جو سپین میں اپنی نوعیت کی پہلی پابندی تھی۔
تاہم ایک مسلمان تنظیم کی جانب سے طویل قانونی کارروائی کے بعد سپین کی سپریم کورٹ نے 2013 میں یہ پابندی ختم کر دی تھی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ’یہ پابندی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے اور مقامی حکومت کے اختیارات سے تجاوز کرتی ہے۔‘
عدالت نے دیگر شہروں کی مقامی حکومتوں کی جانب سے بھی نافذ کی گئی اسی نوعیت کی پابندیاں ختم کر دی تھیں۔
جمعہ کو لئیڈا کی سٹی کونسل نے 11 کے مقابلے میں 16 ارکان کی حمایت سے مقامی قانون میں ترمیم کی منظوری دی۔
یہ نیا قانون اس طرح بنایا گیا ہے کہ ماضی میں عدالتوں کی طرف سے اٹھائے گئے قانونی اعتراضات دوبارہ پیدا نہ ہوں اور اسے چیلنج نہ کیا جا سکے۔
نئے قانون کے مطابق عوامی جگہوں پر ایسا لباس یا چیز پہن کر جانا یا وہاں موجود رہنا منع ہوگا جس سے پورا چہرہ چُھپ جائے، لیکن قانون میں ’برقع‘ یا ’نقاب‘ کا نام لے کر پابندی نہیں لگائی گئی۔
اس کے بجائے قانون میں عام الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، یعنی کوئی بھی ایسی چیز جو چہرے کو مکمل طور پر ڈھانپ دے، اس پابندی میں شامل ہوسکتی ہے۔
برقع ایسا لباس ہے جو سر اور پورے جسم کو ڈھانپتا ہے، جبکہ آنکھوں کے سوا پورے چہرے کو ڈھانپ دیتا ہے۔
نئے قانون میں بعض خاص صورتوں میں اس پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا، مثلاً بنیادی حقوق کے استعمال سے متعلق معاملات یعنی کوئی شخص عبادت گاہ میں ہو۔
اس کے علاوہ ایسے مقامات جہاں اس طرح کا لباس پہننے کا رواج معاشرے میں قابلِ قبول ہو، وہاں اس پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ’اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جُرمانہ عائد کیا جائے گا۔‘
