مٹی سے بنے تاریخی محلات میں روایتی دروازے، نجران کی تعمیراتی شناخت
یہ دروازے مٹی کی عمارتوں کے بیرونی حصے کا نمایاں جزو ہوتے تھے (فوٹو: ایس پی اے)
نجران ریجن میں مٹی و گارے سے بنے تاریخی محلات اور گھروں میں لکڑی کے روایتی دروازے مقامی دستکاری، طرز تعمیر اور روز مرہ کی سماجی زندگی کے بہترین عکاس ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق یہ دروازے عوامی مقامات اور گھریلو نجی زندگی کے درمیان آرائشی دہلیز کا کام کرتے ہیں۔ انہیں پرائیویسی کے ساتھ تحفط اور جمالیات کے توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا۔
قدیم دروازوں میں سے کئی ایسے ہیں جو تاریخی عمارتوں میں نصب ہیں اور ان پر نمایاں روایتی دستکاری عہدِ رفتہ کی طرز زندگی کی یادوں کو اجاگر کرتے ہیں۔
یہ دروازے مٹی کی عمارتوں کے بیرونی حصے کا نمایاں جزو ہوتے تھے۔
ان دروازوں کی مختلف اقسام ہیں۔ بعض دروازے ایک دوسرے سے جڑے عمودی تختوں سے بنائے جاتے تھے جنہیں افقی لکڑی کی پٹیاں لگا کر مضبوط کیا جاتا تھا جبکہ کچھ دروازوں میں لکڑی کی افقی پٹیاں ایک فریم کے اندر لگائی جاتی تھیں۔ ان کے نقش و نگار اور دھاتی آرائش بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتی تھی۔

نجران سوسائٹی فار ہسٹری اینڈ آرکیالوجی ’جاتن‘ کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے چیئرمین محمد آل ہتیلہ نے بتایا کہ لکڑی کے یہ دروازے خطے کی تعمیراتی ورثے کا اہم حصہ ہیں۔ ان کے ذریعے مٹی کی قدیم عمارتوں اور اس سے وابستہ دستکاری کی تاریخ کو سمجھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بعض بڑے اور بھاری دروازے حفاظتی مقاصد کے پیش نظر بنائے جاتے تھے جبکہ گھروں کے اندرونی حصوں میں مویشیوں، سامان اور اجناس کی منتقلی کے لیے دروازوں کو خاص انداز میں تیار کیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس چھوٹے دروازے اندرونی کمروں کے لیے بنائے جاتے تھے۔ کئی دروازوں کے مرکزی حصے میں چھوٹے راستے یا سوراخ بنائے جاتے تاکہ گھر کی پرائیویسی کو متاثر کیے بغیر اندر جایا جا سکے۔
ان دروازوں پر دستک دینے کے لیے لوہے اور لکڑی کے روایتی کنڈی، بولٹ اور تالے نصب ہوتے تھے۔

بعض قدیم دروازوں پر ہندسی اور نباتاتی نقش و نگار بھی دکھائی دیتے ہیں جن میں مثلث، مربع، دائرے، محرابیں اور مختلف اشکال شامل ہیں۔ بعض نقوش مقامی ماحول سے متاثر ہو کر بنائے گئے ہیں جبکہ کچھ دروازوں پر عمارت کے مالکان سے متعلق تحریریں، تاریخیں یا دیگر علامات بھی موجود ہیں۔
نجران یونیورسٹی کے کالج آف انجینیئرنگ کے شعبۂ تعمیرات کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر خالد المزم نے بتایا کہ ان دروازوں کی تیاری بنیادی طور پر مقامی کاریگروں کی مہارت اور نسل درنسل منتقل ہونے والے تجربے پر منحصر تھی۔
دروازے بنانے کا عمل لکڑی کے انتخاب اور تیاری سے شروع ہوتا تھا۔ لکڑی کو لمبے تختوں کی صورت میں کاٹ کر الگ کیا جاتا، کناروں کو ہموار کرنے کے بعد تختوں کو لکڑی کی پٹیوں کے ذریعے جوڑا جاتا تھا۔

نقش و نگار بنانے کا کام مکمل کرنے کے بعد کنڈیاں اور دیگر دھاتی اشیا ان کے لیے مخصوص مقام پر نصب کی جاتی تھی۔
ماہرین نے ماحولیاتی اثرات، موسمیاتی تبدیلیوں اور جدیدیت کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر تاریخی عمارتوں میں موجود لکڑی کے دروازوں کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
ان کے مطابق ان تاریخی اثاثوں کا تحفظ نہ صرف نجران کی تعمیراتی شناخت کو برقرار رکھنا ضروری ہے بلکہ اس روایتی ہنر کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
