قصیم میں کھجور اور اس کے درخت سے دستکاری، زرعی اور صنعتی مصنوعات کی تیاری
شاخوں، پتوں، تنے کے گودے اور ریشوں سے مختلف اشیا تیار کی جاتی ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
قصیم ریجن میں کھجور اور کھجور کے درختوں (جس میں اس کے پتے، تنے اور دیگر اشیا شامل ہیں) سے دستکاری، زرعی اور صنعتی مصنوعات تیار کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ اس سے کھجور کے درخت کی معاشی اہمیت صرف کھجور کی پیداوار تک محدود نہیں رہے گی۔
ایس پی اے کے مطابق سعودی دستکار صالح العبودی کا کہنا ہے کہ کھجور اور اس کے درخت کے مواد سے مصنوعات تیار کرنے کے عمل کا آغاز مناسب مواد کے انتخاب، اس کی صفائی، اسے خشک کرنے اور تیاری کے مراحل سے ہوتا ہے جس کے بعد اسے مطلوبہ شکل دی جاتی ہے۔
کھجور کے پتوں، تنے کے گودے، کھجور کے گچھے اور گٹھلیوں سے مختلف اشیا تیار کی جاتی ہیں تاہم اس میں کاریگر کی مہارت کا بہت دخل ہوتا ہے۔
صالح العبودی نے بتایا کہ کھجور مقامی ماحول اور انسانی زندگی کا ہمیشہ سے حصہ رہی ہے۔ کھجور کے درخت سے تیار ہونے والی مصنوعات مقامی ثقافت اور انسانی ماحول سے تعلق کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔
درخت کے مواد سے فائبر بورڈ، ریشے دار مواد، نامیاتی کھاد اور مناسب پروسیسنگ کے بعد جانوروں کی خوراک بھی تیار کی جا سکتی ہے جبکہ بائیو انرجی کے شعبے میں بھی اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کھجور کے مختلف حصوں سے حاصل ہونے والے ریشوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پروسیس کرکے مرکب مواد اور زیادہ قدر رکھنے والی مصنوعات بھی تیار کی جا سکتی ہیں۔
کھجور کی گٹھلیاں بھی اہم ہیں۔ مناسب پروسیسنگ کے بعد انہیں مقررہ معیار اور ضوابط کے تحت بعض غذائی اور صنعتی مصنوعات میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور ان سے قیمتی اجزا بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

اس شعبے میں سرمایہ کاری کے متعدد مواقع موجود ہیں۔ فضلے کی پروسیسنگ کے مراکز کا قیام، کھاد، جانوروں کی خوراک، فائبر سے تیار کردہ مصنوعات اور لکڑی کے متبادل کی تیاری بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ کھجور کی گٹھلیوں اور دیگر اجزا سے نئی غذائی اور صنعتی اشیا بھی تیار کی جا سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے ان امکانات کو عملی شکل دینے کے لیے کھجور اور اس کے درخت کے مختلف اجزا کی چھانٹی، منتقلی، پروسیسنگ، مصنوعات کی تیاری اور مارکیٹنگ کے مراحل کو مربوط کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ تحقیق و ترقی، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پروسیسنگ کی صلاحیت بہتر بنانے پر بھی خاص توجہ دینا ہوگی۔
