سعودی عرب کی مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی ’اشتعال انگیز کارروائیوں‘ کی مذمت
مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے والے ان اقدامات کو مسترد کرنے کا اعادہ کیا۔( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب نے پیر کو مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی حکام اور انتہا پسند آباد کاروں کی جانب سے ’مسلسل اشتعال انگیز کارروائیوں‘ کی شدید مذمت کی ہے۔
ایس پی اے کے مطابق اس میں اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں مسجدِ اقصیٰ کے تقدس، اس کی مذہبی اور تاریخی حیثیت کی پامالی شامل ہے۔
یہ مذمتی بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آباد کاروں کی جانب سے مسجد کے صحنوں میں دھاوا بولنے کے بعد اسرائیلی حکام نے مسجد کے احاطے میں داخل ہونے والے دروازوں میں سے ایک ’باب المغاربہ‘ کو بند کردیا۔
فلسطینی نیوز ایجنسی وفا کے مطابق آباد کاروں نے اسرائیلی پولیس کی سخت سکیورٹی میں دھاوا بولا اور مسجد کے صحنوں میں اپنی رسومات ادا کیں۔ اس میں اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتماربین گویر شامل تھے۔
ایک بیان میں وزارت نے بین الاقوامی قانون کی ان خلاف ورزیوں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے والے ان اقدامات کو مسترد کیے جانے کے موقف کا اعادہ کیا۔
وزارت نے جنوبی لبنان کے علاقوں اور غزہ کی پٹی میں ’یلو لائن‘ تک پھیلے علاقوں کے الحاق سے متعلق اسرائیلی بیانات کی بھی مذمت کی۔
بیان میں کہا گیا کہ مملکت نے کسی بھی اسرائیلی توسیع پسندانہ کوشش کو مسترد کرتی ہے۔ اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کو 1967 کی سرحدوں پر اپنی آزاد ریاست قائم کرنے کا حق حاصل ہے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
