مئی کے دوران یہودی آبادکار 23 بار مسجد اقصیٰ میں گھس گئے
مسجد اقصیٰ، جو اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے، گزشتہ کئی دہائیوں سے کشیدگی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ (فوٹو:اے ایف پی)
فلسطینی وزارت اوقاف و مذہبی امور نے انکشاف کیا ہے کہ مئی کے مہینے میں اسرائیلی یہودی آبادکاروں کے گروہوں نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ کے احاطے میں 23 مرتبہ گھس گئے۔
وزارت کے مطابق ہزاروں اسرائیلی آبادکار اسرائیلی حکام کے زیرِ کنٹرول باب المغاربہ (مراکش گیٹ) کے ذریعے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے، جبکہ اسی دوران فلسطینی نمازیوں کی آمدورفت اور عبادت پر مختلف پابندیاں عائد کی گئیں۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق 14 مئی کو سب سے بڑا گروہ مسجد اقصیٰ میں داخل ہوا، جس میں تقریباً 1,400 افراد شامل تھے۔
اس گروہ میں اسرائیلی وزراء، کنیسٹ کے اراکین اور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سرگرم کارکن بھی شامل تھے۔
فلسطینی وزارت اوقاف نے خبردار کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں یہودی مذہبی رسومات کی ادائیگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان رسومات میں دعائیں، سجدے، مذہبی نغمے، رقص اور اسرائیلی پرچم لہرانا شامل ہے۔
مسجد اقصیٰ، جو اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے، گزشتہ کئی دہائیوں سے کشیدگی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ 1967 میں مشرقی یروشلم پر اسرائیلی قبضے کے بعد سے یہاں آبادکاروں کے داخلوں اور مسلم نمازیوں پر عائد پابندیوں کے باعث متعدد بار تنازعات اور جھڑپیں رونما ہو چکی ہیں۔
مسجد اقصیٰ کے انتظامی امور اردن کی وزارت اوقاف کے سپرد ہیں، جسے اس مقدس مقام کے انتظام اور رسائی کے معاملات میں قانونی اختیار حاصل ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی آبادکار، جو اس مقام کو ’ٹیمپل ماؤنٹ‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں، یہاں مخصوص اوقات میں یہودی عبادات کے انعقاد کے خواہاں ہیں۔ اسرائیل کے کئی سینئر قانون ساز، جن میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمر بن گویر بھی شامل ہیں، ان مطالبات کی کھل کر حمایت کر چکے ہیں۔
