Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پیشگی کارروائی، حوثیوں کے خلاف یمنی فوج کی نئی حکمت عملی

یمنی فوج کی نئی حکمت عملی کا مقصد حوثیوں کو بڑے حملوں کی تیاری سے قبل ہی روکنا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
یمن حکومت کی جانب سے ایران نواز حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں جنگجوؤں اور فوجی ساز و سامان کو نشانہ بنانے کے حوالے سے نئی حکمت عملی اپنائی گئی ہے جس کا مقصد حوثیوں کو بڑے حملوں کی تیاری سے قبل ہی روکنا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق یمن کے حکام اور فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ صورت حال کے جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ حوثیوں کے المخا پر قبضے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ قریباً ایک ماہ تک تعز میں بڑی تعداد میں جنگجو اور ساز و سامان جمع کرتے رہے لیکن اس دوران ان کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
اب یمن کے جنگی طیارے اور ڈرونز حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں، ایسے مشتبہ مقامات جہاں وہ جمع ہو سکتے ہیں اور بھیجی جانے والی کُمک کو اگلے مورچوں تک پہنچنے سے قبل ہی نشانہ بنا رہے ہیں۔
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد حوثیوں کو ممکنہ حملے کی تیاری سے روکنے کے ساتھ ساتھ مسلسل کارروائیوں کے ذریعے ان کی افرادی قوت اور جنگی صلاحیت کو کم کرنا ہے۔
سینیئر محقق مشیر ابراہیم جلال نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یمنی حکومت کی فوجیں المخا پر قبضے سے حاصل ہونے والے سبق کو آگے کی حکمت عملی کے استعمال کر رہی ہے اور حوثیوں کے ممکنہ حملوں کی تیاریوں کو ناکام بنانے کے لیے فوجی اقدامات بڑھا رہی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یمن کی مسلح افواج محاذ تک پہنچنے سے قبل ہی حوثیوں کی جنگی قوت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
فضائی حملوں اور ڈرون کارروائیوں میں حوثیوں کی کمک، کمانڈ سینٹرز، ہتھیاروں اور دوسرے فوجی ساز و سامان کو دور دراز علاقوں میں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جو المخا میں بننے والی صورت حال سے حاصل ہونے والے تجربے کی بنیاد پر اپنائی جا رہی ہے جس میں زیادہ تر پیشگی کارروائیاں شامل ہیں۔
ان کے مطابق ’یمنی حکومت نے یہ سبق بھی سیکھا ہے کہ اگر حوثی جنگجو اور ساز و سامان جمع کرنے کا موقع ملے تو ان کو حکومت کے زیرِ کنٹرول علاقے پر ایک اور بڑا حملہ کرنے کا موقع مل سکتا ہے اسی لیے ان کو پہلے سے ہی کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
9 اور 10 دسمبر کو حوثیوں کے المخا اور بحیرۂ احمر کے وسیع علاقے پر قبضے کے تھوڑی دیر بعد یمنی حکومت نے المخا کے گرد ایک ایسا علاقہ تشکیل دیا جسے ’کِل زون‘ کہا جاتا ہے اور وہاں سے حوثیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کیا جس میں ان کے ٹھکانوں، جمع ہونے کے مقامات اور چوکیوں کے علاوہ وہ لوگ بھی شامل تھے جو موٹر سائیکلز پر سوار ہو کر محاذ کی طرف جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
اس دوران ہی یمن کے جنگی طیاروں اور ڈرونز نے تعز، البیضا، الجوف اور حوثیوں کے زیر کنٹرول دوسرے علاقوں میں فوجی اڈوں پر حملے کیے، جن  کے بارے میں خیال تھا کہ وہاں حوثی حکومتی فورسز پر حملوں کی تیاری کے لیے جنگجو اور فوجی ساز و سامان جمع کر رہے ہیں۔
یمن کی فوج کا کہنا ہے کہ اتوار کو ایک ایسا ہی ایک بڑا فضائی حملہ کیا گیا جس میں تعز کے ضلع الحوبان میں حوثیوں کے ایک بڑے فوجی اڈے کو درستی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے زیرِ قبضہ مختلف علاقوں سے آنے والے جنگجو بڑی تعداد میں وہاں موجود تھے اور ان کو محاذ کی طرف بھیجنے کی تیاری کی جا رہی تھی اور اس حملے میں بہت سے جنگجو ہلاک اور زخمی ہوئے۔

شیئر: