Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

باب المندب کے قریب اہم پہاڑی چوٹیوں پر حوثیوں کے حملے، یمنی افواج کی مزاحمت

یمنی حکومت کی افواج اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان جمعرات کو مسلسل چوتھے روز بھی المضاربہ و العارہ کے علاقے میں ایک اہم پہاڑ کے اِردگرد شدید لڑائی جاری رہی۔ 
عرب نیوز کے مطابق یہ علاقہ آبنائے باب المندب کے قریب واقع ہے اور یہاں سے بحیرۂ احمر کی اس اہم گزرگاہ پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔
بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے کی صورتِ حال سے باخبر یمنی حکومتی کے ایک عہدیدار نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’حوثیوں نے کَہبوب میں حکومتی فوجیوں کے ٹھکانوں پر شدید حملے کیے ہیں، تاہم وہ پیش قدمی کرنے میں تاحال ناکام رہے ہیں۔‘
حکومتی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’المضاربہ میں لڑائی شدت اختیار کر رہی ہے اور حوثی ملیشیا ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکی۔‘
انہوں نے اس حوالے سے مزید بتایا کہ ’لڑائی چار روز سے جاری ہے اور حوثیوں کو بڑا جانی اور فوجی سازوسامان کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’حوثیوں کو اس لیے بھی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ میدانِ جنگ پہاڑوں، گھاٹیوں اور وادیوں پر مشتمل ہے، جبکہ علاقے کا دفاع کرنے والے بہت سے حکومتی فوجی مقامی جنگجو ہیں جو علاقے کے جُغرافیے سے بخوبی واقف ہیں۔
یاد رہے کہ حوثیوں نے 10 ستمبر کو بحیرۂ احمر کے بندرگاہی شہر موخا پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ شہر یمنی صدارتی قیادت کونسل کے رکن طارق صالح کی کمان میں کام کرنے والی حکومتی قومی مزاحمتی افواج کا مرکز تھا۔
اس کے بعد حوثی ملیشیا نے جنوب کی جانب آبنائے باب المندب میں واقع جزیرہ پریم پر بھی قبضہ کر لیا، جس سے انہیں دنیا کی ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ پر کنٹرول کے لیے جگہ بھی مل گئی۔
بعد ازاں یمنی حکومتی افواج نے باب المندب کے قریب المضاربہ و العارہ کے علاقے میں دوبارہ منظم ہو کر حوثیوں کی مزید جنوب کی جانب پیش قدمی روکنے کی کوشش کی۔
حکومتی عہدیدار نے کا کہنا ہے کہ ’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حوثی باب المندب پر نظر رکھنے والی اہم پہاڑی پوزیشنز کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘
اُن کے مطابق ’حوثی مزید جنوب کی جانب بڑھ کر یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے مرکز عدن کی جانب پیش قدمی کی کوشش بھی کر سکتے ہیں۔‘
حکومتی عہدیدار نے اس حوالے سے مزید بتایا کہ ’حوثی بدستور حکومتی فوجیوں کے ٹھکانوں پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کر رہے ہیں۔‘
دوسری جانب یمن کی حکومتی افواج نے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں حوثی ملیشیا کے اجتماعات، فوجی گاڑیوں، خندقوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار جنگجوؤں کو نشانہ بنایا۔
یمنی فوج کے مطابق ’گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جنگی طیاروں نے تعز کے جنوب مشرق میں حوثیوں کی کمک پر حملے کیے گئے اور تعز کے مغرب میں جبل حبشی کے ضلعے میں حوثیوں کا ایک حملہ بھی ناکام بنایا گیا۔‘

شیئر: