Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سزائے موت میں ناکامی: کرسٹا پائیک بے ہوش اور وینٹی لیٹر پر ہیں، وکلا کا عدالت میں بیان

کرسٹا پائیک سزائے موت کی کوشش ناکام ہونے کے بعد کئی گھنٹوں تک ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر رہیں اور وہ بے ہوش تھیں (فوٹو:اے پی)
کرسٹا پائیک کے وکلا نے جمعے کو عدالت میں دائر کی گئی ایک درخواست میں یہ انکشاف کیا ہے کہ وہ امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت کی کوشش ناکام ہونے کے بعد کئی گھنٹوں تک ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر رہیں اور وہ اس دوران بے ہوش تھیں۔
اُن کے وکلا کے مطابق ہسپتال کا عملہ پائیک کی جان بچانے کی کوشش کر رہا تھا اور جمعرات کی رات تک وہ زہر کی اُن دو خوراکوں کو اُن کے جسم سے خارج کرنے کی کوشش کر رہے تھے جو ریاست قیدیوں کو سزائے موت دینے کے لیے استعمال کرتی ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق بدھ کو ٹینیسی کے ڈیتھ چیمبر میں سزائے موت کی کوشش کی حیران کن ناکامی کے بعد موت کی سزا کے حامی اور مخالف دونوں فریق ہی اِس واقعے کی وجہ جاننے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ٹینیسی کے گورنر بل لی نے واقعے کی آزادانہ تفتیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست کرسٹا پائیک کی حالت کے بارے میں پہلی تفصیلی معلومات فراہم کرتی ہے۔ بدھ کی رات ریاستی دارالحکومت نیش وِل کے ریور بینڈ میکسمم سکیورٹی انسٹی ٹیوشن سے ایمبولینس کے ذریعے انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ اِن کے وکلا نے ایک روز قبل بتایا تھا کہ اِن کی حالت تشویش ناک ہے۔
آئی وی لائنز میں خرابی کی نشاندہی
کرسٹا پائیک کے وکلا کا کہنا ہے کہ اُن کے خیال میں آئی وی لائنز میں خرابی کے باعث زہر خون کی شریانوں میں داخل ہونے کی بجائے اُن کے جسم میں پھیل گیا۔
انہوں نے عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں لکھا کہ ’ سزائے موت دینے والی ٹیم کے کسی بھی رُکن کو بظاہر یہ احساس نہیں ہوا کہ آئی وی لائنز درست طور پر نہیں لگائی گئی تھیں یا رگیں پھٹ گئی تھیں، اور زہر مکمل یا جزوی طور پر کرسٹا پائیک کے جسم میں داخل ہو رہا تھا۔ ‘
اُن کے وکلا کے مطابق اِس ناکامی کو دور کرنے کی بجائے سزائے موت دینے والی ٹیم نے زہر کی دوسری خوراک تیار کرکے کرسٹا پائیک کو دے دی۔
ریاستی حکام نے اب تک اس بارے میں کوئی وضاحت پیش نہیں کی کہ درحقیقت خرابی کیا پیدا ہوئی تھی؟
حکام سزائے موت کے طریقۂ کار کا جائزہ لیں گے
گورنر بل لی نے سزائے موت کے طریقۂ کار کا جائزہ لینے کا حکم دیا ہے اور کرسٹا پائیک کی سزائے موت کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا ہے۔ علاوہ ازیں، رواں سال دی جانے والی ایک اور سزائے موت بھی ملتوی کردی گئی ہے۔ ٹینیسی کے ری پبلکن قانون سازوں نے کہا ہے کہ ریاست کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ ایک ہی دوا کے ذریعے مہلک انجیکشن کا طریقہ ترک کیا جائے اور سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے دوسرے طریقوں پر غور کیا جائے۔
کرسٹا پائیک کے وکیل رینڈی اسپائیوی کے مطابق سزائے موت دینے والی ٹیم نے مہلک ادویات دینے کی کوشش میں ایک گھنٹے تک کام کیا اور انہوں نے کرسٹا پائیک کے بائیں بازو میں کم از کم سات سوئیاں دیکھیں۔

عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست کرسٹا پائیک کی حالت کے بارے میں پہلی تفصیلی معلومات فراہم کرتی ہے (فوٹو:واشنگٹن پوسٹ)

کرسٹا پائیک کی عمر اُس وقت 18 سال تھی جب انہوں نے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر حسد کے عالم میں اپنی ہی ایک ہم جماعت لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا تھا۔ بعد ازاں وہ سزائے موت پانے والی کم عمر ترین خواتین میں شامل ہوگئیں۔
چار سال قبل کیا ہوا؟
چار سال قبل بھی ٹینیسی کے گورنر نے سزائے موت کے طریقۂ کار کا آزادانہ جائزہ لینے کا حکم دیا تھا۔ یہ فیصلہ اپریل 2022 میں آسکر سمتھ کی سزائے موت اچانک روکنے کے بعد کیا گیا تھا۔ بعد ازاں گورنر لی نے ریاست میں موت کی تمام سزائوں پر عملدرآمد روک دیا تھا، اور یہ تسلیم کیا کہ ریاست اس بات کو یقینی بنانے میں ناکام رہی تھی کہ مہلک انجیکشن میں استعمال ہونے والی ادویات کی مناسب جانچ کی گئی ہے۔

شیئر: