Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایرانی عدالت نے مظاہروں میں بینائی کھونے والے شخص کو سزائے موت سنا دی

27 سالہ علی زاری کو جرمنی سے ایران پہنچنے پر گرفتار کیا گیا (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کی ایک عدالت نے ایک ایسے شخص کو موت کی سزا سنائی ہے جنہوں نے 2022 میں احتجاج کے دوران ایک آنکھ کی بینائی کھوئی اور بعدازاں جرمنی میں سیاسی پناہ لے لی تھی۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا حوالہ دیا گیا ہے۔
امریکہ میں موجود تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیویسٹس نیوز ایجنسی (ایچ آر اے این اے) اور سینٹر فار ہیومن رائٹس ان ایران (سی ایچ آر آئی) کا کہنا ہے کہ 27 سالہ علی زاری کو ’زمین پر فساد پھیلانے‘ کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔
وہ ایران کی معزول بادشاہت کے حق میں بھی آواز اٹھاتے رہے تھے، تاہم یہ امر واضح نہیں ہے کہ وہ رواں سال کے اوائل میں ایران واپس کیوں گئے حالانکہ اس سے چند ماہ قبل میونخ میں ہونے والی ایک ریلی میں شریک ہوئے تھے۔
اسی طرح جرمنی کی انسانی حقوق کی تنظیم انٹرنیشنل سوسائٹی فار ہیومن رائٹس کی جانب سے جمعرات کو بتایا گیا کہ علی زاری کا تعلق ایران کے شمالی شہر اردبیل سے ہے تاہم وہ تہران میں رہائش پذیر ہیں۔
وہ مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے خلاف اٹھنے والی احتجاجی تحریک میں شامل تھے اور 2022 میں ایک مظاہرے کے دوران سیکورٹی فورسز کی جانب سے کی گئی فائرنگ سے زخمی ہونے کے بعد وہ علاج کے لیے جرمنی آئے تھے۔
تنطیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک احتجاج کے دوران ان کی آنکھ بھی ضائع ہو گئی تھی جس کے بعد انہوں نے انسٹاگرام پر لکھا تھاکہ ’ملک کی آزادی کے لیے اپنی آنکھ قربان کر دی۔‘
یہ بھی بتایا گیا کہ وہ ’ذاتی وجوہات‘ کی بنا پر ایران واپس گئے تاہم وہاں پہنچتے ہی ان کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ اس بارے میں مزید تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
 تنظیم کا کہنا ہے کہ ’یہ گرفتاری ایک بار پھر یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایرانی حکومت کسی کو نہیں چھوڑتی، یہاں تک کہ اسی کے تشدد سے متاثر ہونے والوں کو بھی نہیں۔‘
اقدام پر پہلوی آفس کی جانب سے ایکس کے ذریعے سامنے آنے والے ردعمل میں کہا گیا ہے کہ ’ان کو بے بنیاد الزامات میں سزا سنائی گئی ہے۔‘
بیان میں علی زاری کو ’ایرانی حکومت کے خلاف کھڑی بہادر نسل کا نمائندہ‘ بھی قرار دیا گیا ہے۔
میونخ میں پہلوی کی میزبانی میں ہونے والی ریلی میں بھی علی زاری نے شرکت کی تھی اور سٹیج پر تعارف کراتے ہوئے اپنی آنکھ کا ذکر کہا تھا اور خود کو ایرانی حکومت کے خلاف اٹھنے والی لہر کا حصہ بھی قرار دیا تھا۔
انہوں نے اس موقع پر پہلوی کے لیے بھی نیک جذبات کا اظہار کیا تھا۔

شیئر: