Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی فضائی دفاع نے ریاض کے شمال میں حوثیوں کا ایک بیلسٹک میزائل مار گرایا

اتحاد کی جانب سے زمین پر کارروائی کرنے والی یمنی مسلح افواج کو 24 گھنٹے فضائی معاونت فراہم کی جا رہی ہے: فوٹو ایس پی اے
یمن میں قانونی حکومت کی خودمختاری  کی حمایت کرنے والے اتحاد کے مطابق سعودی فضائی دفاع نے ریاض کے شمال میں حوثیوں کا ایک بیلسٹک میزائل مار گرایا۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ’ایکس‘ پر بتایا کہ میزائل داغنے والے لانچنگ پلیٹ فارم کو یمن کے دارالحکومت صنعا کی فضا میں اتحاد کے انٹیلی جنس نظام کے ذریعے ٹریک کیا جا رہا تھا اور اسے تباہ کر دیا جائے گا۔
ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی اتحاد کی افواج کے ساتھ سٹریٹجک آبنائے باب المندب پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے لڑائی جاری ہے۔
یمن کی حکومت نے بدھ کی صبح بتایا کہ حوثی ملیشیا نے عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو دو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
اس سے پہلے پیر کوسعودی عرب کے محکمۂ ہوا بازی نے کہا تھا کہ نجران اور جازان کے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے۔
منگل کو ایس پی اے کے مطابق کابینہ کا اجلاس منگل کو ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیرِ صدارت ریاض میں ہوا جس میں علاقائی صورتِ حال اور عالمی امور کا جائزہ لیا گیا۔
ابینہ نے کہا کہ ’سعودی عرب، یمن کے ریاستی اداروں کی بحالی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ حوثی ملیشیا کی فوجی کشیدگی نے امن کی کوششوں کو متاثر کیا۔‘
’اس گروپ کی کارروائیاں یمن میں انسانی و اقتصادی بحران کو مزید گہرا کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ خطے، جنوبی بحیرہ احمر اور باب المندب میں علاقائی سلامتی اور بحری آمد و رفت کو خطرات لاحق ہوئے ہیں۔‘
یاد رہے کہ یمنی حکومت نے اتوار کو حوثیوں کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی شروع کی ہے۔ صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین رشاد العلیمی کا کہنا ہے گروپ کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لیے جانے تک آپریشن جاری رہے گا۔
 

شیئر: