یونانی اساطیر، قدیم کہانیوں اور جدید عہد کے انسانی احساسات کو انوکھے اور دلیرانہ انداز میں یکجا کرنے والی کینیڈین شاعرہ، مضمون نگار اور مترجم این کارسن کو سال 2026 کا ادب کا نوبل انعام دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سویڈش اکیڈمی کی جانب سے جمعرات کو اس معتبر ترین ادبی اعزاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ 76 سالہ این کارسن کو یہ انعام ان کے ’دلیرانہ، اختراعی اور تخلیقی کام کے لیے دیا گیا ہے جس نے کلاسیکی روایت کے ساتھ شگفتہ اور دلچسپ گفتگو کے ذریعے جدید ادب کی نئی شکلوں کو جنم دیا ہے۔‘
مزید پڑھیں
’سویڈش اکیڈمی کے ارکان پاگل ہیں‘
نوبل انعام کا اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا جب این کارسن آئس لینڈ کے ایک دور افتادہ اور پرفضا علاقے میں موجود تھیں۔
جب آئس لینڈ کے قومی نشریاتی ادارے ’آر یو وی‘ نے ان سے اکیڈمی کے فیصلے پر ردِعمل مانگا تو انہوں نے اپنے مخصوص بے ساختہ اور طنز آمیز اسلوب میں مسکراتے ہوئے کہا ’وہ سب ارکان پاگل ہیں۔‘
سویڈش اکیڈمی کی مستقل سیکریٹری انگرڈ کارلبرگ نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے کارسن کو فون پر اس کامیابی کی اطلاع دی۔
انگرڈ کالبرگ کے مطابق ’ان کے پاس مجھے بتانے کے لیے صرف اتنا ہی وقت تھا کہ وہ اس وقت آئس لینڈ میں ہیں اور بس خاموشی سے ہوا کا شور سن رہی ہیں۔‘

سڑک کنارے تیز ہوا کے تھپیڑوں سے اپنی ٹوپی کو تھامے ہوئے جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا نوبل انعام ان کے قارئین کی زندگی یا ان کی کتابوں کو بدل دے گا؟ تو انہوں نے نہایت سادہ لہجے میں کہا ’بس اب میری کتابوں کے ٹائٹل کور پر ایک نوبل انعام کا سٹیکر لگ جائے گا۔‘
قدیم یونان سے جدید زندگی تک کا سفر
این کارسن کا شمار دنیا کے ان چند تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے قدیم تاریخ اور جدید دنیا کے درمیانی فاصلوں کو اپنے قلم سے مٹا دیا ہے۔
وہ خود قدیم زبانوں، تاریخ، ادبیات اور عمرانیات کی پروفیسر رہی ہیں۔ سنہ 2001 میں امریکہ کے مشہور اخبار نیویارک ٹائمز نے انہیں ’ادبی دنیا کی ایک عظیم امتزاج نگار قرار دیا تھا کیونکہ وہ نظم، نثر، ڈرامے اور ترجمے کو ایک ہی جگہ پر اس خوبصورتی سے پرو دیتی ہیں کہ پڑھنے والا حیران رہ جاتا ہے۔
ان کا سب سے مشہور منظوم ناول ‘آٹو بائیو گرافی آف ریڈ‘ 1998میں شائع ہوا تھا۔ یہ کتاب بنیادی طور پر قدیم یونانی دیومالائی داستان کے دو کرداروں (جیریون اور ہرکولیس) پر مبنی تھی لیکن کارسن نے اسے ایک جدید دور کے تین افراد کی محبت کی کہانی کے روپ میں ڈھال دیا۔
سویڈش اکیڈمی نے اس کتاب کی تعریف کرتے ہوئے اسے ’غنائیت سے بھرپور رزمیہ شاعری کا ایک شاندار شاہکار‘ قرار دیا ہے۔
اس کے علاوہ ان کی 2010 کی تخلیق ’نواکس‘ کو بھی اکیڈمی نے بالخصوص سراہا۔
یہ نظم ایک کتابی صفحات کے بجائے ایک طویل اور مسلسل جڑے ہوئے کاغذ کے ٹکڑے پر آکارڈین کی شکل میں چھاپی گئی تھی جو انہوں نے اپنے مرحوم بھائی کی یاد میں لکھی تھی۔
اکیڈمی کے مطابق یہ ایک ایسا مجسماتی اور ادبی شاہکار ہے جس میں بھائی کو کھونے کا گہرا غم اور تڑپ ہر لفظ سے جھلکتی ہے۔

’شاعری آج کی تیز رفتار دنیا کی ضرورت ہے‘
این کارسن کا خیال ہے کہ آج کے مصروف اور تیز رفتار دور میں نثر کے مقابلے میں شاعری زیادہ اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا ’شاعری شاید آج کے تیز رفتار معاشرے کے لیے زیادہ کارآمد ہے کیونکہ یہ مختصر، تیز اور اثر انگیز ہوتی ہے، اور آج ہر شخص بہت جلدی میں ہے۔‘
تاہم این کارسن کی زندگی کا حالیہ سفر آسان نہیں رہا۔
انہوں نے 2024 میں انکشاف کیا تھا کہ وہ اعصابی بیماری ’پارکنسنز‘ کا شکار ہو چکی ہیں۔
ایک ادبی رسالے میں اپنی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا تھا ’میرے لیے سب سے دردناک بات یہ تھی کہ بیماری کی وجہ سے میری ہاتھ کی تحریر بگڑنے لگی۔ مجھے سالہا سال کاپیوں پر خوبصورت قلم سے لکھنے کا شوق تھا۔ اب جب میں لکھتی ہوں تو لکیریں مڑ جاتی ہیں، حروف دھبے بن جاتے ہیں اور یہ سب دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔‘

این کارسن کا نام پچھلے کئی برسوں سے نوبل انعام کے ممکنہ فاتحین کی فہرست میں شامل تھا لیکن کچھ ماہرین کا خیال تھا کہ شاید سویڈش اکیڈمی 2013 میں کینیڈا کی معروف افسانہ نگار ایلس منرو کے بعد اتنی جلدی کسی دوسرے کینیڈین کو یہ انعام نہ دے۔
تاہم اس سال بیش تر ادبی نقادوں کا خیال تھا کہ یہ ایوارڈ کسی خاتون مصنفہ کو ہی ملے گا۔
سنہ 1901 سے شروع ہونے والے نوبل ادبی انعامات کی تاریخ میں 122 فاتحین میں سے صرف 19 خواتین کو یہ اعزاز ملا ہے۔













