نضال حسن کی فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت براہ راست دکھانے کا اعلان
امریکہ کی وزارت دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ نضال ملک حسن کی فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت کو براہ راست نشر کیا جائے گا، اس سے قبل وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی کہا تھا کہ سزائے موت عوام کے سامنے دی جائے گی، مگر اس میں کیمروں کی موجودگی کا ذکر نہیں تھا۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یہ حیران کن فیصلہ ملک میں 65 برس سے زائد عرصے بعد سامنے آیا ہے۔
امریکی فوج کی جانب سے رواں ہفتے اعلان کیا گیا تھا کہ کہ نضال ملک حسن کو فورٹ ہُڈ میں سزائے موت دی جائے گی، جس پر 2009 میں ایک امریکی فوجی اڈے پر فائرنگ کرنے کا الزام ہے، واقعے میں 13 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے تھے۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بدھ کو ایک ٹی وی چینل ’ریئل امریکہ وائس‘ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ لوگ سزائے موت کو دیکھ سکیں، تاہم اس میں کیمروں کی موجودگی یا نشر کیے جانے کا ذکر موجود نہیں۔
اس کی وضاحت اب پینٹاگون نے حکام نے کر دی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گے۔
دوسری جانب فائرنگ سکواڈ کے ذریعے لائیو سٹریمنگ کے اعلان کے بعد ملک میں سزائے موت کے طریقہ کار پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں، خصوصاً ایک ایسے وقت میں جب ریاست ٹینیسی میں کرسٹا پائیک نامی خاتون کو زہیلے انجکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش چند روز قبل ہی ناکام ہوئی ہے۔
اس بارے میں ماہرین کا کہنا ہے نضال ملک حسن سزائے موت کی مخالفت کرتے ہوئے سول عدالت میں قانونی درخواست دائر کر سکتے ہیں، جس کے ذریعے حراست یا سزا کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جا سکتا ہے اور اس سے سزائے موت پر عملدرآمد میں کافی تاخیر بھی ہو سکتی ہے۔
ییل لا سکول سے وابستہ اور فوجی قوانین کے ماہر یوجین آر فیڈل کا کہنا ہے کہ یہ قانونی کارروائی موجودہ امریکی حکومت کی مدت سے بھی آگے بڑھ سکتی ہے۔
ان کے مطابق ’یہ بھی معلوم نہیں کہ اگلی حکومت سزائے موت دینے میں اتنی ہی دلچسپی رکھے گی یا نہیں۔‘
فورڈہم یونیورسٹی کی قانون کی پروفیسر اور سزائے موت کی ماہر ڈیبورا ڈینو اس بارے میں کہتی ہیں کہ پھانسی کو براہِ راست نشر کرنے سے اس عمل میں شفافیت بڑھے گی اور عوام کو معلوم ہو سکے گا کہ سزائے موت کس طرح دی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا کرنا مفید ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایک ایسے وقت جب ریاست ٹینیسی میں کرسٹا پائیک کو زہریلا انجیکشن دے کر سزائے موت دینے کی ناکام کوشش کے بعد اس طریقہ کار پر نئے سوالات اٹھے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے خیال میں پھانسی براہِ راست نشر کرنا ایک اچھا اقدام ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے شفافیت بڑھے گی اور عوام کو اس عمل کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل ہوگی۔