سعودی فضائی دفاع نے آرامکو کے شیبہ فیلڈ پر ڈرون حملوں اور ایئربیس پر میزائل خطرے کو ناکام بنا دیا
سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے بتایا کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے فضائی حملوں کی ایک نئی لہر کو روک دیا ہے جس میں اس بار آرامکو کے شیبہ فیلڈ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
عرب نیوز کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹس میں وزارت کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ چار لہروں میں شیبہ فیلڈ کی طرف بڑھنے والے مجموعی طور پر 16 ڈرونز کو ’الربع الخالی‘ میں ناکام بنا کر تباہ کر دیا گیا۔
ایک علیحدہ پوسٹس میں میجر جنرل ترکی المالکی نے الخرج میں واقع پرنس سلطان ایئربیس کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل اور ایک کروز میزائل کو بھی روکنے اور تباہ کرنے کا اعلان کیا جبکہ دارالحکومت ریاض کے مشرق میں بھی ایک اور ڈرون کو ناکام بنایا گیا۔
الخرج جو کہ ریاض سے قریباً 80 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ایک اہم صنعتی زون ہے، وہاں گزشتہ تین دنوں میں میزائل حملے کی یہ تیسری کوشش تھی۔
شیبہ فیلڈ پر حملے کی یہ کوشش 28 فروری کے بعد پہلی مرتبہ ہوئی ہے، جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی مہم شروع کی تھی جس کے بعد تہران کی جانب سے خلیجی خطے کے مختلف اہداف بشمول آئل ریفائنریوں اور صنعتی مقامات پر جوابی حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
الربع الخالی کے قلب میں واقع شیبہ فیلڈ سعودی عرب کے اہم ترین فیلڈز میں سے ایک ہے جو نہ صرف تیل کے وسیع ذخائر رکھتا ہے بلکہ مملکت کی گیس حکمتِ عملی کا سنگِ بنیاد بھی ہے، جہاں کا ہائی ٹیک پلانٹ پیٹرو کیمیکل سیکٹر کو اہم خام مال فراہم کرتا ہے۔
سعودی عرب پر یہ فضائی حملے خلیج بھر میں بڑھتی ہوئی فضائی جارحیت کا حصہ ہیں جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران متحدہ عرب امارات نے بھی 125 سے زائد ڈرونز اور 6 بیلسٹک میزائلوں کو ناکام بنایا ہے۔
اس سے قبل جمعے کو سعودی فضائی دفاع نے پرنس سلطان ایئر بیس کی طرف داغے گئے پانچ میزائل، مشرقی ریاض میں چار ڈرونز، اور مشرقی صوبے و الخرج میں ایک ایک ڈرون مار گرایا تھا۔
اسی طرح جمعرات کو الخرج کو نشانہ بنانے والے تین کروز میزائل تباہ کیے گئے تھے جبکہ اس سے چند گھنٹے قبل مشرقی صوبے میں راس تنورہ ریفائنری پر ڈرون حملہ روکا گیا تھا۔
یہ حملے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی)، عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے احتجاج اور مذمت کے باوجود جاری ہیں۔
یکم مارچ کو ریاض میں منعقدہ بین الوزارتی اجلاس میں جی سی سی نے رکن ممالک کے اس حق کی توثیق کی تھی کہ وہ ایرانی جارحیت کے خلاف اپنی سرزمین کا دفاع کریں۔
تین مارچ کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیرِ صدارت کابینہ کے اجلاس میں سعودی عرب نے اعلان کیا کہ وہ جواب دینے کا مکمل حق رکھتا ہے اور اپنی سرزمین و شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
