Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سال 2026 میں دنیا بھر میں ریلیز ہونے والی اب تک کی بہترین فلمیں کون سی؟

ہدایت کار کلیبر مینڈونسا فیلہو کی سیاسی تھرلر ’دی سیکرٹ ایجنٹ‘ کو سال کی بہترین فلموں میں سرفہرست قرار دیا گیا ہے (فوٹو: فلم پوسٹر)
رواں برس کے پہلے نصف حصے کے اختتام پر فلم ناقدین نے اب تک کی بہترین فلموں کی فہرست جاری کر دی ہے۔
’عرب نیوز‘ کے مطابق اس فہرست میں مختلف ممالک کی سیاسی تھرلر، ہارر، کرائم ڈراما اور جذباتی کہانیوں پر مبنی فلموں کو نمایاں مقام دیا گیا ہے۔
آپ کو کچھ ایسی فلموں کے بارے میں بتاتے ہیں جو اس فہرست میں شامل ہیں۔

’دی سیکرٹ ایجنٹ‘

برازیل سے تعلق رکھنے والے ہدایت کار کلیبر مینڈونسا فیلہو کی سیاسی تھرلر ’دی سیکرٹ ایجنٹ‘ کو سال کی بہترین فلموں میں سرفہرست قرار دیا گیا ہے۔
سنہ 1970 کی دہائی میں برازیل کی فوجی آمریت کے پس منظر میں بننے والی اس فلم میں ویگنر مورا ایک ایسے ماہر تعلیم کا کردار ادا کر رہے ہیں جو ایک حکومتی وزیر پر بدعنوانی کا الزام لگانے کے بعد فرار ہو جاتا ہے جبکہ روبیریو ڈایوجینیز نے بدعنوان پولیس افسر کا کردار نبھا کر ناقدین کی بھرپور داد سمیٹی۔
فلم کو اپنی شاندار عکاسی، سنسنی خیز ماحول اور باریک بینی سے پیش کیے گئے سیاسی موضوع کی وجہ سے بے حد سراہا گیا۔

’ہیمنٹ‘

ہدایت کار کلوئی ژاؤ کی فلم ’ہیمنٹ‘ ولیم شیکسپیئر کی اہلیہ ایگنس (این ہیتھوے) کی زندگی پر مبنی جذباتی ڈراما ہے۔
فلم میں جیسی بکلی نے مرکزی کردار ادا کیا، جسے ناقدین نے سال کی بہترین اداکاری قرار دیا، جبکہ پال میسکل نے ولیم شیکسپیئر کا کردار نبھایا ہے۔
کہانی شیکسپیئر کے 11 سالہ بیٹے ہیمنٹ کی موت کے بعد خاندان کی زندگی اور اس امکان کے گرد گھومتی ہے کہ یہی سانحہ مشہور ڈرامہ ’ہیملیٹ‘ لکھنے کی وجہ بنا۔

’28 ایئرز لیٹر: دی بون ٹیمپل‘

ہدایت کار نیا ڈاکوسٹا کی ہارر فلم ’28 ایئرز لیٹر: دی بون ٹیمپل‘ باکس آفس پر توقعات کے مطابق کامیاب نہ ہو سکی، تاہم ناقدین کے مطابق یہ فلم بعض پہلوؤں میں سنہ2001 کی مشہور فلم ’28 ڈیز لیٹر‘ سے بھی بہتر ہے۔
فلم میں جیک او کونل نے ایک شیطانی فرقے کے پرتشدد رہنما کا کردار ادا کیا ہے، جبکہ رالف فائنز ایک ایسے سابق ڈاکٹر کے روپ میں نظر آتے ہیں جو وبا کے متاثرین کی یادگار قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ہارر فلم ’28 ایئرز لیٹر: دی بون ٹیمپل‘ باکس آفس پر توقعات کے مطابق کامیاب نہ ہو سکی (فوٹو: فلم)

’نو ادر چوائس‘

جنوبی کوریا کے معروف ہدایت کار پارک چان ووک کی فلم ’نو ادر چوائس‘ ڈونلڈ ویسٹ لیک کے ناول ’دی ایکس‘ پر مبنی ہے۔
فلم ایک ایسے ملازم کی کہانی بیان کرتی ہے جو ملازمت سے برطرف ہونے کے بعد نئی نوکری نہ ملنے پر انتہائی خطرناک اقدامات کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ناقدین نے فلم کی ہدایت کاری اور کہانی سنانے کے انداز کو غیر معمولی قرار دیا ہے۔

’بیک رومز‘

ہدایت کار کین پارسنز کی پہلی فیچر فلم ’بیک رومز‘ انٹرنیٹ پر مقبول فرضی دنیا ’بیک رومز‘ سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے۔
فلم میں چیویٹل ایجیوفور ایک فرنیچر سٹور کے منیجر کا کردار ادا کرتے ہیں، جو ایک پراسرار دنیا میں داخل ہو کر عجیب و غریب مقامات اور خوفناک مخلوقات کا سامنا کرتا ہے۔ ناقدین نے فلم کے خوف، سنسنی اور نفسیاتی گہرائی کو خوب سراہا ہے۔

کلاسیکل کہانی ’برائیڈ آف فرینکنسٹائن‘ کو دلہن کے نقطۂ نظر سے پیش کیا گیا ہے (فوٹو: فلم)

’دی برائیڈ‘

اداکارہ اور ہدایت کار میگی جیلنہال کی فلم ’دی برائیڈ‘ نے ناقدین کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ کچھ نے اسے بے ربط قرار دیا جبکہ دیگر نے اس کی تخلیقی سوچ کو سراہا۔
کلاسیکل کہانی ’برائیڈ آف فرینکنسٹائن‘ کو دلہن کے نقطۂ نظر سے پیش کیا گیا ہے جبکہ جیسی بکلی کی اداکاری کو فلم کی سب سے بڑی طاقت قرار دیا گیا۔

’اوبسیشن‘

ہدایت کار کری بارکر کی ہارر فلم ’اوبسیشن‘ ایک نوجوان کی کہانی ہے جو ایک جادوئی درخت کے ذریعے اپنی محبوبہ کی محبت حاصل کرنا چاہتا ہے مگر اس خواہش کے خوفناک نتائج سامنے آتے ہیں۔
صرف سات لاکھ 50 ہزار ڈالر کے بجٹ سے بننے والی اس فلم نے دنیا بھر میں 40 کروڑ ڈالر سے زائد کا کاروبار کیا اور مزاح، سنسنی اور خوف کے امتزاج کی وجہ سے سال کی بڑی کامیاب فلموں میں شامل ہو گئی۔

شیئر: