فلموں کی فہرست بنانا خاصا خطرناک کام ہے۔ آپ سوچ بچار کے بعد دس بہترین فلمیں چنیں اور پانچ منٹ کے اندر کوئی صاحب آ کر پہلی تین ہی رد کر دیں گے۔
فلم کا معاملہ کتاب سے بھی زیادہ ذاتی ہے۔ کسی کو مارلن برانڈو کی شاہکار فلم گاڈ فادر زندگی کی عظیم ترین مووی لگے گی اور کسی دوسرے کے لیے وہ تین گھنٹے کی سست رفتار بوریت ہے جس کے دوران وہ دو بار موبائل دیکھ چکا ہوتا ہے۔
چند روز پہلے ایک ممتاز برطانوی اخبار نے ایک دلچسپ تجربہ کیا۔ اس کے کلچر ڈیسک نے اکیسویں صدی یعنی دو ہزار کے بعد کی 50 بہترین فلمی پرفارمنسز کی فہرست بنا ڈالی اور اصول یہ رکھا کہ ایک فن کار صرف ایک بار آ سکتا ہے۔
ڈینزل واشنگٹن کی پانچ غیر معمولی فلمیں ہیں تو بھی اسے ایک ہی جگہ ملے گی، یہی سلوک ڈینیل ڈے لوئیس، کیٹ بلانچٹ اور انتھونی ہاپکنز کے ساتھ ہوا۔
مزید پڑھیں
-
کیا آپ کی زندگی کی چَس باقی ہے؟ عامر خاکوانی کا کالمNode ID: 906823
-
ہم نے بچوں کو سہولتیں دیں، بچپن نہیں: عامر خاکوانی کا کالمNode ID: 907541
جانچنے کے لیے اموشنل ڈیپتھ یعنی جذباتی وسعت، کردار کی مشکل، شخصی سحر اور کلچرل امپیکٹ (ثقافتی اثر) جیسی چیزیں دیکھی گئیں۔
فہرست پڑھتے ہوئے خاکسار کے ذہن میں مگر ایک اور خیال آیا۔ فلمی نقاد کے لیے عظیم اداکاری ایک چیز ہے مگر ہم عام فلم دیکھنے والے تو اچھی مزے کی فلم میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ آپ اپنے کسی دوست کو ویک اینڈ پر کوئی خالص قسم کی تجرباتی آرٹ فلم دیکھنے کا مشورہ دے سکتےہیں؟ میں تو کبھی نہ دوں۔
پہلے ہی کئی بار ایسا ہوچکا کہ کسی عام ذوق رکھنے والے دوست کو ٹالسٹائی کا ناول وار اینڈ پیس پڑھنے کا کہا تو وہ شدید بور ہو کر شکایت کرنے چلا آیا کہ کیا تھما دیا، اس میں تو ہزاروں کردار ہیں، وہی سمجھ نہیں آتے۔ میں اس کا منہ دیکھتا رہ گیا کہ کم بخت تاریخ انسانی کے عظیم ترین ناول کو فضول کہہ رہا ہے۔
فلموں کے حوالے سے ریکمنڈیشن بھی سوچ سمجھ کر دینی چاہیے۔ اس لیے مابدولت نے اس فیچر پر غور فرماتے ہوئے سوچا کہ کیوں نہ کھیل زرا بدل لیا جائے۔

برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ کی فہرست کو بنیاد بنایا جائے مگر شرط یہ رکھی جائے کہ اداکاری کے ساتھ فلم خود بھی غیر معمولی ہو اور دیکھتے ہوئے لطف بھی آئے۔ اسی بنیاد پر 20 فلمیں چنی ہیں، زیادہ تر اسی فہرست سے، مگر پانچ جگہ اپنی مرضی بھی چلائی ہے۔ فہرست بنانے کا مزہ ہی کیا اگر آدمی تھوڑی سی ڈنڈی نہ مارے۔
پہلے وہ فلمیں جو ہر ایک کو پسند آ سکتی ہیں
ٹریننگ ڈے (فلم ریلیز 2001) سے آغاز کرتے ہیں، جس میں ایک نیا پولیس افسر اپنے پہلے دن لاس اینجلس کے تجربہ کار نارکوٹکس افسر الونزو کے ساتھ نکلتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس پر کھلتا ہے کہ استاد خود جرائم اور کرپشن کے کھیل میں گلے تک ڈوبا ہوا ہے۔ ڈینزل واشنگٹن نے کمال کر دیا، ایک کرشماتی مگر خوفناک کرپٹ پولیس افسر کے اس کردار پر انہیں آسکر ملا۔۔
گون گرل (2014) میں ایک عورت اپنی شادی کی سالگرہ والے دن اچانک غائب ہو جاتی ہے، شبہ شوہر پر جانے لگتا ہے اور پورا امریکہ مقدمے کا جج بن بیٹھتا ہے۔ اس کے بعد کیا ہوتا ہے، وہ میں نہیں بتاؤں گا۔ روزامنڈ پائیک کی اداکاری اس فلم کی جان ہے اور شادی، محبت، نفرت اور انسانی جوڑ توڑ پر یہ ایسی ڈآرک سٹؤری ہے کہ ختم ہونے کے بعد بھی دیر تک ذہن میں چلتی رہتی ہے۔ البتہ دیکھنے سے پہلے گوگل پر کہانی پڑھنے کی غلطی نہ کیجیے گا ، اصل مزا سسپنس ہی میں ہے۔
دی ڈارک نائٹ (2008) : یہ بیٹ مین کی فلم ضرور ہے مگر اسے سپر ہیرو فلم سمجھ کر نظرانداز نہ کریں، میں تو اسے بنیادی طور پر کرائم تھرلر سمجھتا ہوں۔ اصل چیز اس میں ہیتھ لیجر کا جوکر ہے، جو محض ولن نہیں، وہ انتشار پھیلانے والا ایسا ذہین اور بے رحم آدمی ہے جو دوسروں کے اندر چھپی اخلاقی کمزوری باہر نکالنے پر تلا ہوا ہے۔ فلم دیکھ چکے ہوں تب بھی صرف لیجر کے لیے دوبارہ دیکھی جا سکتی ہے۔
ایرن بروکووچ (2000) : میں جولیا رابرٹس کا مداح ہوں مگر اس فلم میں اس نے کمال کر دیا۔ کہانی کے مطابق جولیا رابرٹس ایک سنگل مام ہے جو معمولی سی لیگل کلرک جاب کے دوران دریافت کرتی ہے کہ ایک بڑی کمپنی نے پانی آلودہ کر کے سینکڑوں زندگیاں تباہ کر ڈالی ہیں۔ یہ یہ حقیقی واقعے پر بنی فلم ہے۔ خشک موضوع کے باوجود فلم کہیں بوجھل نہیں ہوتی۔ اس فلم پر جولیا رابرٹس کو آسکر ملا تھا۔

ٹرو گرٹ (2010)۔ یہ ایک بہت ہی سوئٹ، مزے کی فلم ہے۔ ایک چودہ سالہ معصوم صورت مگر خاصی ہوشیار لڑکی اپنے باپ کے قاتل کو ڈھونڈنے نکلی ہے اور ایک سخت جان، بدزبان پولیس مارشل کو ساتھ لے لیتی ہے۔ ویسٹرن فلموں سے دلچسپی نہ بھی ہو، تب بھی اسے دیکھ لیجئے گا۔
فہرست میں کچھ ہلکا پھلکا بھی ہونا چاہیے۔ اس لیے دی ڈیول وئیرز پراڈا (2006) بھی رکھ لیں، جس میں ایک نوجوان لڑکی طاقتور فیشن میگزین میں ملازمت کرتی ہے جہاں اس کی باس مرانڈا پریسٹلی ہے۔ میری فیورٹ میرل سٹریپ اس میں ہے فیشن میگزین کی ایڈیٹر۔
سچ مگر یہ ہے کہ میرل سٹریپ کی موجودگی کے باوجود ایملی بلنٹ اپنی برجستہ مزاحیہ اداکاری سے بار بار منظر چرا لے جاتی ہے۔ یہ دفتر کی سیاست، کامیابی کی قیمت اور باس کے عذاب کی فلم ہے۔ ذہن تھکا ہوا ہو تو یہی لگا لیجیے۔ ایملی بلنٹ کے آپ فین ہوجائیں گے۔
اب چند زیادہ سنجیدہ فلمیں

دی فادر (2020) :اس پوری فہرست میں میری سب سے تگڑی سفارشات میں سے ایک ہے۔ انتھونی ہاپکنز ایک عمر رسیدہ شخص ہیں جن کی یادداشت ڈیمنشیا کے باعث بکھر رہی ہے۔ عام فلم ہوتی تو ہمیں بتایا جاتا کہ مریض الجھا ہوا ہے، اس فلم کا کمال یہ ہے کہ وہ ہمیں خود مریض کے ذہن کے اندر لے جاتی ہے۔ ابھی یہ گھر تھا، تھوڑی دیر بعد شاید کوئی دوسرا ہے؟ یہ بیٹی ہے یا کوئی اور عورت؟ ابھی جو واقعہ ہوا کیا واقعی ہوا تھا؟ اسی اداکاری پر تراسی برس کی عمر میں ہاپکنز بہترین اداکار کا آسکر جیتنے والے سب سے عمر رسیدہ اداکار بنے۔
نو کنٹری فار اولڈ مین (2007): اس فلم کو آپ ہیرو کے بجائے اس کے ولن کی وجہ سے یاد رکھیں گے۔ فلم میں ایک آدمی کو منشیات کے ناکام سودے کی جگہ سے بیس لاکھ ڈالر مل جاتے ہیں، وہ رقم اٹھا لیتا ہے اور پھر اس کے پیچھے اینٹن شگر آتا ہے۔ خاویر بارڈیم کا شگر مغربی سینما کے عظیم ترین ولن کرداروں میں شمار ہونا چاہیے۔ وہ چیختا نہیں، لمبی تقریریں نہیں کرتا، بس انتہائی سکون سے کسی انسان کی زندگی کا فیصلہ سکے اچھالنے سے کر دیتا ہے۔ بظاہر کرائم تھرلر، اندر سے قسمت، موت اور بدلتی دنیا پر گہری کہانی۔
اے ٹیکسی ڈرائیور (2017) :شاید اس فہرست کا وہ چھپا ہوا خزانہ ہے جو پاکستانی صحافیوں اور سیاسی موضوعات میں دلچسپی رکھنے والوں کو سب سے زیادہ اپیل کرے گا۔
1980 میں جنوبی کوریا کے شہر گوانگجو میں فوجی حکومت کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے اور ایک عام ٹیکسی ڈرائیور کو ایک جرمن صحافی وہاں لے جانے کا اچھا کرایہ دیتا ہے۔ ٹیکسی ڈرائیور کو سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں، مقصد صرف پیسے کمانا ہے، مگر پھر وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ کیا کر رہی ہے۔ سونگ کانگ ہو کا یہ عام اور کسی حد تک خود غرض آدمی آہستہ آہستہ بدلتا ہے۔ صحافت، آمریت، ریاستی تشدد اور ایک عام شہری کی اخلاقی بیداری۔ میں سمجھتا ہوں یہ فلم ضرور دیکھی جانی چاہیے۔

اوپن ہائمر (2023) ایٹم بم بنانے والے سائنس دان کی فلم ہے مگر اصل میں بلند پروازی، طاقت، سائنس اور ضمیر کی کہانی۔ کیلن مرفی کی آنکھوں میں یہ سوال مسلسل تیرتا رہتا ہے کہ سائنس دان اپنی ایجاد کے انسانی نتائج کا کہاں تک ذمہ دار ہےَ؟ عظیم فلمساز، ہدایت کار کرسٹوفر نولن نے تین گھنٹے کی تاریخی فلم کو بلاک بسٹر بنا دیا۔
گیٹ آؤٹ (2017)۔ یہ ہلا دینے والی فلم ہے مگر وہ لوگ بھی دیکھ سکتے ہیں جو ہارر سے بھاگتے ہیں۔ بھوت پریت والی فلم نہیں ہے۔ ایک سیاہ فام نوجوان اپنی سفید فام گرل فرینڈ کے والدین سے ملنے جاتا ہے، گھر میں سب بہت مہذب، بہت لبرل اور بہت خوش اخلاق ہیں، بس کہیں کچھ گڑبڑ ہے۔ ڈینیل کالویا کی دبی دبی اداکاری اور جورڈن پیل کی تحریر اسے نسل پرستی پر ایسا طنز بنا دیتی ہے جس میں خوف بھی ہے، مزاح بھی اور سیاست بھی۔ اس فلم میں ملازمہ کا چند سکینڈز کا ایک ایسا منظر ہے جسے شائد آپ کبھی نہ بھلا سکیں۔ کپ میں چائے ڈالنا اور پھر مسلسل نو نو نو کہنا۔
ماسٹر اینڈ کمانڈر (2003) ۔ اس وار فلم میں نپولینی جنگیں ہیں، سمندر ہے، برطانوی جنگی جہاز کا کپتان رسل کرو ہے اور سامنے کہیں زیادہ طاقتور فرانسیسی جہاز۔ یہ صرف بحری جنگ کی نہیں، لیڈرشپ کی فلم ہے۔ کمانڈر کب اپنے آدمیوں کی سنے اور کب ان کی مرضی کے خلاف فیصلہ کرے، دوستی اور کمانڈ کے درمیان لکیر کہاں کھینچی جائے؟ تاریخی اور جنگی فلمیں پسند ہیں تو اسے چھوڑنا زیادتی ہوگی۔
ذرا مشکل مگر غیر معمولی
ٹار (2022) میں کیٹ بلانچٹ دنیا کی عظیم آرکسٹرا کنڈکٹر ہے، طاقت، شہرت اور فن سب اس کے قدموں میں ہیں، پھر ماضی کے معاملات سامنے آنے لگتے ہیں۔ فلم آسان جواب نہیں دیتی۔ ہیروئن جینئس ہے، لوگوں کو استعمال کرنے والی ہے، مظلوم ہے یا شکاری؟ شاید انسانوں کا مسئلہ ہی یہ ہے کہ وہ اکثر کوئی ایک چیز نہیں ہوتے۔
ان کٹ جیمز (2019) : یہ ذہن پر نہیں، اعصاب پر بھاری فلم ہے۔ ایڈم سینڈلر ایک جیولر ہے اور ایسا جواری جو جوا چھوڑ ہی نہیں سکتا، ہر مشکل سے نکلنے کے لیے ایسا فیصلہ کرتا ہے جو اسے پہلے سے بڑی مشکل میں دھکیل دیتا ہے۔ دو گھنٹے آپ کے اعصاب اس شخص سے التجا کرتے رہتے ہیں کہ بھائی، اب بس کر دو، اور وہ نہیں کرتا۔
مون لائٹ (2016) رفتار کی نہیں، احساس کی فلم ہے۔ ایک سیاہ فام لڑکے کی زندگی کے تین ادوار اور ان میں تنہائی، شناخت اور محبت۔ ماہرشالا علی کا کردار مختصر ہے مگر عجیب اثر چھوڑ جاتا ہے، ایک ڈرگ ڈیلر ایک خوفزدہ بچے کی زندگی کا شاید پہلا ایسا بالغ آدمی بنتا ہے جس کے پاس وہ خود کو محفوظ سمجھتا ہے۔ صحیح موڈ میں دیکھی جائے تو زیادہ اثر کرتی ہے۔
پانچ وائلڈ کارڈز فلمیں

یہاں میں نے برطانوی اخبار کی فہرست سے بغاوت کرتے ہوئے اپنی مرضی چلائی ہے۔
دیئر ول بی بلڈ (2007) ہے۔ اخبار نے ڈینیل ڈے لوئیس کے لیے فینٹم تھریڈ چنی، مجھے اختلاف کی اجازت دیجیے۔ میرے نزدیک دئیر وِل بھی بلڈ زیادہ بڑی فلم ہے۔ تیل کی تلاش میں دولت مند بننے والے ڈینیل پلین ویو کی ہوس، نفرت، ضد اور تنہائی۔ ڈینیل ڈے لوئیس نے اسے جس طرح نبھایا، میرے نزدیک وہ اکیسویں صدی کی عظیم ترین پرفارمنسز میں سے ایک ہے۔ اس پر انہیں آسکر ملا۔ آپ ایک ایسے آدمی کو طاقتور ہوتے دیکھتے ہیں جس کی کامیابی کے ساتھ ساتھ اس کے اندر کا اندھیرا بھی بڑھتا جاتا ہے، اور پھر وہ مشہور آخری منظر آتا ہے۔ جو شائد زندگی بھر آپ کے ساتھ رہے۔
پیراسائٹ (2019) : اس میں ایک غریب خاندان آہستہ آہستہ ایک امیر گھرانے کے اندر مختلف ملازمتیں حاصل کر لیتا ہے۔ ابتدا میں بلیک کامیڈی لگتی ہے، پھر فلم اپنا رنگ بدل لیتی ہے۔ طبقاتی فرق پر سینکڑوں فلمیں بنی ہیں مگر بونگ جون ہو نے لیکچر دیے بغیر ایسا تھرلر بنا دیا جو امیر اور غریب دونوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ درمیان میں ایک ایسا موڑ آتا ہے جہاں احساس ہوتا ہے کہ جس فلم کو آپ دیکھ رہے تھے، شاید وہ فلم تھی ہی نہیں۔
دی سوشل نیٹ ورک (2010) کو فیس بک کے بننے کی کہانی کہہ لیجیے، مگر اصل موضوع دوستی، دھوکہ اور کامیابی کی قیمت ہے۔ ڈیوڈ فنچر کی ڈائریکشن اور آرون سورکن کے مکالمے اسے عام بائیوپک سے کہیں اوپر لے جاتے ہیں۔ ایک نوجوان ارب پتی بن رہا ہے مگر ساتھ ساتھ کچھ اور کھوتا جا رہا ہے۔ آج دیکھیں تو کئی مناظر پہلے سے زیادہ معنی خیز محسوس ہوتے ہیں۔
سٹی آف گاڈ (2002) برازیل کی کچی آبادیوں کی کہانی ہے جہاں جرائم، غربت اور منشیات ہیں اور ایسے بچے ہیں جن کے ہاتھ میں کھلونے کے بجائے بندوق آ گئی۔ تیز، سفاک اور بعض جگہ خوفناک، مگر اس سب کے درمیان ایک لڑکا کیمرہ اٹھا لیتا ہے۔ وہ قاتل نہیں بننا چاہتا، کہانی سنانے والا بننا چاہتا ہے۔ ایسی دنیا میں جہاں ہر طرف تشدد ہے، اس لڑکے کا ہتھیار کیمرہ بنتا ہے، یہی پہلو صحافت والوں کے لیے اسے اور دلچسپ بنا دیتا ہے۔
سپاٹ لائٹ (2015) صحافی کی اپنی کمزوری کے باعث۔ یہ معروف امریکی اخبار بوسٹن گلوب کی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹنگ پر مبنی ایک حقیقی کہانی ہے۔ یہاں صحافی سپر ہیرو نہیں۔ گولیاں چلتی ہیں نہ گاڑیوں کا تعاقب ہوتا ہے۔ رپورٹر کاغذ پڑھتے ہیں، ذرائع کے پیچھے جاتے ہیں، دروازے کھٹکھٹاتے ہیں اور ایک ایک حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں، اور پھر ایک پورا طاقتور ادارہ ہل جاتا ہے۔ شاید اسی لیے یہ فلم مجھے صحافت کے طالب علموں کو دکھانے کے قابل لگتی ہے۔ اچھی صحافت اکثر گلیمرس نہیں ہوتی، بورنگ نظر آنے والی محنت سے ہی بڑی کہانی نکلتی ہے۔
اگر صرف پانچ دیکھنی ہوں












