Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’کتابیں بِک رہی ہیں، یہی سچ ہے‘، اے آئی سے 370 کتابیں لکھنے والی مصنفہ کون ہیں؟

’مکار‘، ’دھوکے باز‘ اور ’ناول نگاری کی قاتل‘ یہ وہ چند سخت الفاظ ہیں جو سوشل میڈیا پر اس مصنفہ کے لیے روزانہ استعمال ہوتے ہیں لیکن 40 کی دہائی میں قدم رکھنے والی اس جنوبی افریقی خاتون کو شاید اس تنقید کی پروا نہیں کیونکہ وہ خود کو جدید دور کے ایک نئے انقلاب کی علامت سمجھتی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فروری 2025 سے اب تک آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی مدد سے 370 سے زائد کتابیں تخلیق کرنے والی مصنفہ کورل ہارٹ (یہ ان کا مستعار نام ہے) آج کل پبلشنگ کی دنیا میں ایک زبردست بحث کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ شدید تنقید اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے باوجود وہ تحریر میں اے آئی کے استعمال کا پرجوش دفاع کرتی ہیں۔
انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہیں اب تک ’دس ہزار سے زیادہ‘ نفرت انگیز پیغامات اور کئی سنگین دھمکیاں مل چکی ہیں۔ ایسے خوفزدہ ماحول میں جہاں زیادہ تر اے آئی مصنفین خاموش رہنے اور اپنی پہچان چھپانے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں، کورل ہارٹ نے کھلم کھلا سامنے آنے کا فیصلہ کیا۔
کورل ہارٹ کے مطابق ’میں نے خود سامنے آ کر بات کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ یہ وہ گفتگو ہے جس کا آغاز اب ہونا ضروری ہے۔ یہ ٹیکنالوجی اب آ چکی ہے اور محض چند مصنفین کے شور مچانے سے اسے بند نہیں کیا جا سکتا۔ُ
اے آئی کا سہارا لینے سے قبل کورل ہارٹ قریباً 14 سال تک پبلشنگ کی صنعت سے وابستہ رہیں اور اس دوران بغیر کسی ٹیکنالوجی کے درجنوں کتابیں لکھیں۔
تاہم  اے آئی کے مختلف ماڈلز کو سمجھنے اور ایک مکمل کتاب کا فریم ورک تیار کرنے میں انہیں تین ماہ کا عرصہ لگا۔
آج وہ مختلف اے آئی ٹولز کو ایک استاد کی طرح استعمال کرتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی مکالموں کے لیے بہترین ہے لیکن نثر کے لیے کمزور ہے جبکہ کلاڈ کہانی کی ساخت کے لیے بہترین ہے مگر جذبات نگاری میں اتنا مؤثر نہیں۔
وہ بتاتی ہیں ’اگر آپ چیٹ جی پی ٹی یا کلاڈ سے کہیں گے کہ ’مجھے ایک کتاب لکھ کر دو‘ تو جواب میں ایک بے رنگ اور ناکارہ مواد ہی سامنے آئے گا۔ اصل کام مصنف کا ہے۔‘
کورل ہارٹ سب سے پہلے کہانی کا بنیادی مفہوم، اس کا اسلوب، کرداروں کی تفصیلات اور باب وار خاکہ خود تیار کرتی ہیں جس کے بعد ان کا نظام پوری کتاب کا مسودہ تیار کرتا ہے۔ جہاں پہلے ایک ایک پیراگراف کے لیے بار بار کمانڈ دینی پڑتی تھی، وہاں اب ایک ہی بار میں پورا مسودہ تیار ہو جاتا ہے۔
Amazon.com: Coral Hart: books, biography, latest update
کورل ہارٹ مختلف اے آئی ٹولز کو ایک استاد کی طرح استعمال کرتی ہیں (فائل فوٹو: ایمیزون)

’کتابیں بک رہی ہیں، یہی سچ ہے‘
پہلا مسودہ تیار ہونے کے بعد اسے اے آئی کے ذریعے ہی جانچا جاتا ہے تاکہ کہانی کا تسلسل، کرداروں کا ارتقاء اور چھوٹے موٹے تضادات دور کیے جا سکیں۔
اس کے بعد ایک انسانی پروف رِیڈر پورے متن کو پڑھتا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی مصنوعی جھلک کو ختم کیا جا سکے۔
اگرچہ ان کے ایک ناول نے ایمیزون کی ٹاپ 100 بہترین فروخت ہونے والی کتابوں میں جگہ بنائی لیکن ان کی 370 سے زائد کتابوں کی بڑی تعداد مارکیٹ کی طلب کے مطابق لکھی گئی ہے۔ وہ اب تک ڈیجیٹل، پرنٹ اور آڈیو فارمیٹس میں 10 لاکھ سے زائد کتابیں فروخت کر چکی ہیں اور اس سال اب تک 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی رقم کما چکی ہیں۔
وہ اب ایک ایسے ادارے کی سربراہی کر رہی ہیں جو سینکڑوں افراد کو اس طریقہ کار کی تربیت دے چکا ہے اور وہ اے آئی مصنفین کے لیے ’Authorythm‘ نامی ایک نیا سافٹ ویئر بھی متعارف کرانے والی ہیں۔
سوشل میڈیا پر ’اے آئی کے ناقص مواد‘ کے طعنوں کا جواب دیتے ہوئے کورل ہارٹ کہتی ہیں ’صارفین بیکار کتابیں نہیں پڑھتے، وہ انہیں واپس کر دیتے ہیں۔ اگر میری کتابیں بک رہی ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ پڑھنے والے انہیں پسند کر رہے ہیں۔‘
حالیہ فرانسیسی گونکور پرائز کے تنازع کا ذکر کرتے ہوئے، جہاں ایک ناول کو اے آئی کے استعمال کے خدشے پر دوڑ سے باہر کر دیا گیا، کورل ہارٹ سوال اٹھاتی ہیں ’اگر آپ کو کسی چیز سے نفرت کرنے کے لیے ’اے آئی لیبل‘ کی ضرورت پڑتی ہے تو آپ واقعی اس کتاب سے نفرت کرتے ہیں یا صرف اے آئی سے؟‘

شیئر: