روس میں چار برس سے قید امریکی شہری رہا، ’ٹرمپ کی طرح پوتن بھی انسان دوست شخصیت‘
جمعرات 22 اکتوبر 2026 8:37
روس نے چار سال سے قید اس امریکی شہری کو رہا کر دیا تھا جس پر الزام تھا کہ وہ کرائے کے فوجی کے طور یوکرین کی جانب سے لڑائی کے لیے آیا تھا۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اس شخص کا نام سٹیفن ہبارڈ ہے اور عمر 74 سال ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے حالیہ فون کال کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوتن سے سٹیفن ہبارڈ کی رہائی کی درخواست کی تھی۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس رہائی کے بدلے میں کسی روسی شہری کو رہا نہیں کیا گیا۔
سٹیفن ہبارڈ کی رہائی ایسے وقت ہوئی جب امریکی نمائندے سٹیو وٹکوف روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ کے دورے پر تھے۔
انہوں نے ملاقات کے دوران صدر ولادیمیر پوتن کو ایک انسان دوست شخصیت قرار دیا جبکہ اس دورانں یوکرین پر روسی حملے اور جنگ ختم کرنے کے لیے ممکنہ معاہدے پر بھی بات ہوئی۔
سٹیفن ہبارڈ کئی سال سے یوکرین میں رہے تھے، ان کے بارے میں روسی حکام کا کہنا کہ انہوں نے 2022 میں روسی حملے کے بعد یوکرینی فوج کے ساتھ معاہدہ کیا اور اس کی جانب سے روس کے خلاف لڑے تاہم دو ماہ بعد ان کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
اس کے بعد 2024 میں عدالتی کارروائی کے بعد ان کو سات سال قید کی سزا سنائی گئی۔
سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے ان کو امریکی شہری قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ روس نے ان کو بے جا طور پر حراست میں لیا گیا جبکہ ان کی فیملی اور وکلا نے بھی روسی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کسی فوجی سرگرمی میں شریک نہیں رہے۔
سٹیفن ہبارڈ کی بہن پیٹریشیا ہبارڈ فاکس نے خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ان کے بھائی کو صرف امریکی شہری ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا اور واپسی کے بعد سٹیفن ان کے ہمراہ ریاست کولوڈار میں رہیں گے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی بھی امریکی شہری کو بغیر کسی وجہ کے گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
’پوتن انسان دوست شخصیت ہیں‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے سٹیو وٹکوف نے امریکی شہری کو رہا کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سٹیفن کبارڈ جلد اپنے گھر والوں سے ملنے جا رہے ہیں۔
انہوں نے پوتن سے کہا کہ ’آپ اکثر ہمارے صدر ٹرمپ کو انسان دوست کہتے ہیں مگر آپ بھی انسان دوست شخصیت ہیں۔‘ ‘‘
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بدھ کو روسی میڈیا کو بتایا کہ امریکہ نے کچھ عرصہ قبل سٹیفن ہبارڈ کی رہائی مطالبہ کیا تھا اور صدر پوتن نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر انہیں رہا کرنے کا فیصلہ کیا۔
پوتن کا نیک تمناؤں کا اظہار
روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف کا کہنا ہے کہ صدر پوتن نے سٹیفن ہبارڈ کو معاف کر دیا تھا۔ رہائی کے بعد ہبارڈ کو سینٹ پیٹرزبرگ کے پلکووو ایئرپورٹ لے جایا گیا، جہاں سے وٹکوف انہیں امریکہ واپس لے جانے والے تھے۔
ویڈیو میں وٹکوف اور سٹیفن ہبارڈ کو ہاتھ ملاتے دیکھا گیا انہوں نے امریکی نمائندے کا شکریہ ادا کیا جس پر وٹکوف نے ان کا تعارف روسی نمائندے کیرل دمتریف سے کرایا اور کہا کہ رہائی میں ان کا اہم کردار تھا۔
انہوں نے سٹیفن ہبارڈ سے یہ بھی کہا کہ ’ہماری ابھی صدر پوتن سے ملاقات ہوئی ہے، وہ آپ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کر رہے تھے۔‘
سٹیفن ہبارڈ امریکی فضائیہ میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ بیرون ملک انگریزی پڑھاتے رہے اور 2012 میں ریٹائر ہونے کے بعد قبرص منتقل ہوئے بعدازاں وہ یوکرین چلے گئے تھے اور 2022 میں روسی حملے کے وقت بھی وہیں موجود تھے۔