لاہور کے علاقے مزنگ لنک روڈ پر سکوٹی سوار لڑکی کا راستہ روک کر اسے تشدد کا نشانہ بنانے والے ملزم سید مدثر الحسن کو عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
سنیچر کو عدالت نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ملزم کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے اور کہا کہ اگر ملزم کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں ہے تو رہا کیا جائے۔
لاہور کے تھانہ مزنگ کی پولیس نے ملزم کو گزشتہ روز گرفتار کیا تھا عدالت سے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی استدعا کی تھی۔
مزید پڑھیں
وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے ملزم کی رہائی کی خبر پر ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’افسوس۔‘
اس سے قبل انہوں نے ایک ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ ’میں نے خود اس لڑکی سے بات کی اور اسے کہا کہ وہ اس آدمی کو اتنے ہی تھپڑ مارے جتنے اس نے اسے مارے تھے۔ لیکن اس نے جواب دیا کہ اس کے لیے یہی کافی ہے کہ حکومت نے اسے یہ احساس دلایا کہ وہ محفوظ ہے، اس کا خیال رکھا جا رہا ہے، اور اسے یقین دلایا گیا ہے کہ انصاف اس کے ساتھ ہے۔‘
پولیس کے مطابق یہ واقعہ 20 اکتوبر کو اس وقت پیش آیا جب لڑکی مزنگ لنک روڈ سے گزر رہی تھی۔
ملزم نے مبینہ طور پر اپنی موٹرسائیکل لڑکی کی سکوٹی کے آگے لا کر اس کا راستہ روکا اور اسے سکوٹی سے گرا کر تشدد کا نشانہ بنایا۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے جس میں ایک موٹرسائیکل سوار کو لڑکی کی سکوٹی کے سامنے رک کر اس پر تشدد کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) October 24, 2026
جس میں وہ لڑکی کو مارتا ہے اور زمین پر گرا دیتا ہے۔ اس دوران شور مچنے پر لوگ موقع پر جمع ہو جاتے ہیں۔
متاثرہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں تھانہ مزنگ میں درج مقدمے کے متن کے مطابق ان کی بیٹی 20 اکتوبر کو شام چار بج کر 45 منٹ پر سکوٹی پر جا رہی تھی کہ ایک نامعلوم موٹرسائیکل سوار نے اسے اوورٹیک کیا اور رکنے کو کہا۔
لڑکی کے نہ رکنے پر ملزم نے مبینہ طور پر اس کی سکوٹی کو ٹکر ماری اور پھر اپنی موٹرسائیکل آگے لا کر اس کا راستہ روک لیا۔
مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزم نے لڑکی سے موبائل فون اور لیپ ٹاپ چھیننے کی کوشش کی۔
اسے سکوٹی سے نیچے گرایا، تھپڑ مارے، بال نوچے اور گالم گلوچ کرتے ہوئے ہراساں کیا۔
I spoke to the girl myself and told her that she should slap the man as many times as he had slapped her. But she said that, for her, it was enough that the government had made her feel protected, cared for, and assured that justice was on her side.
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) October 24, 2026
لڑکی کے والد کے مطابق تشدد سے ان کی بیٹی کے چہرے اور ناک پر زخم آئے جبکہ لیپ ٹاپ بھی ٹوٹ گیا جس کی مالیت 85 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔
مقدمے کے متن کے مطابق لڑکی کے شور مچانے پر لوگ جمع ہو گئے جس کے بعد ملزم فرار ہو گیا۔
موقع پر موجود افراد نے اس کی موٹرسائیکل قبضے میں لے کر پولیس کو اطلاع دی۔












