پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک ویڈیو نے ملک میں ایک نئے قانونی، اخلاقی اور سیاسی مباحثے کو جنم دے دیا ہے۔
اس واقعے میں جہاں ایک طرف ملزم کی گرفتاری اور کمزور طبقے سے ہمدردی کے اقدام کو سراہا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف پولیس حراست میں ملزم پر ہونے والے جوابی تشدد کی منظر کشی پر ناقدین اسے ’ڈیروں اور جرگوں کے کلچر‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے سوالات اٹھا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
واقعہ کیا تھا؟
لاہور کے علاقے چوہنگ میں پیش آنے والے اس واقعے کی ایف آئی آر کے مطابق ایک شخص اپنی گاڑی میں پیٹرول ڈلوانے آیا جہاں اس نے مبینہ طور پر سگریٹ نوشی شروع کر دی۔
ایف آئی آر میں درج ہے کہ ’پیٹرول پمپ کے عملے نے سگریٹ نوشی کے باعث آگ لگنے کے خدشے کے پیش نظر مذکورہ شخص کو ایسا کرنے سے منع کیا۔ تاہم اس شخص نے بات ماننے کے بجائے عملے کے لڑکوں سے لڑائی جھگڑا اور بدتمیزی شروع کر دی۔‘
’ملازمین کے جمع ہونے پر ملزم مبینہ طور پر اسلحہ لہراتے ہوئے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے گاڑی میں فرار ہو گیا۔‘
متاثرہ ورکر کی درخواست پر چوہنگ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کیا۔
پولیس کے مطابق ’کرایہ داری کے ریکارڈ اور رسیدوں کی مدد سے ملزم کی شناخت کی گئی اور بعد ازاں اسے گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے دوران ملزم نے مزاحمت کی کوشش کی اور اس کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا۔‘
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی پوسٹ میں کیا تھا؟
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 23 اکتوبر کی شب اپنے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) ہینڈل پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں ایک ہی فریم میں دو ویڈیوز موجود تھیں۔
پہلی ویڈیو میں ایک شخص سیاہ گاڑی سے نکل کر پیٹرول پمپ کے ملازم کو تھپڑ مارتا دکھائی دیتا ہے جبکہ دوسری ویڈیو میں اسی شخص کو پولیس حراست میں وہی ملازم تھپڑ مارتا نظر آتا ہے۔
مریم نواز نے اپنی پوسٹ میں لکھا ’یہ اُن بگڑے ہوئے اور مغرور لوگوں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے جو غریبوں کو اپنے سے کمتر انسان سمجھتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ دولت اور طاقت کے بل بوتے پر وہ قانون سے بالاتر ہو سکتے ہیں اور جو چاہیں کر کے بچ نکلیں گے۔ بطور وزیرِ اعلیٰ پنجاب، میں مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہوں، چاہے اُن پر ظلم کرنے والا کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ کسی کی دولت، اثر و رسوخ یا سیاسی تعلقات اُسے قانون کے کٹہرے میں جواب دہ ہونے سے نہیں بچا سکتے۔‘
یہ اُن بگڑے ہوئے اور مغرور لوگوں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے جو غریبوں کو اپنے سے کمتر انسان سمجھتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ دولت اور طاقت کے بل بوتے پر وہ قانون سے بالاتر ہو سکتے ہیں اور جو چاہیں کر کے بچ نکلیں گے۔ بطور وزیرِ اعلیٰ پنجاب، میں مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہوں، چاہے اُن پر ظلم کرنے والا کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ کسی کی دولت، اثر و رسوخ یا سیاسی تعلقات اُسے قانون کے کٹہرے میں جواب دہ ہونے سے نہیں بچا سکتے۔ انصاف صرف امیر اور طاقتور لوگوں کا حق نہیں، بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ قانون سے بالاتر کوئی نہیں، اور کسی مظلوم کو محض اس لیے تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا کہ اُس کے خلاف کھڑا ہونے والا شخص دولت اور طاقت رکھتا ہے۔ میرا عزم واضح ہے: مظلوم کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی، اور کسی کو بھی اپنے پیسے یا طاقت کے بل بوتے پر قانون سے بچ نکلنے کا حق نہیں دیا جا سکتا-
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) October 23, 2026
انہوں نے لکھا کہ ’انصاف صرف امیر اور طاقتور لوگوں کا حق نہیں بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ قانون سے بالاتر کوئی نہیں، اور کسی مظلوم کو محض اس لیے تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا کہ اس کے خلاف کھڑا ہونے والا شخص دولت اور طاقت رکھتا ہے۔ میرا عزم واضح ہے۔ مظلوم کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی اور کسی کو بھی اپنے پیسے یا طاقت کے بل بوتے پر قانون سے بچ نکلنے کا حق نہیں دیا جا سکتا۔‘
’یہ آئین و قانون کے منافی ہے‘
وزیراعلیٰ کی اس پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا صارفین، قانونی ماہرین اور صحافیوں کی جانب سے اس کارروائی پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
ایکس صارف ڈاکٹر وقاص نواز نے لکھا کہ ’یہ کٹہرے کا انصاف نہیں ہے، یہ اس طرح جرگوں میں انصاف ہوتا ہے، اڈوں پہ انصاف ہوتا ہے، ڈیروں پہ انصاف ہوتا ہے، کٹہرے میں ایسے نہیں ہوتا۔ میرے خیال میں اب جبکہ دوسرے شخص نے بھی اس کو تھپڑ مار لیا ہے تو اب دونوں کو ہی جیل میں بند کر دینا چاہیے کیونکہ دونوں نے ہی قانون توڑا ہے۔ چیف منسٹر صاحبہ کو بھی ان کی ٹیم سمجھائے کہ جو آن-جاب ٹریننگ ہو رہی ہے وہ دنیا کو نہ بتائیں کہ تماشا لگ رہا ہے۔ آپ نے قانون اور آئین کے تحت چلنا ہے، کسی ڈیرے، وڈیرے یا گلی محلے کے قانون کے حساب سے نہیں چلنا۔‘
ٹی وی میزبان عاصمہ اقبال نے لکھا کہ ’کمال ہو گیا مریم صاحبہ۔۔۔ ایک شخص نے قانون ہاتھ میں لیا، پولیس نے اسے قانون کے تحت گرفتار کر لیا، یہاں تک سب درست اور قابل تحسین ہے۔ لیکن اس کے بعد جو آپ نے کیا اور جو اس غریب انسان سے کروایا وہ دونوں کام قابل افسوس ہیں۔‘
کمال ہوگیا مریم صاحبہ ۔۔۔ ایک شخص نے قانون ہاتھ میں لیا ۔۔ پولیس نے اسے قانون کے تحت گرفتار کرلیا یہاں تک سب درست اور قابل تحسین ہے لیکن اسکے بعد جو آپ نے کیا وہ اور جو اس غریب انسان سے کروایا وہ دونوں کام قابل افسوس ہیں ۔۔۔ تھانے کے اندر ایک شخص سے ویڈیو بنوائی جارہی ہے پہلے سے سیٹ ماحول میں اس ملزم کو لاکر تھپڑ لگوائے جاتے ہیں ۔۔۔ اور باقاعدہ اسکی وڈیو بناکر وزیراعلی کو بھیجی جاتی ہے اور وہ موصوفہ اسے ٹوئیٹ کرکے داد وصول کرنے کا آرزو رکھتی ہیں ۔۔۔ قانون کی خلاف ورزی کروا کر آپ کیا پیغام دے رہی ہیں ۔۔ ؟ کیا لوگ اسی طرح ایک دوسرے سے انتقام خود لیں ؟ قانون اور عدالت فیصلے نہ کرے ۔۔؟
— Asma Iqbal (@Aasma_Official) October 23, 2026
انہوں نے لکھا ’تھانے کے اندر ایک شخص سے ویڈیو بنوائی جا رہی ہے، پہلے سے سیٹ ماحول میں اس ملزم کو لا کر تھپڑ لگوائے جاتے ہیں اور باقاعدہ اس کی ویڈیو بنا کر وزیراعلیٰ کو بھیجی جاتی ہے اور وہ اسے ٹویٹ کر کے داد وصول کرنے کی آرزو رکھتی ہیں۔ قانون کی خلاف ورزی کروا کر آپ کیا پیغام دے رہی ہیں؟ کیا لوگ اسی طرح ایک دوسرے سے انتقام خود لیں؟ قانون اور عدالت فیصلے نہ کریں؟‘
رضا گوندل نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’اگرچہ یہ پیغام جانا اچھا ہے کہ ریاست مظلوم کے ساتھ ہے، تاہم اس سے دنیا پر منفی اثر پڑے گا کہ ایک مدعی پولیس کی مرضی سے زیر حراست ملزم پر تشدد کر رہا ہے۔ اس سے بہتر تھا کہ آپ قانون کے مطابق اس کو قید کروا دیتیں، جو بھی چھ ماہ یا دو سال سزا بنتی تھی۔‘
خالد محمود نے پولیس انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ’جس نے پولیس کی حراست میں مارا ہے اس کے اوپر ایف آئی آر ہونی چاہیے اور پولیس کا عملہ معطل ہونا چاہیے جو ایک گرفتار آدمی کی تھانے میں حفاظت نہ کر سکا۔‘
ایک صارف یاسمین فیض نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ’جب تھپڑ کے بدلے تھپڑ مار دیا ہے تو پھر اس کو گرفتار کرنے کی کیا ضرورت ہے، چھوڑ دیں اسے، پولیس کا کام ختم! قانون کا کیا کرنا ہے۔‘
ایکس ہینڈل ’دا فن ڈوز‘ نے ایک اور ہائی پروفائل کیس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ ”رضا ڈار کیس کا کیا بنا، وہ بھی تو طاقتور خاندان ہے، ذرا اس پر بھی روشنی ڈالیں۔“
’عام آدمی کو تحفظ کا احساس ملا‘
دوسری جانب کچھ صارفین نے اس کارروائی کی کھل کر حمایت کی اور اسے بااثر طبقے کے خلاف ایک جرات مندانہ اقدام قرار دیا۔
اسد آر چوہدری نامی صارف نے لکھا کہ ’اس چند سیکنڈ کی ویڈیو نے مریم نواز کی سیاست کو نئے مقام پر کھڑا کر دیا ہے۔ حالیہ تاریخ میں پہلی بار کسی حکمران نے غریب سے استحصالی امیر کو خود ’طمانچہ‘ مروایا ہے اور غریب کی عزتِ نفس بحال کروائی ہے۔ یہ عوامی راج کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔‘

نوشاد راؤ نے تبصرہ کیا کہ ’بہت ہی اعلیٰ! کیا کسی اور صوبے کا وزیراعلیٰ اتنی جرات دکھا سکتا ہے کہ اپنے صوبے کے کسی لینڈ کروزر یا پراڈو والے کے منہ پر کسی غریب دیہاڑی دار سے چپیڑیں پڑوائے؟ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ خواب میں بھی ایسا نہیں سوچ سکتے۔‘
احسان الحق کا کہنا تھا کہ ’پہلی بار کسی کو فوری انصاف ملا، لیکن اب اس غریب انسان کی جان کو بھی خطرہ ہے۔ اس کی حفاظت کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔‘












