Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آذربائیجان کی خاتون سے لاہور میں مبینہ اجتماعی زیادتی، ڈیانا اپنے بیان سے کیوں مُکر گئیں؟

ملزم کو گرفتار کرنے سے متعلق پنجاب پولیس یا سی سی ڈی کی جانب سے باضابطہ طور ہر بیان جاری نہیں کیا گیا (فوٹو: پنجاب پولیس)
لاہور میں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی خاتون ڈیانا کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کا مقدمہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
واضح رہے کہ ابتدائی طور پر خاتون نے مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کراتے ہوئے تین مَردوں پر مبینہ زیادتی کے الزامات عائد کیے تھے۔ تاہم جمعے کو سامنے آنے والے ویڈیو بیانات میں خاتون نے احمد تنویر کو بے قصور قرار دیتے ہوئے مقدمہ ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔
اس سے قبل جمعے کو لاہور کی سیشن عدالت میں ملزم احمد تنویر کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی اور ضمانت میں 27 اکتوبر تک توسیع کردی گئی۔
تاہم ملزم اور ان کے ساتھیوں کو مبینہ طور پر کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے سیشن کورٹ کے باہر سے حراست میں لیا۔
اس کے بعد ملزم کے وکیل نے اس گرفتاری کو عدالتی حکم کے منافی قرار دیتے ہوئے اُن کی بازیابی کے لیے درخواست دائر کی۔
ملزم کو گرفتار کرنے سے متعلق پنجاب پولیس یا سی سی ڈی کی جانب سے باضابطہ طور ہر بیان جاری نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ’ایکس‘ پر نام لیے بغیر ایک زیادتی کیس میں متاثرہ خاتون پر مبینہ مالی دباؤ اور عدالتی عمل میں رشوت کے الزامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انصاف دولت، اثر و رسوخ اور تعلقات کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔‘
مقدمہ کیا ہے اور ایف آئی آر میں کیا الزام لگایا گیا تھا؟
لاہور کے تھانہ ڈیفنس سی میں درج مقدمے کے مطابق ڈیانا نے الزام عائد کیا تھا کہ ستمبر میں لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے میں دو خواتین کے ذریعے انہیں ایک مقام پر لے جایا گیا جہاں تین مرد پہلے سے موجود تھے۔

خاتون نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ ان کے موبائل فونز اور دیگر سامان واپس نہیں کیا گیا (فوٹو: سوشل میڈیا)

اس حوالے سے درج مقدمے میں خاتون نے الزام لگایا تھا کہ انہیں ایک اپارٹمنٹ میں لے جانے کے بعد نشہ آور چیز پلائی گئی اور تین مردوں نے ان کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کی۔
خاتون نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ ان کے موبائل فونز اور دیگر سامان واپس نہیں کیا گیا اور بعد ازاں انہیں گاڑی میں لے جا کر غازی انٹرچینج کے قریب چھوڑ دیا گیا۔
اس شکایت کی بنیاد پر تھانہ ڈیفنس سی میں مقدمہ درج کیا گیا اور تفتیش شروع ہوئی۔ مقدمے میں محسن، احمد تنویر اور علی زین کے نام سامنے آئے جبکہ خاتون نے نمرہ اور مُسکان کا ذکر بھی کیا تھا۔
دفعہ 164 کے بیان میں ڈیانا نے کیا کہا تھا؟
ڈیانا کا مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے تحت بیان 28 ستمبر کو ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس بیان میں انہوں نے واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے تین مردوں پر مبینہ زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔
ڈیانا نے بتایا کہ وہ 13 ستمبر کو استنبول سے اسلام آباد پہنچی تھیں اور پانچ روز فیصل آباد میں قیام کے بعد لاہور آئیں۔
ان کے مطابق وہ سکردو جانا چاہتی تھیں لیکن تنہا ہونے کی وجہ سے انہوں نے نمرہ اور مسکان سے لاہور میں ملاقات کے لیے رابطہ کیا۔

ڈیانا کے مطابق علی زین نے انہیں دھمکی دی اور کہا کہ پہلے شراب پیو، پھر جانے دیا جائے گا (فوٹو: اینواتو)

ڈیانا کے بیان کے مطابق وہ رات قریباً 11 بجے ایک کیفے میں مسکان سے ملیں۔ مسکان نے انہیں بتایا کہ نمرہ انتظار کر رہی ہیں جس کے بعد وہ مسکان کے ساتھ بحریہ ٹاؤن چلی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ رات قریباً دو بجے ایک سفید گاڑی میں احمد اور محسن وہاں پہنچے۔ ان کے مطابق بعد میں اپارٹمنٹ میں مزید دو افراد آئے جن میں سے ایک کا نام علی زین تھا جبکہ دوسرے شخص کی شناخت سے وہ واقف نہیں تھیں۔
ڈیانا نے الزام لگایا کہ نمرہ نے محسن سے 20 سے 30 ہزار روپے لیے اور انہیں بتایا کہ یہ رقم پارٹی کے لیے ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے شراب پینے سے انکار کیا اور واپس جانے کی خواہش ظاہر کی لیکن انہیں جانے نہیں دیا گیا۔
دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ بیان میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ محسن نے انہیں چُھونے کی کوشش کی اور ایک الگ کمرے میں بند کردیا۔
ڈیانا کے مطابق علی زین نے انہیں دھمکی دی اور کہا کہ پہلے شراب پیو، پھر جانے دیا جائے گا۔ اپنے دفعہ 164 کے بیان میں ڈیانا نے محسن، احمد اور علی زین پر مبینہ زیادتی کا الزام لگایا تھا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بعد میں انہیں گاڑی میں لے جایا گیا جس میں محسن، احمد اور علی زین موجود تھے۔
ڈیانا کے مطابق ان کے بیگ میں دو لاکھ روپے نقد، آئی فون 13 پرو میکس اور ریڈمی موبائل فون تھا لیکن بار بار مطالبے کے باوجود انہیں سامان واپس نہیں کیا گیا۔

ویڈیو بیان میں ڈیانا نے سوال اٹھایا کہ پولیس نے احمد تنویر کو کس بنیاد پر گرفتار کیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ڈیانا کا نئے ویڈیو بیانات: احمد تنویر کو بے قصور قرار دے دیا
جمعہ 23 اکتوبر کو ڈیانا کے دو ویڈیو بیانات سامنے آئے جن میں انہوں نے احمد تنویر کو بے قصور قرار دیتے ہوئے مقدمہ ختم کرنے کی اپیل کی۔
ایک ویڈیو کے آغاز میں ڈیانا نے کہا کہ وہ یہ بیان 9 اکتوبر کو ریکارڈ کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق احمد تنویر نے ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی اور نہ ہی ان کا موبائل فون چھینا تھا۔
ڈیانا نے اپنے پہلے بیان کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے وہ بیان دباؤ میں آکر دیا تھا۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ مقدمہ ختم کردیا جائے اور اس معاملے کو مزید آگے نہ بڑھایا جائے۔
ویڈیو بیان میں ڈیانا نے سوال اٹھایا کہ پولیس نے احمد تنویر کو کس بنیاد پر گرفتار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے بھی عدالت میں پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرانا چاہتی تھیں لیکن انہیں بتایا گیا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اور انہیں زبردستی پاکستان سے بھیج دیا گیا۔
ڈیانا کی جانب سے جاری کیے گئے ویڈیو بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انہیں اپنی مرضی سے اظہار خیال کرنے اور فیصلہ کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس پورے معاملے میں ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا جیسے وہ خود مجرم ہوں اور انہیں ملک سے نکالا جا رہا ہو۔ انہوں نے محسن اور عزیر کو بھی معاف کرنے اور معاملہ مزید آگے نہ بڑھانے کی بات کی۔

جمعہ 23 اکتوبر کو لاہور کی سیشن عدالت میں احمد تنویر کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی (فوٹو: پکسابے)

اردو نیوز نے ڈیانا سے ویڈیو بیان کی تصدیق کے لیے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم رابطہ قائم نہ ہوسکا جس کی وجہ سے ویڈیو کی آزادانہ تصدیق نہ ہوسکی۔
لاہور سیشن کورٹ میں کیا ہوا؟
جمعہ 23 اکتوبر کو لاہور کی سیشن عدالت میں احمد تنویر کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ ملزم کی جانب سے ایڈووکیٹ صفدر شاہین پیرزادہ پیش ہوئے۔ ملزم کو کمرۂ عدالت میں شامل تفتیش کرایا گیا۔
عدالت نے بعد ازاں اس کی عبوری ضمانت میں 27 اکتوبر تک توسیع کردی۔ سماعت کے دوران ڈیانا کے وکیل نے درخواست دائر کی کہ مدعیہ کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے۔
وکیل کا موقف تھا کہ ڈیانا کو پاکستان کا ویزہ نہیں دیا جا رہا، اس لیے انہیں عدالت میں ذاتی طور پر پیش کرنے کے بجائے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان دینے کی اجازت دی جائے۔
وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ مدعیہ کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرنے کا حکم دیا جائے۔ عدالت نے اس درخواست پر دلائل طلب کرلیے۔
ضمانت میں توسیع کے بعد تنویر کی گرفتاری کا دعویٰ
عدالتی سماعت کے بعد اطلاعات سامنے آئیں کہ سی سی ڈی نے مبینہ طور پر احمد تنویر کو سیشن کورٹ لاہور کے باہر سے حراست میں لے لیا ہے۔ اس حوالے سے کئی ویڈیوز بھی سامنے آئیں۔

درخواست گزار نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے میں نقصان پہنچایا جا سکتا ہے (فوٹو: پنجاب پولیس)

ذرائع کے مطابق احمد تنویر کے بھائی سمیت اس کے ہمراہ آنے والے دیگر افراد کو بھی حراست میں لیا گیا، تاہم سی سی ڈی یا پنجاب پولیس کی جانب سے ملزم تنویر کی گرفتاری کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
ضمانت کے باوجود مبینہ گرفتاری کے بعد ملزم کے وکیل صفدر شاہین پیرزادہ کی جانب سے سیشن عدالت میں بازیابی کی درخواست دائر کی گئی۔
درخواست گزار کے مطابق عدالت نے احمد تنویر کی عبوری ضمانت میں 27 اکتوبر تک توسیع کرتے ہوئے اسے گرفتار کرنے سے روک دیا تھا لیکن اس کے باوجود اسے عدالت سے باہر نکلتے ہی حراست میں لے لیا گیا۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ ملزم کو فوری طور پر بازیاب کرا کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔ درخواست گزار نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے میں نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔
مریم نواز کا بیان: ڈیڑھ سے دو کروڑ روپے کی مبینہ پیش کش اور جج کو رشوت دینے کا الزام
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے نام لیے بغیر ایک حالیہ زیادتی کیس کے حوالے سے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ملزم کے امیر خاندان نے مبینہ طور پر متاثرہ خاتون کو الزامات واپس لینے کے بدلے ڈیڑھ سے دو کروڑ روپے دینے کی پیش کش کی حالانکہ خاتون کا دفعہ 164 کے تحت بیان پہلے ہی ریکارڈ کیا جا چکا تھا۔
انہوں نے یہ الزام بھی بیان کیا کہ ملزم کو ضمانت دینے والے جج کو رشوت دی گئی تھی۔ مریم نواز کے مطابق اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نظام انصاف کی شفافیت اور ساکھ کے حوالے سے انتہائی تشویش ناک سوالات اٹھاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایسے مقدمات پر نظر رکھیں گی تاکہ کوئی بھی ملزم یا مجرم محض دولت، اثر و رسوخ یا تعلقات کی بنیاد پر انصاف سے نہ بچ سکے۔
دوسری جانب ڈی آئی جی انویسٹیگیشن لاہور سید ذیشان رضا نے 23 اکتوبر کو جاری بیان میں کہا کہ سوشل میڈیا پر متاثرہ خاتون کا ویڈیو بیان ریکارڈ کرکے مقدمے کی تفتیش کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق متاثرہ خاتون کا ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیان پہلے ہی عدالت میں ریکارڈ ہو چکا ہے جس میں وہ تین ملزمان کے خلاف زیادتی کا بیان دے چکی ہیں۔
ڈی آئی جی انویسٹیگیشن کے مطابق مقدمے میں گرفتار دیگر دو ملزمان بھی تیسرے ملزم احمد تنویر کے ملوث ہونے کا اعتراف کر چکے ہیں۔
سید ذیشان رضا نے کہا کہ تیسرے ملزم کو ہر صورت تفتیش میں شامل کرکے مقدمے کی تفتیش میرٹ پر مکمل کی جائے گی۔

 

شیئر: