Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ریاض، طائف اور ینبع میں 3 بیلسٹک میزائل تباہ، مکہ اور جدہ میں خطرے کے الرٹ واپس

اس سے قبل ریاض میں بیلسٹک میزائل اور شرقیہ میں ایک ڈرون کو تباہ کیا گیا( فوٹو: ایس پی اے)
یمن کی قانونی حکومت کی حمایت کرنے والی اتحادی افواج نے سنیچر کو سعودی عرب میں حوثی ملیشیا کی جانب سے طائف اور ینبع کی جانب داغے جانے والے دو بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
 سعودی سول ڈیفنس نے اپنے ’ارلی وارننگ پلیٹ فارم‘ کے ذریعے الرٹ جاری کرتے ہوئے جدہ، مکہ مکرمہ، طائف اور ینبع میں ممکنہ فضائی خطرات کے بارے میں خبردار کیا تاہم کچھ دیگر بعد خطرہ ٹل جانے کا اعلان کیا گیا۔
اس سے قبل ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اتحادی افواج کے ترجمان برگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے بتایا تھا ’فضائی دفاعی نظام نے دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے ریاض کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو روک کر تباہ کر دیا۔‘
ایک اور پوسٹ میں ترکی المالکی نے بتایا تھا کہ ’شرقیہ میں ایک ڈرون کو روک کر تباہ کیا گیا تھا۔‘
سعودی عرب کو حالیہ ہفتوں میں ڈرون اور میزائل حملوں کی مسلسل لہر کا سامنا رہا ہے جن میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کیا جانے والا ایک بڑا حملہ بھی شامل ہے جو کہ سعودی عرب میں حالیہ برسوں کا مہلک ترین حملہ تھا۔
سعودی عرب کی یمن کے ساتھ جنوب مغربی سرحد پر واقع علاقہ نجران مسلسل سرحدی پار سے ہونے والی راکٹ اور ڈرون باری کی زد میں رہا ہے جبکہ وادی الدواسر، صوبہ ریاض کے جنوبی علاقوں میں ربع الخالی کے قریب واقع ہے۔
اگرچہ حوثی وقت فوقت سعودی سرزمین کو نشانہ بنانے والے مخصوص آپریشنز سے لاعلمی کا اظہار کرتے رہے ہیں تاہم سرحد پار سے ہونے والے حملوں میں شدید اضافہ ہوا ہے۔
شدید کشیدگی کا یہ تازہ سلسلہ جولائی میں چار سالہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد شروع ہوا ہے جس میں امریکہ اور ایران کے درمیان وسیع تر علاقائی کشیدگی کے باعث مزید شدت آئی ہے۔
یمن میں جنگ کا آغاز 2014 کے آخر میں اس وقت ہوا تھا جب حوثیوں نے صنعا پر قبضہ کر لیا تھا جس نے اب تک سیکڑوں ہزاروں افراد کی جانیں لے لی ہیں اور جزیرہ نما عرب کے اس غریب ترین ملک کو دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک میں دھکیل دیا ہے۔

 

شیئر: