احتجاج سے اقتدار تک: سربیا کے طلبہ کی ’بے قائد‘ تحریک نے سیاسی میدان کیسے مارا؟
احتجاج سے اقتدار تک: سربیا کے طلبہ کی ’بے قائد‘ تحریک نے سیاسی میدان کیسے مارا؟
منگل 27 اکتوبر 2026 6:49
ریلوے سٹیشن کی چھت گرنے پر شروع ہونے والی تحریک ملک میں بڑی سیاسی تبدیلی لائی ہے (فوٹو: اے پی)
سربیا میں طلبہ کا طویل احتجاجی تحریک سیاسی میدان میں ایک بڑی تبدیلی لے آیا ہے اور صدر الیگزینڈر ووچچ کا 14 سالہ دور حکمرانی ختم ہو گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بدعنوانی کے خلاف طلبہ کی کا سلسلہ دو برس سے جاری تھا جو کہ نومبر 2024 میں ریلوے سٹیشن کی چھت گرنے کے بعد شروع ہوا تھا۔
طلبہ سے منسلک امیدواروں نے انتخابات میں کامیابی سمیٹی ہے اور اب حکومت بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔
یکم نومبر 2024 کو شہر نووی ساد کے ریلوے سٹیشن کے داخلی دروازے پر بنی کنکریٹ کی چھت گر گئی تھی جس کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک ہوئے۔
اس سٹیشن کو مرمت کے بعد تھوڑا عرصہ قبل ہی کھولا گیا تھا جس پر عوام میں شدید غصے کی لہر پیدا ہوئی۔
واقعے کی فوری تحقیقات کے مطالبے کے ساتھ شروع ہونے والے پُرامن مظاہرے کئی ماہ تک جاری رہے اور بعد میں بڑے احتجاجی مظاہروں میں تبدیل ہو گئے۔ یہ مظاہرے سنہ 2000 میں سابق حکمران سلوبودان میلوسووچ کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ملک کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہروں میں شمار کیے گئے۔
طلبہ رہنماؤں کی تاریخی کامیابی سے صدر الیگزینڈر ووچچ کے 14 سالہ دور اقتدار کا خاتمہ ہو گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ابتدا ہی سے یونیورسٹی کے طلبہ نے ان مظاہروں کی قیادت کی۔ انہوں نے تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیاں معطل کیں اور ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں منعقد کیں۔
اس تحریک کی خاص بات یہ بھی تھی کہ اس کو جان بوجھ کر بغیر کسی ایک رہنما کے چلایا گیا تاکہ فیصلے اجتماعی طور پر ہوں۔
واقعے کی دوسری برسی سے قریباً ایک ماہ قبل الیگزینڈر ووچچ نے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیا۔ اس کے بعد طلبہ نے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ایک فہرست تیار کی جس میں زیادہ تر تعلیمی اور پیشہ ورانہ شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔
اس فہرست میں شامل امیدواروں کا کسی بڑی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں ہے۔
طلبہ کی تحریک انتخابات میں کیسے کامیاب ہوئی؟
طلبہ کی تحریک نے اپنی انتخابی مہم میں الیگزینڈر ووچچ کی مخالفت کو مرکزی نکتہ بنایا اور ایسے معاملات سے گریز کیا جن پر اس کے حامیوں میں اختلاف پیدا ہو سکے۔
نئے سیاسی منظرنامے کے بارے میں سیاسی تجزیہ کار دوشان ووچچیوچ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا بتایا کہ انتخابات جیتنے کے لیے طلبہ کو یورپ کے حامی اور یورپی یونین کے مخالف دونوں طرح کے ووٹرز کی حمایت درکار تھی۔
ان کی انتخابی مہم میں بدعنوانی کے خاتمے، قانون کی بالادستی اور صحافتی آزادی پر حملوں کے خلاف اقدامات پر توجہ دی گئی۔
احتجاج کے دوران اجتماعی فیصلے کرنے کا جو طریقہ اپنایا گیا تھا، اسے انتخابی مہم میں بھی جاری رکھا گیا۔
طلبہ کی حکومت کی قیادت کون کرے گا؟
طلبہ کی تحریک اس سے قبل بھی کئی بار ملک کے سیاسی نظام میں دہائیوں سے قائم شخصی حکمرانی کے خاتمے کا مطالبہ کر چکی تھی۔
ریلوے سٹیشن کی چھت گرنے سے ہلاکتوں کے بعد طلبہ نے نومبر 2024 میں احتجاجی تحریک شروع کی تھی (فوٹو: اے ایف پی)
ووچچیوچ کا مزید کہنا تھا کہ تحریک نے ابھی تک یہ اعلان نہیں کیا کہ وزیراعظم کون ہو گا، اس لیے حکومت کی قیادت کے حوالے سے صورت حال واضح نہیں ہے۔
تحریک کے اہم ناموں میں ماہرِ امراضِ قلب الیجا سرڈانووچ شامل ہیں جبکہ کیمسٹری کے پروفیسر رادومیر سائیچچ بھی انتخابی مہم میں نمایاں رہے۔
طلبہ کی ممکنہ پالیسیاں کیا ہوں گی؟
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ طلبہ کے امیدواروں کو اپنے اصلاحاتی منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان منصوبوں میں بدعنوانی کا خاتمہ سب سے اہم ہے۔
خارجہ پالیسی کے حوالے سے تحریک نے ابھی تک زیادہ تفصیلات نہیں دی ہیں۔ تاہم اس سے پہلے بتایا گیا تھا کہ یوکرین پر روس کے حملے کے باوجود سربیا روس پر پابندیاں عائد نہ کرنے کی اپنی پالیسی برقرار رکھے گا۔
سربیا روس کی سستی گیس پر کافی انحصار کرتا ہے جبکہ اسے یورپی یونین سے بڑے پیمانے پر قرضے بھی ملتے ہیں۔ اس لیے نئی حکومت کو بھی روس اور یورپ کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہو گا۔
ان کے مطابق ’طلبہ کی مجوزہ اصلاحات سربیا کو یورپی یونین کے مزید قریب لے جا سکتی ہیں۔‘