Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چرچ پر فائرنگ کے بعد اردن کے جنوبی شام پر فضائی حملے، آٹھ شہری ہلاک ہوئے: دمشق

اردن کے صوبے کرک میں جمعے کو چرچ پر فائرنگ سے سات افراد ہلاک اور 34 زخمی ہوئے تھے (فوٹو: عرب نیوز)
اردن کے لڑاکا طیاروں نے پیر اور منگل کی درمیانی شب جنوبی شام کے علاقے میں مختلف مقامات پر فضائی حملے کیے اور جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا ان کو ’دہشت گردوں کے ٹھکانے‘ قرار دیا۔
یہ حملے اردن کے صوبے کرک میں تین روز ایک چرچ پر ہونے والے مہلک حملے کے جواب میں کیے گئے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق حملوں کے بعد شام کے حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ان میں آٹھ شہری ہلاک ہوئے جن میں خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیں جبکہ حملوں سے قبل دمشق سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کیا گیا۔
درعا کے محکمۂ صحت کے سربراہ خالد العمیان نے شام کی سرکاری نیوز ایجنسی سانا کو بتایا کہ شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کو بتایا کہ کئی دیہی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں شہری جان سے گئے۔
دوسری جانب اردن کی مسلح افواج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعے کو حمود چرچ میں ہونے والے حملے کے ذمہ داران کا تعلق شام میں موجود ان گروہوں سے تھا اور ان کو ہی فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
اردنی فوج کی جانب سے انہیں ’دہشت گرد گروہ‘ قرار دیا گیا تاہم ان کے نام نہیں بتائے گئے۔
حملوں کے بعد جاری ہونے والے بیان میں شامی حکومت کا یہ بھی کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور زمینی صورت حال پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ اس معاملے پر اردن کے ساتھ رابطے میں بھی ہیں۔
شامی حکومت نے سرحدی علاقوں میں مشترکہ فوجی اور سکیورٹی تعاون پر بھی زور دیا تاکہ شام کی خودمختاری کے ساتھ دونوں ممالک کی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
حملوں کے حوالے سے اردن کی فوج کا کہنا ہے کہ ان میں کئی عمارتیں اور گاڑیاں تباہ ہوئیں جبکہ نشانہ بنائے گئے گروہوں کے ارکان ہلاک یا زخمی ہوئے تاہم ہلاکتوں کی تعداد اور ان مقامات کے بارے میں زیادہ تفصیل نہیں بتائی جن کو نشانہ بنایا گیا۔
اردنی فوج کی جانب سے بیان جاری ہونے سے کچھ دیر قبل شام کے سوشل میڈیا صارفین اور مختلف گروپس جن میں فیس بک پیج ’درعا 24‘ بھی شامل ہے، پر ایسی اطلاعات گردش کرنے لگی تھیں کہ جنوبی شام کے صوبے درعا کے مغربی علاقے میں تین مقامات پر فضائی حملے کیے گئے ہیں اور خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وہ اردن کی جانب سے کیے گئے۔

شیئر: