Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مصری پارلیمنٹ نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے صدر السیسی کو اقدامات کا اختیار دے دیا

قانون سازوں کی اکثریت نے صدر کی درخواست کی حمایت کی ہے۔( فائل فوٹو: اے پی)
مصر کی پارلیمنٹ نے پیر کو صدر عبدالفتاح السیسی کو سعودی عرب کی سپورٹ اور دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنے کے اختیار کی منظوری دے دی۔
 صدر عبدالفتاح السیسی نے مصری پارلیمنٹ کا ایک ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی تاکہ اگر سعودی عرب کی جانب سے درخواست کی جائے تو انہیں دفاعی اقدامات کا اختیار مل سکے۔
 ان کا کہنا تھا ’سعودی عرب نے درخواست کی تو مصر، مملکت کے تحفظ  اور دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حملے عرب اور مصری قومی سلامتی کو بھی سبوتاژ کرتے ہیں۔‘
رکن پارلیمنٹ عماد الدین حسین نے عرب نیوز کو بتایا کہ قانون سازوں کی اکثریت نے صدر کی درخواست کی حمایت کی ہے۔
پارلیمنٹ کے بیان میں کہا گیا’ارکان کی دو تہائی اکثریت نے صدر مملکت کو سعودی عرب کی سپورٹ میں ضروری اقدامات کرنے کے اختیار کی منظوری دی ہے۔‘
’اس کا مقصد سعودی عرب کی سرزمین، اس کی خود مختاری اور مقدس مقامات کا کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف دفاع کرنا ہے۔‘
بیان میں کہا گیا ’یہ فیصلہ 18 اکتوبر کو نیشنل ڈیفنس کونسل کی جانب سے منظور کی جانے والی قرارداد کے مطابق کیا گیا ہے۔‘
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب رواں ماہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب میں شہری مقامات اور ایئرپورٹس پر مہلک حملوں میں شدت آئی ہے۔
مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے بتایا کہ دفاعی مقاصد کے لیے سعودی عرب کی سپورٹ میں قاہرہ کا موقف واضح ہے۔ پارلیمانی ووٹنگ مصر کے آئین کے عین مطابق ہوئی ہے جس میں دیگر ملکوں میں مصری فوجی دستوں کی تعیناتی کے طریقہ کار کے بارے میں بتایا گیا ہے۔
اس سے قبل مصری ایوان صدر نے بیان میں کہا تھا کہ مصر، سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے دفاع کے لیے تمام ضروری اور ممکنہ سپورٹ فراہم کرے گا۔
مصری ایوان صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ سعودی عرب کی سپورٹ کے ساتھ کشیدگی میں کمی اور بحران کے حل کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی پارٹیز کے ساتھ مل کر سیاسی اور سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور انہیں تیز کرے گا۔

 

شیئر: