اسرائیل میں انتخابات: نیتن یاہو اور آئزنکوٹ میں سخت مقابلہ، اب آگے کیا ہوگا؟
اسرائیل میں منگل کو کئی دہائیوں کے دوران سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ ریکارڈ کیا گیا، تاہم ابتدائی نتائج کے لیے کیے گئے ایگزٹ پولز کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے حریف کے سیاسی اتحاد کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیل کے تین بڑے ٹیلی ویژن نیٹ ورکس کے ایگزٹ پولز کے مطابق 120 رکنی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں دونوں سیاسی اتحادوں کو قریباً 51، 51 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔
یہ سیٹیں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں سے خاصی کم ہیں۔ ابتدائی ایگزٹ پولز میں سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کو معمولی برتری حاصل دکھائی گئی تھی۔
اسرائیلی عرب جماعتوں نے بھی نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ایگزٹ پولز کے مطابق ان جماعتوں کو مجموعی طور پر 17 یا 18 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔
اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق موجودہ صورت حال میں حکومت سازی کے لیے چار ممکنہ منظرنامے سامنے آسکتے ہیں۔
1) مخلوط حکومت
سیاسی جماعتیں 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے کے لیے فوری طور پر مذاکرات شروع کریں گی، تاہم حکومت سازی کا آئندہ راستہ ابھی واضح نہیں ہے۔
صدر اسحاق ہرزوگ اس امیدوار کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے جس کے پاس حکومت تشکیل دینے کے سب سے زیادہ امکانات ہوں گے۔ ضروری نہیں کہ یہ وہی جماعت ہو جس نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہوں۔
اسرائیلی عرب جماعتوں، بالخصوص رعام، نے آئزنکوٹ کے اتحاد کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اپوزیشن اتحاد نے انتخابی مہم کے دوران ان جماعتوں کی حمایت کو سیاسی بوجھ تصور کرتے ہوئے انہیں اپنے سے دُور رکھا۔
دوسری جانب نیتن یاہو کے اتحاد کے لیے مزید نشستیں حاصل کرنے کا کوئی واضح راستہ دکھائی نہیں دیتا کیونکہ دائیں بازو کی بعض چھوٹی جماعتیں پارلیمان میں داخلے کے لیے درکار کم سے کم ووٹوں کی حد عبور کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
مخلوط حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات طویل اور دُشوار ہو سکتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنے محدود جماعتی مفادات پر اصرار کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں غیر مستحکم حکومتیں وجود میں آسکتی ہیں۔
نومبر 2022 کے گذشتہ انتخابات کے بعد نیتن یاہو کو اپنی حکومت تشکیل دینے میں 58 دن لگے تھے۔
2) اقلیتی حکومت
اگر کوئی بھی سیاسی اتحاد 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوا تو کوئی امیدوار پارلیمان میں واضح اکثریت کے بغیر حکومت بنانے کی کوشش کر سکتا ہے۔
ایسی صورت میں اسے دیگر ارکان پارلیمان کی جانب سے ضرورت کے مطابق اور مخصوص معاملات پر حمایت حاصل کرنا ہوگی۔
اس منظرنامے میں اسرائیلی عرب جماعتوں کے ارکان اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسرائیل کی آبادی کا قریباً 20 فیصد حصہ عرب شہریوں پر مشتمل ہے، جن میں سے بیشتر اپنی شناخت فلسطینیوں کے طور پر کرتے ہیں۔
منصور عباس کی قیادت میں رعام ماضی میں حکومت سازی میں فیصلہ کُن کردار ادا کر چکی ہے۔ یہ پہلی عرب جماعت تھی جس نے 2022-2021 میں نفتالی بینیٹ اور یائر لاپید کی قیادت میں قائم ہونے والی مختصر مدت کی مخلوط حکومت میں شمولیت اختیار کی تھی۔
ایک اور عرب سیاسی اتحاد جوائنٹ لسٹ نے کہا ہے کہ اس کے کسی مخلوط حکومت میں براہِ راست شامل ہونے کا امکان کم ہے، تاہم اس نے نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے والے کسی بھی فریق کو پارلیمان میں ’تحفظ فراہم کرنے‘ کے لیے حمایت دینے کی پیش کش کی ہے۔
سیاسی مبصر تال ایلووٹز کے مطابق عرب شہریوں کی غیر معمولی طور پر زیادہ تعداد میں ’ووٹ ڈالنے کی شرح‘ شراکت داری کی مضبوط خواہش کی نشان دہی کرتی ہے۔
آئزنکوٹ نے عوامی سطح پر اس امکان پر بات تک نہیں کی جبکہ بنیامین نیتن یاہو نے انتخابی مہم کے دوران یہودی ووٹروں کو مسلسل خبردار کیا کہ اپوزیشن کو ووٹ دینے کے نتیجے میں عرب شہری حکومت میں شامل ہو سکتے ہیں۔
تال ایلووٹز نے کہا کہ ’مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس وقت آئزنکوٹ کی سربراہی میں اقلیتی حکومت تشکیل پانے کا امکان موجود دکھائی دیتا ہے، تاہم حتمی نتائج کے مطابق صورت حال اب بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔‘
3) قومی اتحاد کی حکومت
اسرائیل میں شدید سیاسی تقسیم کو دیکھتے ہوئے قومی اتحاد کی حکومت کا قیام بظاہر بعید از قیاس دکھائی دیتا ہے، تاہم نظریاتی طور پر اس کے نتیجے میں نسبتاً کم انتہا پسند حکومت تشکیل پا سکتی ہے۔
اسرائیلی سیاسی مبصرین اکثر ایسی قومی اتحاد کی حکومت کے امکان پر بات کرتے رہے ہیں جس میں بنیامین نیتن یاہو اپنے متنازع انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں اور انتہائی مذہبی یہودی جماعتوں کو چھوڑ کر آئزنکوٹ کے ساتھ مل جائیں۔ آئزنکوٹ اور نیتن یاہو کے متعدد سکیورٹی امور پر خیالات ایک جیسے ہیں۔
اس طرح کی وسیع مخلوط حکومت میں عرب جماعتیں شامل نہیں ہوں گی۔
16 اکتوبر کو شائع ہونے والے ایک سروے کے مطابق 55 فیصد اسرائیلیوں نے کہا کہ اگر انتخابات میں کسی فریق کو واضح اکثریت نہ ملی تو وہ نئے انتخابات کے بجائے قومی اتحاد کی حکومت کو ترجیح دیں گے۔
اس منظرنامے کی ایک حالیہ مثال بھی موجود ہے۔ 2020 میں ایک سال سے بھی کم عرصے کے دوران تین انتخابات ہونے کے بعد نیتن یاہو اور بینی گینٹز نے اقتدار میں شراکت داری کا معاہدہ کیا تھا۔
گینٹز بھی آئزنکوٹ کی طرح ریٹائرڈ جنرل ہیں اور سیاسی طور پر اعتدال پسند ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
معاہدے کے تحت وزارتِ عظمیٰ باری باری دونوں رہنماؤں کے پاس آنی تھی، تاہم ایک سال بعد ہی یہ شراکت داری ختم ہو گئی، جس کے نتیجے میں ایک اور الیکشن کرانا پڑا۔
موجودہ حالات میں قومی اتحاد کی حکومت کو دونوں جانب سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، بالخصوص اپوزیشن اتحاد کی جانب سے، جس نے اپنی انتخابی مہم نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے گرد اُستوار کی ہے اور انہیں قیادت کے لیے نااہل قرار دیا ہے۔
4) سیاسی تعطل اور نئے انتخابات
اگر کوئی بھی امیدوار حکومت تشکیل دینے میں کامیاب نہ ہوا تو اسرائیل کو دوبارہ انتخابات کرانا ہوں گے۔
اس سے قبل اپریل 2019 سے مارچ 2021 کے درمیان اسرائیل میں چار مرتبہ انتخابات ہوئے تھے، کیونکہ سیاست دان ایک مستحکم مخلوط حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہے تھے۔
اصولی طور پر صدر کی جانب سے نامزد امیدوار کو مخلوط حکومت تشکیل دینے کے لیے 28 دن ملیں گے، جس میں مزید 14 دن کی توسیع بھی ممکن ہے۔
تاہم طریقۂ کار کے تحت دیگر راستے بھی موجود ہیں جن کے ذریعے فوری طور پر نئے انتخابات کے اعلان کو روکا جا سکتا ہے۔
